BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
کھیل

ورلڈ کپ کے تمام 104 میچ دیکھنے پر دو شائقین کو 50 ہزار ڈالر فی کس مل گئے

  • کیون اکوٹو اور آسٹن فرینکلن میں سے ہر ایک کو ٹورنامنٹ کے لیے 50,000 ڈالر ادا کیے جاتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

فٹ بال کے دو دیوانے کیون اکوٹو اور آسٹن فرینکلن اس سال ہر فٹ بال عاشق کا خواب جی رہے ہیں، یعنی ہر میچ شروع سے آخر تک دیکھنا اور اس کے پیسے بھی حاصل کرنا۔ امریکی براڈکاسٹر فاکس ون کے ان چیف ورلڈ کپ واچرز نے اسپین اور ارجنٹائن کے فائنل سمیت تمام 104 میچز دیکھے۔

اس کام کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کو 50,000 ڈالر ادا کیے گئے۔ میچز کے دوران وہ ٹائمز اسکوائر کے ایک شیشے کے کیبن میں بیٹھتے ہیں جہاں سے گزرنے والے لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔ دونوں سوشل میڈیا پر بھی مواد شیئر کرتے ہیں۔ فلوریڈا میں کک کی نوکری چھوڑنے والے کیون کا کہنا ہے کہ لوگ اب سوشل میڈیا پر کھیل دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیفا کی جانب سے ٹیمیں 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی صورت میں بھی وہ یہ کام دوبارہ کرنے کو تیار ہیں کیونکہ وہ فٹ بال دیکھنے سے اب تک نہیں تھکے۔

Comments

200 حروف