شہزادہ ہیری اور میگھن کا برطانیہ واپسی کا فیصلہ
- ہیری نے 2018 میں ونڈسر کیسل میں ایک تقریب میں میگھن مارکل سے شادی کی
شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن رواں ماہ برطانیہ واپس منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جوڑے کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری اور امریکا منتقل ہونے کے چھ سال بعد کیا گیا ہے۔
یہ اچانک فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں نے حالیہ برسوں کے دوران شاہی خاندان کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا اور برطانوی میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیبلوئڈ اخبارات نے ان کی زندگی اجیرن کردی تھی اور وہ اپنے لیے آزادانہ حیثیت قائم کرنا چاہتے تھے۔
ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کے نام سے معروف یہ جوڑا اپنے سات سالہ بیٹے شہزادہ آرچی اور پانچ سالہ بیٹی شہزادی لیلی بیٹ کے ہمراہ کیلیفورنیا سے طویل عرصے کے لیے برطانیہ منتقل ہوگا، جہاں بچے ستمبر میں اسکول شروع کریں گے۔ جوڑے کے قریبی شخص نے میڈیا میں سامنے آنے والی ان تفصیلات کی تصدیق کی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بادشاہ چارلس، جنہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے اور اس کے خاندان کے قریب آنے کا خیرمقدم کیا ہے، کو اتوار کو اس منتقلی کا علم ہوا۔
ہیری اور میگھن کسی شاہی رہائش گاہ میں نہیں رہیں گے اور مارچ 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے وقت آنجہانی ملکہ الزبتھ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق غیرسرکاری شاہی حیثیت برقرار رکھیں گے۔
ہیری کے ترجمان اور بکنگھم پیلس نے تبصرے سے گریز کیا۔
جوڑے کو میڈیا کوریج پر شکایات
ہیری نے 2018 میں ونڈسر کیسل میں ایک تقریب کے دوران میگھن مارکل سے شادی کی۔ امید کی جا رہی تھی کہ سابق اداکارہ سے ان کی شادی شاہی خاندان کے اس تاریخی ادارے کو نئی نسل کے لیے ایک بار پھر متحرک کرنے میں مدد دے گی۔
تاہم زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ان کے تعلقات میں دراڑیں نمایاں ہونا شروع ہوگئیں۔ دو سال بعد، مارچ 2020 میں، دونوں نے اعلان کیا کہ وہ سرکاری ذمہ داریوں سے دستبردار ہوکر امریکا منتقل ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ میں میڈیا کی جانب سے ہونے والی شدید نگرانی سے دور ہونا چاہتے ہیں۔
دونوں کیلیفورنیا کے شہر سانتا باربرا کے قریب مونٹیسیٹو کے ایک متمول ساحلی علاقے میں مقیم ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2020 میں 16 کمروں پر مشتمل اپنا گھر 14.7 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
اس کے بعد کے برسوں میں 41 سالہ ہیری اور 45 سالہ میگھن نے ٹی وی انٹرویوز، نیٹ فلکس کی دستاویزی سیریز اور بالخصوص ہیری کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’اسپیئر‘‘ میں شاہی خاندان اور بادشاہت کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا۔
2021 میں اوپرا ونفری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میگھن، جن کی والدہ سیاہ فام ہیں، نے کہا تھا کہ شاہی خاندان کے ایک نامعلوم رکن نے پوچھا تھا کہ ان کے بیٹے آرچی کی رنگت کتنی گہری ہوسکتی ہے۔ تخت کے وارث اور ہیری کے بڑے بھائی شہزادہ ولیم نے جواباً اس تاثر کی تردید کی تھی کہ برطانیہ کا شاہی خاندان نسل پرست ہے۔
ہیری نے اپنے والد چارلس اور شہزادہ ولیم کے بارے میں بھی خاصی سخت باتیں کیں، جس کے نتیجے میں ان کے باہمی تعلقات مکمل طور پر منقطع ہوگئے۔
ہیری اس بات پر بھی ناراض تھے کہ برطانوی حکومت نے ان کے سکیورٹی انتظامات تبدیل کردیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے خودکار حفاظتی انتظام کی عدم موجودگی کے باعث وہ اپنے بچوں کو برطانیہ نہیں لاسکتے تھے۔
کشیدہ خاندانی تعلقات
تاہم ستمبر میں بادشاہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار دکھائی دیے اور باپ بیٹے کی 20 ماہ بعد پہلی مرتبہ مختصر ملاقات ہوئی۔ چارلس میں 2024 میں ایک نامعلوم نوعیت کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی۔ انہوں نے گزشتہ دسمبر میں ٹیلی وژن پر بتایا تھا کہ علاج کے بعد ان کی حالت میں ’’غیرمعمولی بہتری‘‘ آئی ہے۔
گزشتہ ماہ ہیری، میگھن اور ان کے بچے برطانیہ آئے تھے اور چارلس نے 2022 کے بعد پہلی مرتبہ اپنے پوتے پوتی سے ملاقات کی۔
تاہم بادشاہ نے سسیکس خاندان کو مزید قریب دیکھنے کا خیرمقدم کیا، لیکن انہیں جوڑے کے برطانیہ واپس آنے کے منصوبے کا علم صرف اتوار کو ہوا۔
اگرچہ ہیری اور بادشاہ کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم ہیری اب بھی اپنے بھائی سے تقریباً بات چیت نہیں کرتے۔
برطانوی وزیر لوسی پاول نے جمعرات کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی خبر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’خاندان کے ساتھ مفاہمت کا عمل جاری رہے گا کیونکہ میرے خیال میں یہ ملک کے لیے اچھا ہے۔۔۔ اور اس سے ایک مثبت پیغام جاتا ہے۔‘‘
ہیری اور میگھن نے کیلیفورنیا میں اپنے گھر سے کئی میڈیا منصوبے بھی شروع کیے۔ انہوں نے پوڈکاسٹ سیریز کے لیے اسپاٹیفائی اور میگھن کی میزبانی میں لائف اسٹائل شو سمیت مختلف پروگراموں کے لیے نیٹ فلکس کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے معاہدے کیے۔
ان منصوبوں کے نتائج ملے جلے رہے۔ ہیری کی راز افشا کرنے والی کتاب بیسٹ سیلر ثابت ہوئی، تاہم ان کا پوڈکاسٹ معاہدہ ختم ہوگیا اور میگھن کے نیٹ فلکس شو کو تیسرے سیزن کے لیے توسیع نہیں دی گئی۔
حالیہ مہینوں میں میگھن نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پہلے سے زیادہ تصاویر پوسٹ کرنا شروع کی ہیں، جن میں ہیری، ان کے بچے اور امریکا میں ان کی زندگی کے مناظر شامل ہیں۔ اکثر تصاویر بچوں کے پیچھے سے لی گئی ہیں تاکہ ان کے چہرے نظر نہ آئیں۔
تاہم پیٹن کے مطابق انہوں نے بڑے بڑے ناموں سے سجی اس بستی میں بھی عوام کی اپنے بارے میں دلچسپی برقرار رکھی ہے۔
پیٹن نے کہا، ’’انہوں نے اور میگھن نے اس شعلے کو اب بھی روشن رکھا ہوا ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ ہالی ووڈ میں کیریئر کتنی تیزی سے ختم ہوسکتا ہے تو اس لحاظ سے، اس پیمانے پر، وہ کامیاب رہے ہیں۔‘‘























Comments