پاکستان اسلحہ اور طیاروں کی فراہمی کے لیے سوڈان کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے قریب، رائٹرز رپورٹ
- پاکستان کے ساتھ اس معاہدے میں 10 قراقرم-8 ہلکے حملہ آور طیارے، نیز نگرانی اور کامیکاز حملوں کے لیے 200 سے زائد ڈرونز شامل ہیں
ذرائع کے مطابق پاکستان سوڈان کو اسلحہ اور طیاروں کی فراہمی کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے حتمی مراحل طے کررہا ہے جو نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف برسرِپیکار سوڈانی فوج کے لیے ایک بڑی تقویت ثابت ہوگا۔
سوڈان میں جاری یہ تنازع ڈھائی سال سے زائد عرصے سے دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دے چکا ہے جس میں متعدد غیر ملکی مفادات شامل ہو گئے ہیں، جبکہ بحیرۂ احمر کا یہ اہم ملک، جو سونے کا بڑا پیداواری مرکز بھی ہے، ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دوچار ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس معاہدے میں 10 قراقرم-8 ہلکے حملہ آور طیارے، نگرانی اور کامیکاز حملوں کے لیے 200 سے زائد ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ تین میں سے دو ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تفصیلات فراہم کیں۔
پاکستانی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل، جو تاحال فضائیہ کے امور پر بریفنگ حاصل کرتے رہتے ہیں، نے کہا کہ یہ ایک ’’طے شدہ معاہدہ‘‘ ہے۔
ان کے مطابق قراقرم-8 طیاروں کے علاوہ اس میں سپر مشاق تربیتی طیارے بھی شامل ہیں، اور ممکنہ طور پر چین کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیے گئے اور پاکستان میں تیار ہونے والے جے ایف-17 لڑاکا طیارے بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تعداد یا ترسیل کے شیڈول کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
پاکستانی فوج اور وزارتِ دفاع نے تبصرے کی درخواستوں پر فوری ردِعمل نہیں دیا۔
سوڈانی فوج کے ترجمان نے بھی تبصرے کے لیے بھیجے گئے پیغام کا فوری جواب نہیں دیا۔
پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت، خصوصاً ڈرونز اور جنگی طیارے، سوڈانی فوج کو فضائی برتری دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو اسے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف جنگ کے ابتدائی مرحلے میں حاصل تھی۔ آر ایس ایف نے حالیہ عرصے میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ذریعے علاقوں پر قبضہ کیا ہے، جس سے فوج کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
سوڈانی فوج نے آر ایس ایف پر متحدہ عرب امارات سے اسلحہ حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم امارات نے ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔
سعودی معاونت کا امکان
ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ اس معاہدے کے لیے مالی وسائل کہاں سے فراہم کیے جا رہے ہیں، تاہم سابق پاکستانی ایئر مارشل کا کہنا تھا کہ ممکن ہے اس کی مالی اعانت سعودی عرب کی جانب سے کی جائے۔
ان کے مطابق، ’’سعودی عرب خلیج میں اپنے لیے موزوں حکومتوں کے لیے پاکستانی فوجی سازوسامان اور تربیت کی خریداری کی حمایت اور حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔‘‘
ایک ذریعے نے بتایا کہ اس معاہدے میں سعودی عرب نے ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ وہ ہتھیاروں کی ادائیگی کر رہا ہے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق سعودی عرب اس کی مالی معاونت نہیں کر رہا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک دفاعی معاہدے پر بھی بات چیت جاری ہے، جس کی مالیت دو سے چار ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔
سابق ایئر مارشل نے کہا کہ سوڈان کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کو ایسے کسی معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اس حوالے سے کسی بات چیت کی تصدیق نہیں کی۔
سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان ممالک کے امریکی قیادت میں قائم چار رکنی گروپ کا حصہ ہیں، جو سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
حالیہ دوروں کے دوران سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے جنگ میں سعودی عرب سے مدد کی درخواست کی، سوڈانی اور مصری ذرائع کے مطابق۔
ریاض اور ابوظہبی یمن میں حالیہ پیش رفت کے بعد پیدا ہونے والے ایک بڑے تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔ خلیج کے یہ دو طاقتور ترین ممالک جغرافیائی سیاست سے لے کر تیل کی پیداوار تک، مشرقِ وسطیٰ کے متعدد حساس معاملات پر شدید اختلافات رکھتے ہیں۔
ان اختلافات کا کھل کر اظہار دسمبر کے اوائل میں اس وقت ہوا جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی یمنی علیحدگی پسندوں کی پیش قدمی نے انہیں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔
پاکستان کے دفاعی عزائم
یہ معاہدہ پاکستان کے تیزی سے ابھرتے دفاعی شعبے کے لیے ایک اور نمایاں کامیابی ہے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران خاص طور پر اس وقت سرمایہ کاری اور دلچسپی میں اضافہ ہوا جب گزشتہ سال بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستانی جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ معاہدہ کیا، حکام کے مطابق یہ جنوبی ایشیائی ملک کی بڑی دفاعی برآمدات میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی دفاعی معاہدے پر بات چیت کی ہے، جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور جے ایف-17 شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ڈھاکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔
حکومت پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی شعبے کو طویل المدتی معاشی استحکام کے حصول کا ایک محرک سمجھتی ہے۔
پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے، جو 2023 میں دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچنے کے لیے کیے گئے قلیل مدتی معاہدے کے بعد حاصل ہوا۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی مالی معاونت اور ڈپازٹ رول اوورز کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل ہوئی۔
























Comments