BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Decreased By (-0.24%)
KSE100 Decreased By (-0.36%)
KSE30 Decreased By (-0.26%)
BAFL 57.64 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.32 (-1.17%)
BOP 33.82 Decreased By ▼ -0.37 (-1.08%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.74 Increased By ▲ 0.11 (0.59%)
DGKC 210.40 Decreased By ▼ -2.63 (-1.23%)
FABL 100.01 Decreased By ▼ -0.78 (-0.77%)
FCCL 54.30 Increased By ▲ 0.15 (0.28%)
FFL 16.83 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
HBL 306.52 Decreased By ▼ -2.74 (-0.89%)
HUBC 222.79 Increased By ▲ 1.26 (0.57%)
HUMNL 10.84 Decreased By ▼ -0.05 (-0.46%)
KEL 7.47 Decreased By ▼ -0.12 (-1.58%)
LOTCHEM 29.78 Decreased By ▼ -0.65 (-2.14%)
MLCF 96.65 Decreased By ▼ -1.51 (-1.54%)
OGDC 320.65 Decreased By ▼ -2.71 (-0.84%)
PAEL 42.10 Decreased By ▼ -0.15 (-0.36%)
PIBTL 16.68 Decreased By ▼ -0.14 (-0.83%)
PIOC 281.00 Decreased By ▼ -4.96 (-1.73%)
PPL 224.69 Decreased By ▼ -0.04 (-0.02%)
PRL 45.00 Increased By ▲ 3.35 (8.04%)
SNGP 109.89 Decreased By ▼ -0.30 (-0.27%)
SSGC 28.92 Decreased By ▼ -0.39 (-1.33%)
TELE 8.88 Decreased By ▼ -0.11 (-1.22%)
TPLP 12.25 Decreased By ▼ -0.52 (-4.07%)
TRG 60.91 Increased By ▲ 0.46 (0.76%)
UNITY 10.25 Decreased By ▼ -0.12 (-1.16%)
WTL 1.26 Decreased By ▼ -0.01 (-0.79%)
کاروبار اور معیشت

کے پی حکومت کا دریا کنارے غیر قانونی کان کنی اور پلیسر گولڈ نکالنے پر پابندی کا فیصلہ

  • فیصلہ صوبائی کابینہ کے 37 ویں اجلاس میں متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

خیبر پختونخوا حکومت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی اور پلیسر گولڈ (سونا) نکالنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک اور ملحقہ علاقوں میں یہ پابندی 60 دنوں کے لیے نافذ رہے گی۔

یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے 37 ویں اجلاس میں متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، جس سے پانی آلودہ، قدرتی مناظر تباہ اور مقامی آبادی کی صحت و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ مزید برآں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے، مقامی گروہوں میں تصادم اور ایندھن کی اسمگلنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض منظم گروہ آپریشن کے دوران مزاحمت بھی کر سکتے ہیں، جس سے عوامی جانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ صوبائی کابینہ نے محکمہ معدنیات کو غیر قانونی کان کنی کے خلاف مربوط کارروائی کی ہدایت کی ہے، جس میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھرپور تعاون کریں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ان کی مشینری و گاڑیاں ضبط کر لی جائیں گی۔

Comments

200 حروف