BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Decreased By (-0.07%)
KSE100 Increased By (0.17%)
KSE30 Increased By (0.16%)
BAFL 57.01 Increased By ▲ 0.14 (0.25%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.44 Increased By ▲ 0.09 (0.3%)
CNERGY 13.16 Increased By ▲ 0.04 (0.3%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 192.90 Increased By ▲ 0.45 (0.23%)
FABL 94.14 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 52.94 Increased By ▲ 0.15 (0.28%)
FFL 14.80 Increased By ▲ 0.08 (0.54%)
GGL 19.16 Decreased By ▼ -0.40 (-2.04%)
HBL 307.40 Increased By ▲ 1.30 (0.42%)
HUBC 201.95 Increased By ▲ 0.53 (0.26%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 0.14 (0.53%)
MLCF 93.58 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
OGDC 315.65 Decreased By ▼ -1.08 (-0.34%)
PAEL 35.63 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIBTL 14.95 Increased By ▲ 0.27 (1.84%)
PIOC 243.68 Increased By ▲ 0.47 (0.19%)
PPL 225.50 Decreased By ▼ -1.41 (-0.62%)
PRL 93.44 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
SNGP 91.95 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.89 Increased By ▲ 0.08 (0.34%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.99 Increased By ▲ 0.43 (0.76%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

اسٹیل ملز کی بحالی، پاکستان اور روس نے 2027 میں کام شروع کرنے کی تاریخ مقرر کر دی

  • روسی فریق کے ساتھ ای پی سی یعنی انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن معاہدے پر دستخط کے بعد اسٹیل ملز پر عملی کام کا آغاز ہوگا، سیکریٹری صںعت
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور روس نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور توسیع کے منصوبے کے لیے تعمیراتی مرحلے کے آغاز کا سال 2027 مقرر کر دیا ہے۔ یہ بات جمعرات کو ایک پارلیمانی پینل کو بتائی گئی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت صنعت و پیداوار کی آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان اسٹیل ملز کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے بتایا کہ روسی فریق کے ساتھ ای پی سی یعنی انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن معاہدے پر دستخط کے بعد اسٹیل ملز پر عملی کام کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر 2025 میں پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ بین الحکومتی کمیشن نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے دوسرے پروٹوکول پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت آگے بڑھنے کے لیے ایک قابلِ بینک ای پی سی معاہدہ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

سیکرٹری صنعت کے مطابق روسی کمپنی انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی نے پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان اسٹیل ملز کا تکنیکی آڈٹ کیا اور اثاثوں کی مالیت کے تعین کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کے موجودہ اثاثوں کی مالیت تقریباً 139 ملین ڈالر ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ التوارقی اسٹیل کے معاملے میں انٹرنیشنل کورٹ کو 148.5 ملین روپے کی بے قاعدہ ادائیگی کی گئی۔ کنوینر کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت نے رقم کی وصولی کے لیے دو سال کی تاخیر کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں کیس کیوں دائر کیا۔

اس پر سیکرٹری نے بتایا کہ التوارقی اسٹیل کے مالک نے رعایتی نرخوں پر گیس کی فراہمی کے معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کیس دائر کیا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے یہ مقدمہ جیت لیا اور التوارقی اسٹیل سے 148.5 ملین روپے وصول کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

مقامی عدالت میں کیس دائر کرنے میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں سیکرٹری نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے باعث معاملے کو آگے نہیں بڑھایا گیا، تاہم وزیر اعظم نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی تھی۔

کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت اب انٹرنیشنل کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں کیس دائر کرنے جا رہی ہے۔

سیکرٹری صنعت نے مزید بتایا کہ اسٹیل مل کے مالک نے ادارے میں اپنی 95 فیصد حصص فروخت کر دیے ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے نافذ کردہ قواعد کے تحت وہ باقی ماندہ 5 فیصد حصص فروخت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مالک اپنی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا تو حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان حصص کو ضبط کر لے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.