علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے اہم مرحلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ترکیہ پہنچ گئے
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پہلے ہی استنبول میں موجود، آر 4 اجلاس میں شرکت کریں گے؛ علاقائی سلامتی اور سفارتی رابطہ کاری ایجنڈے کا اہم حصہ
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام پیر کو استنبول میں مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے کمیٹی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ترک وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق تینوں ممالک نے رواں ماہ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے۔
7 اگست کو طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون اور کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔
ترک وزارت خارجہ کے ذریعے کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شرکت کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا شامل ہے۔
تینوں ممالک کو خطے میں اسرائیل اور ایران کی عسکری پالیسیوں پر تشویش ہے۔ علاقائی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے اور خلیجی ممالک کو ایرانی میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دریں اثنا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے کئی ماہ بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے ہیں۔
ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ مزید ممالک کے لیے بھی کھلا ہے اور مصر کو ممکنہ رکن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم انقرہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد موجودہ دفاعی اتحادوں کا متبادل بننا نہیں بلکہ باہمی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
























Comments