سروسز سیکٹر سے ٹیکس وصولی: درپیش چیلنجز
- پاکستان کی معیشت پہلے ہی سروسز کی جانب منتقل ہوچکی ہے، مگر اس کا مالیاتی نظام اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکا۔ 18ویں ترمیم کے نفاذ کو 15 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے معیشت کے سب سے بڑے شعبے سے مناسب آمدن حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
پاکستان کی معیشت بڑی حد تک سروسز پر مبنی ہوچکی ہے اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں سروسز سیکٹر کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے۔ صرف ہول سیل اور ریٹیل تجارت ہی قومی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، گودام، کولڈ چین، رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی، پیشہ ورانہ خدمات، ہوٹلنگ، تعلیم اور صحت کے شعبے معیشت کے بقیہ بڑے حصے پر مشتمل ہیں۔ زراعت اور صنعت کا مجموعی حصہ باقی 40 فیصد ہے۔
تاہم پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ معیشت میں آنے والی اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکا۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت، صحت اور تعلیم سمیت کئی اہم شعبے صوبوں کو منتقل کردیے گئے۔ خدمات پر ٹیکس عائد کرنا بھی بڑی حد تک صوبوں کی ذمہ داری بن گیا۔ اس کے باوجود صوبوں کی اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، حالانکہ چند بڑے شہروں میں سروسز پر جی ایس ٹی سے خاطرخواہ وصولیاں ہوتی ہیں۔
مسئلہ صرف قانون سازی کا نہیں۔ کمزور ترغیبات، محدود انتظامی رسائی، دستاویزات کا ناقص نظام، ٹیکس کے بکھرے ہوئے ڈھانچے اور سیاسی مزاحمت نے صوبوں کو ڈویژنز، اضلاع اور شہروں میں کاروبار، جائیدادوں اور خدمات فراہم کرنے والوں کا منظم ریکارڈ مرتب کرنے سے روک رکھا ہے۔
صوبائی آمدن کا بڑا خلا
صوبے بالخصوص سروسز پر سیلز ٹیکس وصولی میں توقعات پوری نہیں کر رہے، اگرچہ مالی سال 2025-26 میں اس مد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ زرعی آمدن اور پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بھی نہایت کم ہے۔ تقریباً 3.7 کھرب روپے کے تخمینی زرعی ٹیکس بیس کے مقابلے میں صوبائی وصولیاں مبینہ طور پر صرف 8.4 ارب روپے رہیں۔ اسی طرح پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن بھی انتہائی کم ہے، جو جی ڈی پی کے تقریباً 0.08 فیصد کے برابر ہے، جبکہ خطے کے ہم پلہ ممالک میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ کراچی میں فی کس پراپرٹی ٹیکس وصولی صرف 111 روپے بتائی گئی ہے، جبکہ بنگلورو میں یہ 11,233 روپے ہے۔
یہ کمزوری سروسز پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں بھی نمایاں ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبائی سروسز سیلز ٹیکس کا 70 فیصد سے زیادہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے حاصل ہوتا ہے، جو نسبتاً آسانی سے مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ اس انحصار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسیع تر سروسز معیشت کا کتنا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس ادا کر رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
ہول سیل و ریٹیل، پیشہ ورانہ خدمات، ہوٹلنگ، ریسٹورنٹس، لاجسٹکس، رئیل اسٹیٹ لین دین اور دیگر بے شمار کاروباری سرگرمیاں ٹیکس آمدن کا وسیع ممکنہ ذریعہ ہیں۔ ڈیجیٹل دستاویز بندی، وفاقی رجسٹریوں کے ساتھ انضمام اور جدید کمپلائنس نظام کے ذریعے ٹیکس کی شرح بڑھائے بغیر بھی ان سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکتا ہے۔
این ایف سی میں عدم توازن
آئین کا آرٹیکل 160 وفاقی ٹیکس آمدن کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا نظام فراہم کرتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے ساتھ 2010 میں نافذ ہونے والے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ مالی سال 2010-11 میں 47.5 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد اور اس کے بعد 57.5 فیصد کردیا گیا۔
اس اقدام سے صوبوں کی مالی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ تاہم وفاقی حکومت کے ذمے قرضوں کی ادائیگی، دفاع، وفاقی انتظامیہ اور قومی انفرااسٹرکچر سمیت کئی بڑی ذمہ داریاں برقرار رہیں۔ صرف 42.5 فیصد حصے سے ان ذمہ داریوں کی مالی اعانت کے باعث وفاق کو مسلسل مالی دباؤ، مزید قرض لینے اور موجودہ قرضوں کی ری شیڈولنگ کا سامنا رہا ہے۔
دوسری جانب وفاق کی جانب سے بڑی اور غیر مشروط منتقلیوں نے صوبوں کے لیے اپنے ذرائع سے آمدن بڑھانے کی ترغیبات بھی کمزور کردی ہیں۔ جب این ایف سی کے تحت خاطرخواہ وسائل خودکار طور پر منتقل ہورہے ہوں تو ٹیکس بیس وسیع کرنے کی سیاسی طور پر مشکل مشق کیوں کی جائے؟
چھوٹے صوبے، مضبوط ترغیبات، بہتر طرز حکمرانی اور زیادہ سرمایہ کاری
پاکستان کو وسیع تر ٹیکس بیس، بہتر انتظامی نظام اور مضبوط احتساب کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک راستہ موجودہ چار صوبوں کے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی اور موجودہ انتظامی ڈویژنز کو نئے، نسبتاً چھوٹے صوبوں کا درجہ دینے کا جائزہ لینا ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے ڈویژنز اپنی الگ اقتصادی، جغرافیائی اور ثقافتی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان کی صلاحیت سے بھرپور استفادے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، ہدفی سرمایہ کاری، وسائل کا مؤثر انتظام اور زیادہ انتظامی خودمختاری درکار ہے۔
6 سے 15 ملین آبادی کے لگ بھگ لوگوں کا انتظام سنبھالنے والی حکومت اپنے اقتصادی مراکز کے زیادہ قریب ہوگی۔ سیاسی قیادت پر بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات بہتر بنانے کے ساتھ زراعت، صنعت اور آئی ٹی سروسز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے زیادہ دباؤ ہوگا، جس سے ٹیکس بیس بھی وسیع ہوگا۔
زیادہ اقتصادی ہم آہنگی رکھنے والے صوبوں کے درمیان مسابقت ان ترغیبات کو مزید مضبوط کرسکتی ہے۔ جو صوبے ٹیکس انتظام بہتر بنائیں گے اور معیشت کو دستاویزی شکل دیں گے، ان کے پاس ترقیاتی کاموں کے لیے زیادہ وسائل ہوں گے اور انہیں اس کا سیاسی فائدہ بھی ملے گا۔ اس کے برعکس ناکام رہنے والوں کے لیے عوامی احتساب زیادہ واضح ہوگا۔
بین الاقوامی تجربہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ قابل انتظام حجم رکھنے والی انتظامی اکائیاں انتظامی توجہ اور احتساب بہتر بنا سکتی ہیں۔ چین میں مقامی حکومتوں نے معاشی ترقی اور آمدن بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے سخت مسابقت کی ہے، جبکہ بھارت اور ایران میں زیادہ صوبے انتظامی توجہ کے حوالے سے نسبتاً مضبوط مثالیں پیش کرتے ہیں۔
پاکستان کی سروسز پر مبنی معیشت اس طرز حکمرانی کے لیے خاص طور پر موزوں ہے۔ ملتان، فیصل آباد، ایبٹ آباد، سکھر، حیدرآباد، کراچی یا دیگر بڑے اقتصادی مراکز میں قائم حکومتیں ممکنہ طور پر مقامی معاشی سرگرمیوں کا نقشہ مرتب اور ان کی نگرانی ان دور دراز صوبائی سیکریٹریٹ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں کرسکتی ہیں، جو کروڑوں آبادی اور وسیع رقبے پر مشتمل علاقوں کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔
قومی سلامتی کا تقاضہ
صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی میں ناکامی اب محض پبلک فنانس کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی بن چکی ہے۔
جو ریاست مناسب مقدار میں اندرونی آمدن پیدا کرنے سے قاصر ہو، وہ بیرونی قرضوں، آئی ایم ایف پروگراموں اور بار بار کی مالیاتی ایڈجسٹمنٹس پر انحصار کرنے پر مجبور رہتی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی ایسے وسائل کھا جاتی ہے جو بصورت دیگر تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوسکتے تھے۔ مسلسل علاقائی عدم مساوات اور ناقص عوامی خدمات سیاسی اور سماجی عدم استحکام کو بھی گہرا کرسکتی ہیں۔
پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی سلامتی کے چیلنجز کے لیے پائیدار مالی استعداد ضروری ہے۔ یہ استعداد ہمیشہ وفاقی ٹیکسوں اور منتقلیوں پر انحصار کرکے برقرار نہیں رکھی جاسکتی، جبکہ ملک کا سب سے بڑا اقتصادی شعبہ صوبائی سطح پر مناسب طور پر دستاویزی شکل اختیار نہیں کرسکا اور نہ ہی اس سے خاطرخواہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔
چھوٹے صوبے راتوں رات مالی بحران حل نہیں کرسکتے۔ تاہم وزرائے اعلیٰ، صوبائی سیکریٹریٹ، سول انتظامیہ اور پولیس تک آسان رسائی حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم، اعتماد مضبوط اور احتساب بہتر کرسکتی ہے۔
کراچی اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں بڑھتا ہوا احساسِ محرومی دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ناقص انفرااسٹرکچر، صاف پینے کے پانی، صحت، تعلیم اور بروقت انصاف کی عدم دستیابی کا بھی عکاس ہے۔ انتظامی قربت میں اضافہ ان شکایات کے ازالے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ٹیکس پالیسی، ڈیجیٹل نظام، دستاویز بندی، ٹیکس قوانین کا نفاذ اور سیاسی عزم بدستور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم زیادہ جوابدہ انتظامی اکائیاں حکومت اور اس اقتصادی سرگرمی کے درمیان انتظامی فاصلہ کم کرسکتی ہیں جس پر ٹیکس عائد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی سروسز کی جانب منتقل ہوچکی ہے، مگر اس کا مالیاتی نظام اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکا۔ 18ویں ترمیم کے نفاذ کو 15 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے معیشت کے سب سے بڑے شعبے سے مناسب آمدن حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
لہٰذا صوبائی سطح پر ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا محض آمدن بڑھانے کا معاملہ نہیں۔ یہ مالی استعداد پیدا کرنے، ڈویژنز اور اضلاع میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے، معیارِ زندگی بہتر بنانے اور ٹیکس انصاف یقینی بنانے کا معاملہ بھی ہے۔ بالآخر مضبوط صوبائی مالی استعداد ہی پاکستان کی معاشی لچک اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments