BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.2%)
BAFL 57.72 Decreased By ▼ -0.44 (-0.76%)
BIPL 27.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 34.58 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
CNERGY 13.68 Increased By ▲ 0.57 (4.35%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 215.81 Increased By ▲ 2.15 (1.01%)
FABL 99.27 Decreased By ▼ -0.29 (-0.29%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 334.31 Decreased By ▼ -3.85 (-1.14%)
HUBC 212.96 Decreased By ▼ -0.40 (-0.19%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.36 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.51 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
MLCF 101.93 Decreased By ▼ -0.82 (-0.8%)
OGDC 318.48 Decreased By ▼ -0.44 (-0.14%)
PAEL 42.86 Decreased By ▼ -0.24 (-0.56%)
PIBTL 16.72 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 274.51 Increased By ▲ 1.51 (0.55%)
PPL 230.62 Increased By ▲ 1.17 (0.51%)
PRL 76.73 Increased By ▲ 5.93 (8.38%)
SNGP 102.23 Decreased By ▼ -2.35 (-2.25%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.13%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.31 (-1.97%)
TRG 60.09 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
UNITY 11.47 Decreased By ▼ -0.25 (-2.13%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)
رائے

پاکستان کی اے آئی خودمختاری کا اصل امتحان

  • پاکستان کو منتخب شعبوں میں تکنیکی خودمختاری درکار ہے
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 جولائی کو اسلام آباد کے قریب اسکائی 47 کے قراقرم -01 کا افتتاح کیا، جو 8.5 میگاواٹ کا اے آئی کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ سہولت ہے۔ پانچ روز بعد وزیراعظم نے وفاقی اداروں کو اس کے ساتھ انضمام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اس پیش رفت کی اہمیت خود اس مرکز سے کہیں بڑھ کر ہے: کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر پاکستان کی تزویراتی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

اسکائی 47 سے پہلے بھی پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز موجود تھے۔ اس بار فرق اس مرکز سے وابستہ سیاسی مفہوم کا ہے۔ قراقرم-01 بھی تقریباً ہر جدید ٹیکنالوجی مرکز کی طرح غیر ملکی ٹیکنالوجی اور سپلائرز پر انحصار کرتا ہے، جن میں زیڈ ٹی ای بھی منصوبے کے ٹیکنالوجی شراکت داروں میں شامل ہے۔ چنانچہ ڈیٹا سینٹر جسمانی طور پر پاکستانی ہونے کے باوجود ان نظاموں کے حوالے سے تکنیکی طور پر دوسروں کا محتاج ہوسکتا ہے جو کہیں اور تیار کیے گئے ہوں۔ یہ لازماً کمزوری نہیں۔ جدید معیشتیں باہمی انحصار کی بنیاد پر قائم ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ استعمال ہونے والی ہر چِپ، کلاؤڈ پلیٹ فارم، ماڈل یا سافٹ ویئر کا ہر جزو خود تیار کرے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انحصار موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کس نوعیت کا انحصار قبول کرنے کو تیار ہے اور جب یہ انحصار آزمائش میں پڑے تو اس کے اپنے ہاتھ میں کیا باقی رہتا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیٹا کا ملک کے اندر موجود ہونا خودمختاری کے مترادف نہیں۔ ڈیٹا کی مقامی میزبانی کا سوال یہ ہے کہ معلومات کہاں محفوظ ہیں، جبکہ خودمختاری یہ طے کرتی ہے کہ رسائی اور انکرپشن کیز پر کس کا اختیار ہے، انفرااسٹرکچر کا آڈٹ کون کرسکتا ہے، کیا ورک لوڈز کو کہیں اور منتقل کیا جاسکتا ہے، کیا سپلائرز کو حقیقتاً تبدیل کرنا ممکن ہے اور کیا پاکستانی انجینئرز خود ان نظاموں کو چلا اور ان میں ترمیم کرسکتے ہیں۔ ڈیٹا کبھی پاکستان سے باہر نہ جائے، تب بھی انحصار برقرار رہ سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو مکمل تکنیکی خودکفالت نہیں بلکہ منتخب شعبوں میں تکنیکی خودمختاری درکار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کسی خرابی یا سمجھوتے سے قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہو، وہاں سخت قومی کنٹرول برقرار رکھا جائے: دفاعی نظام، قومی شناخت، بنیادی ادائیگیوں کا انفرااسٹرکچر، اہم سرکاری ریکارڈ اور شہریوں کا انتہائی حساس ڈیٹا۔ ان شعبوں میں پاکستانی دائرۂ اختیار، اہم رسائی پر کنٹرول اور ملک کے اندر آپریشنل صلاحیت ناگزیر ہے۔

اس خودمختار دائرے سے باہر ٹیکنالوجی کی ایک دوسری قسم ہے، جہاں مقامی مہارت وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔ مقامی زبانوں میں اے آئی، فن ٹیک، صحتِ عامہ، زراعت، تحقیق اور منتخب صنعتی نظام اس لیے اہم ہیں کہ ان شعبوں میں گہری مہارت انجینئرز، کمپنیاں اور دانشورانہ ملکیت پیدا کرسکتی ہے، جو مستقبل میں مزید ترقی کی بنیاد بنیں گے۔ پاکستان کا موقع شاید جدید ترین پروسیسرز تیار کرنے یا امریکی اور چینی کلاؤڈ ماحولیاتی نظام کی نقل تیار کرنے میں نہیں۔ اصل موقع ٹیکنالوجی کے صارف سے اسے مربوط کرنے، مربوط کرنے سے مقامی ضرورت کے مطابق ڈھالنے اور جہاں معاشی طور پر ممکن ہو، ڈھالنے سے خود تخلیق کرنے تک پہنچنے میں ہے۔ مقصد صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہونا چاہیے۔

تیسری قسم ایسی غیر حساس اور کہیں بھی منتقل کی جاسکنے والی ورک لوڈز پر مشتمل ہے۔ عارضی ڈویلپمنٹ ماحول، تجربات اور بہت سے تجارتی کاموں کے لیے صرف اس وجہ سے مہنگا خودمختار انفرااسٹرکچر ضروری نہیں کہ وہ دستیاب ہے۔ جہاں منتقلی ممکن ہو اور ڈیٹا تزویراتی اہمیت کا حامل نہ ہو، پاکستان کو لاگت، صلاحیت اور قابلِ اعتماد کارکردگی کے بہترین امتزاج کی بنیاد پر دستیاب سہولت خریدنی چاہیے۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ خودمختار کمپیوٹنگ کی ایک قیمت ہوتی ہے۔

موجودہ صنعتی ٹیرف پر 8.5 میگاواٹ کے مرکز کو مسلسل چلانے پر، استعمال کی شرح اور دیگر آپریشنل اخراجات کے لحاظ سے سالانہ بجلی کی لاگت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ نکتہ اسکائی 47 کے اصل بجلی کے بل کا تعین کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مقامی کمپیوٹنگ کو ملک میں چلانے کی اضافی لاگت کا جواز بھی پیش کرنا ہوگا۔

معاشی امتحان دونوں سمتوں میں ہے۔ بہت زیادہ انفرااسٹرکچر بہت جلد تعمیر کردیا جائے تو محدود سرمایہ اور بجلی کم استعمال ہونے والی صلاحیت میں پھنس سکتے ہیں۔ بہت کم تعمیر کیا جائے تو اہم نظام اور مستقبل کی صنعتیں بیرونِ ملک موجود انفرااسٹرکچر پر منحصر رہیں گی۔ پاکستان کو ایسے بجلی پیدا کرنے کے نظام کی لاگت بھی اٹھانی پڑتی ہے جو ہمیشہ پوری طرح استعمال نہیں ہوتا۔ مناسب مقام پر اور مسابقتی نرخوں پر دستیاب بجلی سے چلنے والی کمپیوٹنگ اس اضافی صلاحیت کو پیداواری ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں تبدیل کرسکتی ہے اور بالآخر برآمدی آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

بحث مقامی کمپیوٹنگ کے خلاف نہیں بلکہ واضح استعمال اور قدر پیدا کرنے کے جواز کے بغیر اس کی تعمیر کے خلاف ہے۔ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب مارکیٹ پھیل رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر میں حوالہ دی گئی صنعتی پیش گوئیوں کے مطابق پاکستان میں نصب شدہ ڈیٹا سینٹر آئی ٹی لوڈ 2025ء میں تقریباً 23.5 میگاواٹ تھا، جو 2030ء تک 53 میگاواٹ سے تجاوز کرسکتا ہے۔ تاہم محض مجموعی گنجائش سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں سے کتنی صلاحیت حقیقتاً فعال اور زیرِ استعمال ہے، کون سے ورک لوڈز چل رہے ہیں، رکاوٹیں کہاں ہیں یا اس سے کتنی معاشی قدر پیدا ہورہی ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ پاکستان کو یہ واضح تصویر درکار ہے کہ اس کی کمپیوٹنگ صلاحیت کہاں اور کیسے استعمال ہورہی ہے اور بالآخر کیا پیدا کررہی ہے۔

اس لیے پاکستان کو قومی کمپیوٹنگ بیلنس شیٹ درکار ہے: صلاحیت، استعمال کی شرح، مؤثر توانائی لاگت، غیر ملکی کلاؤڈ پر اخراجات، اہم ورک لوڈز، مقامی مہارت اور جہاں سرکاری معاونت شامل ہو وہاں درآمدی متبادل، برآمدات، تحقیق یا نئی صلاحیتوں کے ذریعے پیدا ہونے والی قدر کا ایک عوامی طور پر جاری کیا جانے والا حساب۔

یہ بیلنس شیٹ طے کرنے میں مدد دے کہ کیا ملک میں تعمیر کیا جائے، کیا بین الاقوامی سطح پر کرائے پر لیا جاسکتا ہے اور کہاں سرکاری معاونت کا جواز بنتا ہے۔ کسی اور میگاواٹ کی تعمیر کے لیے محدود بجلی یا سرمایہ مختص کرنے سے پہلے پالیسی سازوں کو یہ جواب معلوم ہونا چاہیے: یہ انفرااسٹرکچر کون سا مسئلہ حل کررہا ہے اور رقم خرچ ہونے کے بعد پاکستان کے پاس کون سی نئی صلاحیت موجود ہوگی؟

ٹیکنالوجی کے معاہدوں پر بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ پورٹیبلٹی کی شقیں، آڈٹ کے حقوق اور متعدد سپلائرز کی حکمتِ عملی اس وقت بے معنی ہوجاتی ہے جب پاکستانی ادارے ان سے عملی فائدہ اٹھانے کے قابل ہی نہ ہوں۔ کوئی حکومت اس وقت تک حقیقی معنوں میں پورٹیبلٹی کی مالک نہیں ہوسکتی جب تک وہ کسی ورک لوڈ کو منتقل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو؛ اور کوئی سپلائر اس وقت تک حقیقی طور پر قابلِ تبدیلی نہیں جب تک برسوں کے انضمام نے اس کی تبدیلی کو عملاً ناممکن نہ بنا دیا ہو۔

خودمختاری محض معاہدے کے ذریعے پیدا نہیں کی جاسکتی؛ اسے عملی طور پر موجود ہونا چاہیے۔

پاکستان اس نوعیت کے مسئلے کا سامنا پہلے بھی کرچکا ہے۔ 2018ء میں سی پیک کے تحت خنجراب اور راولپنڈی کے درمیان 820 کلومیٹر طویل سرحد پار فائبر لنک کا افتتاح کیا گیا تھا، جسے چینی مالی معاونت سے تیار کیا گیا۔ آٹھ برس بعد دستیاب ریکارڈ ہمیں اس بارے میں تو بہت کچھ بتاتا ہے کہ کیا تعمیر کیا گیا، مگر یہ کم ہی بتاتا ہے کہ پاکستان نے خود کیا بنانا سیکھا۔ کیا مقامی انجینئرز اسی نوعیت کے نظام آزادانہ طور پر ڈیزائن کرسکتے ہیں؟ کیا وہ اصل سپلائر کے بغیر نیٹ ورک میں نمایاں تبدیلیاں کرسکتے ہیں؟ کیا اہم اجزا کو اس طرح تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ ایک بیرونی انحصار ختم کرتے ہوئے محض دوسرے انحصار کا آغاز نہ ہوجائے؟

عوامی سطح پر ان سوالات کے جوابات نہ ملنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی ناکام رہی۔ تاہم یہ پاکستان کی ٹیکنالوجی شراکت داریوں کو پرکھنے کے روایتی انداز میں ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی ضرور کرتا ہے: ہم منصوبے کی تکمیل کو صلاحیت میں اضافے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسانی سے ناپ لیتے ہیں۔ فائبر کیبل کے کلومیٹر گنے جاسکتے ہیں، سرورز کی تصاویر بنائی جاسکتی ہیں اور سرمایہ کاری کے اعلانات کا مجموعہ نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ جانچنا کہیں مشکل ہے کہ آیا انجینئرز کسی نظام کو ازسرِنو ڈیزائن کرنے کے قابل ہوئے، سپلائرز کو تبدیل کیا جاسکتا ہے یا دانشورانہ ملکیت اور سودے بازی کی قوت ملک کے اندر منتقل ہونا شروع ہوئی یا نہیں۔

اے آئی کے دور میں یہی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے۔ چنانچہ اسکائی 47 کو اس کے افتتاح کے موقع پر نہیں بلکہ برسوں کے دوران اس کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ کاراکورم-01 کے اندر موجود ہارڈویئر پر چینی، امریکی یا یورپی کمپنیوں کے نام درج ہیں یا نہیں، اس سے اس کی اصل اہمیت متعین نہیں ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی انجینئرز زیادہ گہری آپریشنل صلاحیت حاصل کرتے ہیں؛ کیا اداروں کو کمپیوٹنگ وسائل تک عملی رسائی ملتی ہے؛ کیا ورک لوڈز کو ضرورت کے مطابق دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے؛ کیا نئی ایپلی کیشنز اور مقامی سپلائرز وجود میں آتے ہیں؛ اور کیا ملک ان ٹیکنالوجیز کو سمجھنے، مقامی ضرورت کے مطابق ڈھالنے اور بالآخر خود تیار کرنے کی زیادہ صلاحیت حاصل کرتا ہے جن پر وہ انحصار کرتا ہے۔

پاکستان آنے والے کئی برسوں تک غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا رہے گا۔ یہ نہ غیر معمولی بات ہے اور نہ بذاتِ خود کوئی ناپسندیدہ امر۔ اصل تزویراتی انتخاب یہ ہے کہ یہ انحصار محض غیر فعال خریداری تک محدود رہتا ہے یا ایسا ذریعہ بنتا ہے جس کے ذریعے پاکستان علم، کنٹرول اور اپنے اختیارات میں اضافہ کرتا چلا جائے۔

چنانچہ ہر بڑے ڈیٹا سینٹر، کلاؤڈ معاہدے، اے آئی پلیٹ فارم اور غیر ملکی ٹیکنالوجی شراکت داری کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے: رقم خرچ ہوجانے کے بعد کیا پاکستان پہلے سے زیادہ جانتا، زیادہ کنٹرول رکھتا اور زیادہ اختیارات کا مالک ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو انحصار خودمختاری کی جانب جانے والا پل بن سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو سرورز اسلام آباد میں ضرور ہوں گے، مگر اصل اختیار کہیں اور ہی رہے گا۔

Comments

200 حروف