BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
کھیل

ناگویا میں کھلاڑیوں کا خیرمقدم، جاپان میں ایشیائی کھیلوں کا جوش تاحال ماند

  • اولمپکس کے بعد ایشیائی کھیلوں میں بھرپور جوش و خروش کی امید، مگر مقامی سطح پر کم آگاہی اور ٹکٹوں کی سست فروخت سے کھیلوں کی رونق متاثر ہونے کا خدشہ
شائع اپ ڈیٹ

ٹوکیو اولمپکس کے خالی اسٹیڈیمز میں منعقد ہونے کے پانچ سال بعد ایشیائی کھیل جاپان کو ایک بار پھر شائقین کے لیے اپنے دروازے کھولنے اور بڑے کثیر کھیلوں کے ایونٹ کو بھرپور ماحول میں منعقد کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔

تاہم، ہفتے کو ناگویا میں افتتاحی تقریب سے ایک روز قبل بعض مقامی افراد میں کھیلوں کے حوالے سے خاصا کم جوش و خروش دکھائی دیا۔

یونیورسٹی کی طالبہ ہیناتا کوڈا نے جمعہ کو ایک کیفے میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے ان کھیلوں کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہیں۔‘‘

’’میں نے سنا ہے کہ یہ کھیل جاری ہیں، لیکن کسی کو واقعی ان کے بارے میں بات کرتے نہیں سنا۔‘‘

ایشیائی کھیل فٹبال اور باسکٹ بال کے ابتدائی مقابلوں کے ساتھ پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں، ہزاروں کھلاڑی ناگویا پہنچ چکے ہیں اور ایونٹ کی تشہیر کے لیے لگائے گئے سائن بورڈز کی بھی کوئی کمی نہیں۔

شہر کے مرکزی علاقوں میں تشہیری مہم نمایاں ہے، جبکہ مرکزی ریلوے اسٹیشن پر رضاکار اور حکام بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

تاہم، شہر کے دیگر علاقوں میں اس ایونٹ کی موجودگی کا احساس بمشکل ہی ہوتا ہے۔

ٹوکیو میں، جہاں اتوار سے عالمی اور اولمپک چیمپئن تیراک مقابلوں میں حصہ لینے والے ہیں، ایشیائی کھیلوں کی تشہیر کا کوئی نمایاں نشان تلاش کرنا بھی مشکل تھا۔ ان کھیلوں میں 45 وفود کے 11 ہزار سے زائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

ٹوکیو کے مصروف تجارتی علاقے شیبویا میں ایک سیاحتی معلوماتی مرکز کے عملے کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایشیائی کھیل پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں اور دارالحکومت میں بھی مقابلے جاری ہیں۔

مرکز کے ایک اہلکار نے کہا، ’’میں نے ایشیائی کھیلوں کی کوئی خاص تشہیر نہیں دیکھی۔ شاید اگر جاپانی کھلاڑی تمغے جیتنا شروع کریں تو لوگ زیادہ توجہ دیں گے۔‘‘

جاپان کو دوبارہ ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کے لیے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑا ہے۔ ملک نے آخری بار 1994 میں ہیروشیما میں ان کھیلوں کی میزبانی کی تھی۔

منتظمین کو امید ہے کہ آئچی-ناگویا ایشیائی کھیل ملک میں اجتماعی کھیلوں کے اس جوش و خروش کو دوبارہ زندہ کریں گے جس سے جاپان اولمپکس کے دوران محروم رہا، جب کووڈ-19 کی پابندیوں کے باعث شائقین کو اسٹیڈیمز میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

کھلاڑیوں کو امید ہے کہ اگرچہ متعدد مقابلوں کے ٹکٹوں کی فروخت سست رہی ہے، اس کے باوجود شائقین بڑی تعداد میں مقابلے دیکھنے پہنچیں گے۔

جاپان کے ڈپٹی شیف ڈی مشن اور سابق اولمپک چیمپئن جمناسٹ ہیساشی میزوتوری نے کہا، ’’ہمارے بہت سے کھلاڑیوں کو ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے کا تجربہ ہے۔

’’اس وقت ہم جاپانی عوام کو اپنے ہی ملک میں اس ماحول کو براہِ راست اور بالمشافہ محسوس کرانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

’’اسی لیے میرا ماننا ہے کہ آئچی اور ناگویا میں ان کھیلوں کی میزبانی کا ایک انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ جاپان کے عوام کو کھلاڑیوں کو براہِ راست مقابلہ کرتے دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘‘

مئے پریفیکچر سے ناگویا آنے والی سیاح یونا ہایاشی کا ایشیائی کھیلوں کا کوئی مقابلہ اسٹیڈیم میں براہِ راست دیکھنے کا ارادہ نہیں تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ٹیلی وژن پر کچھ مقابلے ضرور دیکھیں گی۔

انہوں نے کہا، ’’ٹوکیو اولمپکس کووڈ-19 کے دوران شائقین کے بغیر منعقد ہوئے تھے، اس لیے میرا خیال ہے کہ کھلاڑیوں نے خود کو کچھ تنہا محسوس کیا ہوگا۔

’’اس بار شائقین کو آنے کی اجازت ہے، اس لیے مجھے امید ہے کہ سب لوگ مل کر اس ایونٹ کو ایک شاندار موقع بنا سکیں گے۔‘‘

Comments

200 حروف