BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.91 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.78 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.03 Decreased By ▼ -0.53 (-2.71%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.38 Decreased By ▼ -1.78 (-1.91%)
OGDC 314.19 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.11 Decreased By ▼ -4.80 (-2.12%)
PRL 90.90 Decreased By ▼ -2.12 (-2.28%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
رائے

غیرمنصفانہ موازنہ آٹو پالیسی کو متاثر کر رہا ہے

  • برقی گاڑیوں کی مختلف ٹیکنالوجیز کو مراعات میں یکساں رکھنا پالیسی کی بنیادی خامی ہے، حالانکہ ان کی برقی صلاحیت اور پٹرولیم بچت میں نمایاں فرق ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی مجوزہ آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 مجموعی طور پر درست سمت کا تعین کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بجلی پر منتقل کرنا، ملک کے پٹرولیم درآمدی بل میں کمی، زرمبادلہ کی بچت اور برآمدات پر مبنی آٹو موبائل صنعت کی تشکیل قابلِ قدر اہداف ہیں۔ برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافے، مسابقت، ٹیکنالوجی کے فروغ اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی جانب مجوزہ منتقلی پاکستان کے آٹو سیکٹر میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔

لیکن مختلف برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی میں مزید وضاحت ضروری ہے۔ بنیادی خامی بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کو مراعات کے لیے یکساں تصور کرنا ہے۔ موجودہ تجویز میں تینوں اقسام کے لیے یکساں ایک فیصد سیلز ٹیکس، فیڈ، کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ تجویز کیا گیا ہے، حالانکہ ان کے نظامِ حرکت، بجلی سے چلنے کی صلاحیت اور پٹرولیم کے استعمال میں ممکنہ کمی کے حوالے سے نمایاں فرق موجود ہے۔

تاہم حل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ زیادہ مراعات صرف بی ای ویز تک محدود کردی جائیں۔ پاکستان کی پالیسی میں بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو برقی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ پی ایچ ای ویز کو عبوری زمرے کے طور پر الگ رکھا جائے۔

بی ای وی مکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی ہے۔ درست طور پر متعین آر ای ای وی بھی صرف برقی ٹریکشن موٹر سے چلتی ہے، جبکہ اس کا اندرونی احتراقی انجن صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے جنریٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور پہیوں کو براہِ راست نہیں چلاتا۔ یوں آر ای ای ویز برقی گاڑیوں کے فوائد فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان میں بی ای ویز کے ابتدائی فروغ کی دو بڑی رکاوٹوں، محدود چارجنگ انفرااسٹرکچر اور ڈرائیونگ رینج سے متعلق خدشات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

پی ایچ ای ویز اس سے مختلف ہیں، کیونکہ ان کا اندرونی احتراقی انجن براہِ راست گاڑی چلانے میں بھی حصہ لے سکتا ہے۔ اس لیے انہیں خودکار طور پر بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کے مساوی مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔ اس کے بجائے پی ایچ ای وی مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے منسلک کیا جائے، جس میں صرف بجلی پر چلنے کی حد، بیٹری کی گنجائش، ایندھن کی کھپت، اخراج اور پٹرولیم کے استعمال میں ثابت شدہ کمی شامل ہو۔

اس سے مراعات کا ایک زیادہ منطقی نظام تشکیل پائے گا، جس کے نتیجے میں ایسی ٹیکنالوجیز کو قبل از وقت نظرانداز نہیں کیا جائے گا جو پاکستان میں برقی نقل و حمل کی جانب منتقلی کو تیز کرسکتی ہیں۔ مقصد محض گاڑی میں بیٹری یا پلگ کی موجودگی کے بجائے حقیقی برقی منتقلی اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی سطح کو مراعات کی بنیاد بنانا ہونا چاہیے۔

چارجنگ انفرااسٹرکچر کے چیلنج پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز کی درآمدی ڈیوٹی کم کرکے ایک فیصد کرنے اور بیٹری تبدیل کرنے کے انفرااسٹرکچر کے لیے مالی معاونت پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں لیکن انہیں ایک جامع قومی چارجنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے، جس میں موٹرویز، شہروں، کمرشل فلیٹس، رہائشی علاقوں اور تیز رفتار چارجنگ کے راستوں کو شامل کیا جائے۔ مناسب چارجنگ انفرااسٹرکچر کے بغیر خالص برقی گاڑیوں کا صارفین میں فروغ محدود رہے گا۔

پالیسی میں فنانسنگ کی تجویز بھی خوش آئند ہے۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے سے گاڑیوں کی قیمت قابلِ برداشت بنانے اور صارفین میں ان کے استعمال کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسی مالی معاونت کو حقیقی این ای وی ٹیکنالوجیز تک محدود رکھا جانا چاہیے اور اسے بھی برقی منتقلی کی سطح اور ماحولیاتی کارکردگی کے مطابق مختلف کیا جاسکتا ہے۔

وسیع تر پالیسی فریم ورک میں بھی خاصی گنجائش موجود ہے۔ برآمدات کی لازمی شرائط پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کو تقریباً مکمل طور پر مقامی مارکیٹ پر انحصار سے نکالنے میں مدد دیں گی۔ کاروں، جیپوں اور ایس یو ویز کے لیے 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداواری مالیت کے 12 فیصد کے برابر برآمدات کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ بعد کے سالوں میں بھی اسی نوعیت کی شرائط برقرار رہیں گی۔ او ای ایمز اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے پالیسی میں 2026-31 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 4.59 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے۔

برآمدات سے منسلک مراعات کا مجوزہ نظام بھی حوصلہ افزا ہے۔ اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو خالص ایف او بی برآمدی مالیت کا 10 فیصد دیا جاسکے گا، جبکہ سالانہ بنیاد پر برآمدی مالیت میں کم از کم 5 فیصد اضافے کی صورت میں مزید 5 فیصد معاونت فراہم کی جاسکتی ہے۔ ایسی معاونت کو حقیقی برآمدی آمدنی اور تھرڈ پارٹی آڈٹ سے مشروط کرنا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔

مگر برآمدی مراعات میں بتدریج زیادہ اہمیت اضافی برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافے اور عالمی سپلائی چینز میں حقیقی انضمام کو دینی چاہیے، نہ کہ صرف برآمد کی جانے والی مصنوعات کی مقدار کو۔ اگر پاکستان کو آٹو صنعت کو محض اسمبلی پر مبنی شعبے سے مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے تو یہ امر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اسی لیے کم از کم مقامی ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) کا مجوزہ فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے۔ روایتی گاڑیوں کے لیے 2030-31 تک 40 فیصد ایم ڈی وی اے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ این ای ویز کے لیے یہ شرح ابتدائی 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ این ای وی صنعت کو ابتدائی مرحلے میں کچھ زیادہ لچک دینا مناسب ہوسکتا ہے، تاہم مقامی پیداوار کا دائرہ بتدریج صرف حتمی اسمبلی سے آگے بڑھاتے ہوئے بیٹریوں، بیٹری مینجمنٹ سسٹمز، برقی موٹرز، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ سسٹمز، تھرمل مینجمنٹ سسٹمز اور دیگر اہم پرزہ جات تک وسیع کرنا چاہیے۔

مجوزہ ٹیرف میں اصلاحات بھی اہم بنیادی تبدیلی ہے۔ پالیسی میں ٹیرف میں نمایاں کمی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے بتدریج خاتمے اور ایس آر او کی بنیاد پر دی جانے والی رعایتوں کو زیادہ شفاف اور قواعد پر مبنی نظام سے تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر ان اقدامات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کیا جائے تو مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے اور مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت، قیمتوں، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

لیکن مالیاتی اثرات این ای وی مراعات کو زیادہ بہتر انداز میں مختص کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پالیسی میں ڈی ایل ٹی ایل اخراجات اور این ای وی سے متعلق ٹیکس رعایتوں کے مقابلے میں تقریباً 349.9 ارب روپے کی اضافی ایف ای ڈی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 21.1 ارب روپے کے مالیاتی سرپلس کی توقع ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ سالانہ مالیاتی پوزیشن 2026-27 میں 46.8 ارب روپے کے سرپلس سے 2030-31 تک 44.1 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

اس صورتحال میں یہ مزید ضروری ہوجاتا ہے کہ محدود مالی وسائل ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے مختص کیے جائیں جو برقی منتقلی، ایندھن کی بچت اور اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرتی ہوں۔

لہٰذا پاکستان کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے غیر جانب دار لیکن کارکردگی کی بنیاد پر این ای وی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو برقی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز کے طور پر بھرپور معاونت ملنی چاہیے، جبکہ پی ایچ ای ویز کو مراعات ان کی قابلِ پیمائش برقی ڈرائیونگ صلاحیت، ایندھن کے استعمال میں کمی اور اخراج کی کارکردگی کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں۔ روایتی نان پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو الگ زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔

پالیسی میں آر ای ای وی کی واضح تکنیکی تعریف بھی شامل ہونی چاہیے، تاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر متعلقہ ادارے یکساں بنیاد پر ان گاڑیوں کا تعین کرسکیں۔ درجہ بندی محض اندرونی روایتی انجن کی موجودگی کے بجائے گاڑی کے حقیقی نظامِ حرکت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

مجوزہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل، گاڑیوں کے بہتر معیارات، یو این ای سی ای معیارات کا نفاذ اور ٹیسٹنگ انفرااسٹرکچر کا قیام بھی درست سمت میں اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات پاکستانی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو عالمی سپلائی چینز میں شامل ہونے اور ملک کو برآمدات پر مبنی آٹو مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے وسیع تر مقصد کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔

لہٰذا پاکستان کی آٹو پالیسی کا مقصد قبل از وقت کسی ایک ٹیکنالوجی کا انتخاب نہیں ہونا چاہیے بلکہ درست سمت کا تعین اور برقی منتقلی کی جانب قابلِ پیمائش پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔

بی ای ویز صفر ٹیل پائپ اخراج کی جانب حتمی راستہ فراہم کرتی ہیں۔ حقیقی آر ای ای ویز موجودہ چارجنگ انفرااسٹرکچر اور ڈرائیونگ رینج کی رکاوٹوں سے نمٹتے ہوئے برقی نقل و حرکت فراہم کرسکتی ہیں۔ پی ایچ ای ویز عبوری ٹیکنالوجی کا کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ان کی مراعات برقی منتقلی اور پٹرولیم کے استعمال میں حقیقی کمی میں ان کے کردار کے مطابق ہونی چاہئیں۔

اگر حکومت اس مختلف نوعیت کے این ای وی فریم ورک کو برآمدی شرائط، مقامی پیداوار میں اضافے، شفاف ٹیرف، چارجنگ انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کارکردگی پر مبنی مراعات کے ساتھ مربوط کردیتی ہے تو آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 محض صنعتی پالیسی نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کو محفوظ مقامی اسمبلی مارکیٹ سے مسابقتی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز آٹو موبائل صنعت میں منتقل کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Comments

200 حروف