لکی مروت : سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کی گاڑی دھماکے سے اڑا دی گئی ، ایک جاں بحق، 9 افراد زخمی
- واقعے کا مقصد علاقے کا امن تباہ کرنا ، ڈی پی او نذیر خان ، واقعے کو بزدلانہ کارروائی قرار دے دیا
لکی مروت کے علاقے نورخیل موڑ پر لکی سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کو لے جانے والی گاڑی کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور 9 دیگر زخمی ہو گئے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نذیر خان پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ لکی مروت پولیس کے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او نذیر خان نے اس واقعے کو علاقے کا امن تباہ کرنے کی بزدلانہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور دھماکے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہائی الرٹ ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق زخمیوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں اور بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے سے بس کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ پولیس واقعے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات کے ایک دن بعد پیش آیا ہے، جن میں ٹریفک پولیس انچارج سمیت چار اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
بنوں کے تھانہ منڈن کی حدود کفشی خیل میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے پولیس افسر راشد خان موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
دوسرا حملہ لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں ہوا جہاں دہشت گردوں نے بنوں لکی روڈ پر ڈیوٹی انجام دینے والے ٹریفک پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ٹریفک انچارج جلال خان اور کانسٹیبلان عزیز اللہ اور عبداللہ شہید ہو گئے۔




















Comments