BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.55%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.97 Decreased By ▼ -0.15 (-1.14%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.35 Decreased By ▼ -5.10 (-2.65%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.02 Decreased By ▼ -0.54 (-2.76%)
HBL 305.56 Decreased By ▼ -0.54 (-0.18%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.69 Decreased By ▼ -4.22 (-1.86%)
PRL 91.18 Decreased By ▼ -1.84 (-1.98%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.64 Decreased By ▼ -0.16 (-2.05%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
Startup Recorder

پاکستان خواتین کے کاروبار شروع کرانے میں اچھا، انہیں برقرار رکھنے میں ناکام

  • مصنفہ و کاروباری شخصیت ماہِ زہرا حسین کہتی ہیں کہ گفتگو کا رخ کاروبار شروع کرنے والی خواتین کی تعداد سے کامیاب کاروبار تک ہونا چاہیے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان خواتین کو کاروبار شروع کرنے میں سہولت فراہم کرنے میں بہت آگے نکل گیا ہے، مگر انہیں برقرار رکھنے میں کمزور ہے۔ خواتین کے کاروبار شروع کرنے کو ایوارڈز کے ذریعے سراہا جاتا ہے، قرضہ اسکیموں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کتنی خواتین کو قرضے جاری کیے گئے جبکہ کاروبار کے آغاز کی تقریبات میں فوٹوگرافرز اور پریس ریلیزز بھی موجود ہوتی ہیں۔ خواتین کو کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے والے پینلز کی بھی کوئی کمی نہیں۔ تاہم اس کے بعد کیا ہوتا ہے، اس کا حقیقی جائزہ بہت کم لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ دیکھا ہی نہیں جاتا کہ کاروبار تیسرے سال تک قائم رہتا ہے یا نہیں، کبھی منافع بخش بنتا ہے یا نہیں، کاروبار شروع کرنے والی خاتون پانچ سال بعد بھی اسے چلا رہی ہوتی ہے یا نہیں یا پھر توجہ کسی اور کے کاروبار کے آغاز کی طرف منتقل ہوتے ہی وہ کاروبار خاموشی سے ختم ہوجاتا ہے۔

یہی خلا ٹیکنالوجی کی کاروباری شخصیت اور مصنفہ ماہِ زہرا حسین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں اجاگر کیا۔ ان کی نئی کتاب Women Rising: A Practical Guide to Building a Business You Love میں بھی اسی موضوع پر توجہ دی گئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق گفتگو میں کیا کمی ہے تو انہوں نے خواتین میں عزم کی کمی یا حوصلہ افزائی کی قلت کی نشاندہی نہیں کی بلکہ اس کے بجائے انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہم کس چیز کو اہمیت دے کر ناپتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں کاروبار شروع کرنے کو منزل سمجھنے کا رجحان ختم کرنا ہوگا۔ میں چاہوں گی کہ گفتگو کا رخ اس سوال سے کہ ”کتنی خواتین نے کاروبار شروع کیا؟“ تبدیل ہوکر اس سوال کی طرف آئے کہ ”کتنی خواتین ایسے کاروبار قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں جو واقعی ان کے لیے مؤثر ثابت ہوئے؟‘‘

یہ ایک معمولی سا زاویہ تبدیل کرنے کی بات ہے لیکن اس کے اثرات بہت وسیع ہیں، کیونکہ اس شعبے میں اداروں کی تقریباً تمام نمایاں کوششیں، ایوارڈ تقریبات سے لے کر حکومتی قرضوں کے اہداف تک، فی الحال پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے بنائی گئی ہیں، دوسرے کا نہیں۔ کشف ویمن انٹرپرینیورشپ ایوارڈ کی آٹھ بنیادی کیٹیگریز ہیں، جن میں ڈیجیٹل انوویٹر ایوارڈ سے لے کر سسٹین ایبلٹی چیمپئن ایوارڈ تک شامل ہیں۔ مؤخر الذکر ایوارڈ دراصل کاروبار کے پانچ سال بعد بھی قائم رہنے کے بجائے موسمیاتی لچک اور ماحول دوست طریقوں کی حوصلہ افزائی پر دیا جاتا ہے۔ ان آٹھ میں سے کسی ایک کیٹیگری میں بھی یہ نہیں پوچھا جاتا کہ کاروباری خاتون کا کاروبار قائم رہا، منافع کمایا یا اب بھی چل رہا ہے۔

حکومت کے اپنے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 71 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ ہوگئی، جبکہ فروری تک خواتین کا حصہ 11 فیصد تھا، حالانکہ مقررہ ہدف 25 فیصد ہے۔ اگست تک وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پارلیمان میں جمع کرائے گئے جواب میں اس تعداد کو مزید اپ ڈیٹ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اسکیم کے تحت ایک لاکھ 4 ہزار سے زیادہ نوجوان خواتین کو 29 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاچکی ہے۔ یہ حقیقی اعداد و شمار ہیں اور یقیناً اہمیت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک صرف ایک ہی بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کتنی خواتین کو مالی معاونت ملی اور کتنی رقم فراہم کی گئی، یہ نہیں کہ اس کے بعد ان کے کاروبار کا کیا بنا۔

ماہ زہرا حسین کی تنقید صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق گفتگو میں کون مکمل طور پر نظر انداز ہوجاتا ہے تو انہوں نے کسی مخصوص ڈیٹا کی کمی کی نشاندہی کرنے کے بجائے اس بنیادی تصور کو اجاگر کیا کہ آخر کاروباری شخصیت کسے سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان بانیوں کے بارے میں بہت بات کرتے ہیں جو خطرہ مول لے سکتے ہیں، ملازمت چھوڑ سکتے ہیں، کسی کیفے سے کام کرسکتے ہیں، اپنی جمع پونجی لگا سکتے ہیں یا چھ ماہ تک کاروبار کے امکانات سمجھنے میں صرف کرسکتے ہیں لیکن ایسی خواتین بھی ہیں جو پورے خاندان کا خرچ اٹھا رہی ہیں، بچوں یا عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ ان کا کاروباری سفر شاید ان چیزوں سے شروع ہوتا ہے جو ان کے پاس دستیاب ہیں، نہ کہ اس کاروبار سے جسے وہ خواب میں تعمیر کرنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون ایسا چھوٹا اور مستحکم کاروبار قائم کرتی ہے جو اسے اپنے وقت پر زیادہ اختیار دیتا ہے تو وہ کسی ایسی خاتون سے کم کاروباری نہیں جو وینچر کیپیٹل حاصل کرنے اور تیز رفتار ترقی کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن کاروبار کے آغاز اور تیز رفتار ترقی پر مرکوز ثقافت میں پہلی قسم کی کامیابی کو تسلیم کرنے کی گنجائش بہت کم ہے۔

ماہِ زہرا حسین کی تنقید سے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ وہ ایسے مسائل کے حل کے لیے انفرادی سوچ میں تبدیلی کی بات کر رہی ہیں جو دراصل ساختی نوعیت کے ہیں، تاہم وہ خود بھی اس امکان کو مسترد کرتی ہیں۔ جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ ورک بک میں دی گئی تجاویز حقیقی رکاوٹوں کے سامنے کہاں تک مؤثر ہوسکتی ہیں تو انہوں نے کتاب کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کروں گی کہ کوئی ورک بک ساختی عدم مساوات ختم کرسکتی ہے۔ سرمایہ تک رسائی، قانونی ڈھانچہ، نقل و حرکت، بچوں کی دیکھ بھال، ٹیکنالوجی، خاندانی توقعات اور سماجی روابط اس بات کا تعین کرنے میں گہرا کردار ادا کرسکتے ہیں کہ کون کاروباری سفر شروع کرسکتا ہے اور کون اسے برقرار رکھ سکتا ہے۔

ان کے مطابق ”ویمن رائزنگ“ کا دائرہ اس سے محدود ہے۔ یہ خواتین کی مدد کرسکتی ہے کہ وہ ’’اپنے کاروباری ماڈل کو سمجھیں، جو کچھ تعمیر کر رہی ہیں اسے واضح انداز میں بیان کریں اور اپنے وسائل اور خامیوں کی نشاندہی کریں‘‘۔ ان کے بقول یہ کتاب اس سطح پر کام کرتی ہے جہاں بہت سی کاروباری خواتین اب بھی اپنے فیصلوں اور اقدامات پر اختیار رکھتی ہیں۔

یہ فرق اہم ہے، کیونکہ اس سے اس رجحان پر سوال اٹھتا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا شعبہ عموماً گریز نہیں کرتا، یعنی نظام کی ناکامی کو فرد کی ناکامی قرار دینا۔ ماہِ زہرا حسین کہتی ہیں کہ کبھی مسئلے کا حل یہ نہیں ہوتا کہ زیادہ محنت کریں یا اپنی اقدار سے مزید گہرا تعلق پیدا کریں۔ کبھی حل مالی معاونت تک رسائی، وکیل، رہنما، سماجی روابط، بچوں کی دیکھ بھال یا پالیسی میں تبدیلی ہوتا ہے۔

اگر کشف کے ایوارڈز کی کیٹیگریز اور حکومت کے قرضوں کی تقسیم کے اہداف ایک طرح کے ادارہ جاتی ردعمل کی نمائندگی کرتے ہیں، جو کسی حد تک مالی وسائل اور مواقع تک رسائی بڑھاتے ہیں تو ماہِ زہرا حسین کی کتاب اس سے مختلف اور زیادہ باریک نوعیت کی انفرادی سطح کی کوشش ہے، جسے ان اقدامات کا متبادل بننے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔مگر ان کی بات ایک اہم سوال ضرور چھوڑتی ہے کہ آیا کوئی ادارہ اس مشکل کام کو انجام دے رہا ہے کہ یہ جان سکے کہ ان میں سے کوئی ایک اقدام یا دونوں مل کر واقعی ایسے کاروبار پیدا کر رہے ہیں جو طویل عرصے تک قائم رہتے ہیں یا نہیں۔

تو پھر اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے عملی طور پر کیا درکار ہوگا جس کے بارے میں ماہِ زہرا حسین کہتی ہیں کہ پاکستان میں ابھی سوال ہی نہیں کیا جارہا؟ ان کی اپنی فہرست جان بوجھ کر غیر پرکشش ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پائیداری کے لیے مالیاتی سمجھ بوجھ، درست قیمتوں کا تعین، صارفین کو سمجھنا، قابلِ تکرار نظام قائم کرنا، نقدی کے بہاؤ کا انتظام، گفت و شنید، ملازمین کی بھرتی، اختیارات سونپنا اور یہ جاننا ضروری ہے کہ کب سمت تبدیل کرنی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی کام تصاویر کے لیے زیادہ پرکشش نہیں۔ کسی مصنوعات کی درست قیمت مقرر کرنے پر کوئی تقریب نہیں ہوتی، نہ ہی ایسی کاروباری خاتون کے لیے کوئی ایوارڈ کیٹیگری ہے جس نے تیسرے سال خاموشی سے اپنے نقدی کے بہاؤ کا مسئلہ حل کرلیا، بجائے اس کے کہ کاروبار کو بڑھا کر ایک بڑے مسئلے میں تبدیل کردیا جائے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اس کے لیے ایسے کاروباری ماحول کی بھی ضرورت ہے جو کاروبار کے آغاز کی تصاویر اور ابتدائی تالیاں بجنے کے بعد غائب نہ ہوجائے۔ یہ جملہ شاید اس لیے بھی کچھ مختلف انداز میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مضمون خود بھی ایک کتاب کی رونمائی، بک اسٹور، پریس ریلیز اور تصاویر سے شروع ہوا تھا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کاروبار کے آغاز، ایوارڈز یا قرضہ اسکیموں کو نظر انداز کردیا جائے۔ تشہیر اور مواقع تک رسائی اب بھی اہم ہیں اور ماہ زہرا حسین اس کے برعکس کوئی بات نہیں کر رہیں۔ تاہم ان کا زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ کیمرے چلے جانے کے بعد کہانی کا کیا بنتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انسٹاگرام پر خوبصورت موجودگی اور بہت زیادہ تشہیر کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ آپ کا کاروبار بھی پھلتا پھولتا ہے۔

پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں سے متعلق موجودہ گفتگو میں یہ جاننے کے لیے بہت کم نظام موجود ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے۔

ماہ زہرا حسین کا اپنا سفر بھی اس سوال کا خاموش جواب پیش کرتا ہے، اگرچہ اسے اس انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کاروباری سفر شروع کرنے کے بعد کامیابی کے بارے میں ان کا تصور تبدیل ہوا ہے یا نہیں۔ جواب میں انہوں نے کسی خاص سنگِ میل کا حوالہ دینے کے بجائے کہا کہ جب میں کم عمر تھی تو کامیابی کو بیرونی پیمانوں سے زیادہ ناپا جاتا تھا، یعنی کامیابیاں، عہدے، پذیرائی، کمپنی کا حجم، کتابوں کی تعداد اور اگلا سنگِ میل۔ وقت گزرنے کے ساتھ میری دلچسپی ان کامیابیوں کے گرد موجود زندگی کے معیار میں زیادہ بڑھ گئی۔

وہ یہ وضاحت بھی کرتی ہیں کہ خواتین کا عروج کوئی ایسا فارمولا نہیں جو انہوں نے خود دریافت کیا اور اب دوسروں کو منتقل کر رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ دراصل برسوں کے سوالات، تعمیر، غلطیوں اور اپنی رائے تبدیل کرنے کا نتیجہ ہے۔ میں خواتین کو کامیابی کا کوئی فارمولا نہیں دینا چاہتی، بلکہ انہیں ایسے وسائل اور اوزار فراہم کرنا چاہتی ہوں جن کی مدد سے وہ خود کامیابی کی تعریف کرسکیں۔

یہ کسی قرض کی تقسیم کے اعداد و شمار یا ایوارڈ کیٹیگری کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل چیز ہے جسے ناپا جاسکے اور شاید یہی اصل نکتہ ہے۔ پاکستان کے ادارے یہ گننے میں کافی مؤثر ہوگئے ہیں کہ کتنی خواتین نے کاروبار شروع کیا، کتنے قرضے جاری ہوئے، کتنے کاروبار شروع کیے گئے اور کتنی تقریبات منعقد ہوئیں۔ ماہ زہرا حسین جس دوسرے اعداد و شمار کی بات کر رہی ہیں، اسے فی الحال کوئی نہیں گن رہا یعنی پانچ یا دس سال بعد ان میں سے کتنے کاروبار اب بھی قائم ہیں، منافع کما رہے ہیں اور انہی خواتین کے زیرِ انتظام ہیں جنہوں نے ان پر یقین کرتے ہوئے انہیں شروع کیا تھا۔

جب تک کوئی اس تعداد کو گننا شروع نہیں کرتا، کاروبار کے آغاز پر ملنے والی تالیاں اس کے بعد حاصل ہونے والی حقیقی کامیابی کے ثبوت سے آگے ہی رہیں گی۔

Comments

200 حروف