ایران میں اقتصادی پریشانیوں کے خلاف مظاہروں میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات
- پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس سے منسلک بسیج رضاکار نیم فوجی یونٹ کے ایک رکن کوہدشت میں مارا گیا ہے
ایرانی خبر رساں ایجنسی اور حقوق انسانی کی ایک تنظیم کے مطابق جمعرات کو ایران میں بدامنی کے دوران متعدد افراد اس وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب ملک میں گزشتہ تین برسوں کے دوران بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سب سے بڑے احتجاج نے کئی صوبوں میں تشدد کی صورت اختیار کر لی۔
نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے ایک ”باخبر ذریعے“ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح مغربی ایران کے شہر لردگان میں پولیس اور مبینہ طور پر مسلح مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
حقوق انسانی کی تنظیم ہینگاؤ نے بھی لردگان میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
کئی شہروں میں تشدد کی اطلاعات
لردگان میں جمعرات کی جھڑپیں، اس کے علاوہ رات گئے سکیورٹی سروس کے ایک اہلکار اور بدھ کو مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاعات، اس بدامنی میں نمایاں شدت کی علامت ہیں جو اتوار سے اس وقت ایران بھر میں پھیل گئی، جب دکانداروں نے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔
انقلابی گارڈز نے جمعرات کی صبح بتایا ہے کہ اس سے منسلک بسیج رضاکار نیم فوجی یونٹ کا ایک رکن مغربی شہر کوہ دشت میں مارا گیا ہے، جس کی شناخت امیرحسام خدایاری فرد کے نام سے کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مزید 13 ملیشیا اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ہینگاؤ نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کو وسطی ایران کے صوبہ اصفہان میں ایک مظاہرے میں شریک ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
رائٹرز فوری طور پر ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
ایرانی کارکنوں کی خبر رساں ویب سائٹ ہرانا کے مطابق جمعرات کو جنوبی صوبہ فارس کے شہر مروَدَشت میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہینگاؤ نے بتایا کہ بدھ کے روز مغربی صوبوں کرمانشاہ، خوزستان اور ہمدان میں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
علما پر مبنی حکمران طبقہ کے لیے نازک موڑ
یہ بدامنی ایران کی مذہبی قیادت کے لیے ایک نہایت نازک وقت پر سامنے آئی ہے، جب مغربی پابندیاں 40 فیصد مہنگائی سے متاثر معیشت پر کاری ضرب لگا رہی ہیں، اور جون میں اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے ملک کے جوہری ڈھانچے اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔
تہران نے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ بظاہر مصالحت آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جمعرات کو کہا ہے کہ حکام تجارتی یونینوں اور تاجروں کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کریں گے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ہرانا نے بدھ کی رات بتایا کہ شہروں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات تھی اور بعض علاقوں میں گرفتاریاں، فائرنگ اور جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
ایرانی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے رات گئے بسیج نیم فوجی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق حکام کے موقف پر سوال اٹھائے۔ آن لائن وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا، میں مظاہرین کو ایک زخمی شخص کو ایمبولینس میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے دکھایا گیا۔
بسیج، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے وفادار ایک رضاکار نیم فوجی فورس ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈز کور سے منسلک ہے۔ آئی آر جی سی نے جمعرات کو کوہدشت میں بدامنی میں ملوث افراد پر” عوامی احتجاج کے ماحول سے فائدہ اٹھانے“ کا الزام عائد کیا۔
حکومتی سرگرمیوں کی بندش
کئی دنوں سے تاجروں، دکان داروں اور متعدد ایرانی جامعات کے طلبہ احتجاج کر رہے ہیں اور بڑے بازار بند کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے بدھ کو سرد موسم کے باعث عام تعطیل کا اعلان کر کے ملک کے بڑے حصے کو بند کر دیا۔
حکام نے حالیہ برسوں میں مہنگائی، خشک سالی، خواتین کے حقوق اور سیاسی آزادیوں سمیت مختلف مسائل پر ہونے والے احتجاج کو سخت سکیورٹی اقدامات اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے ذریعے کچلا ہے۔
تاہم صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو مظاہرین کے ”جائز مطالبات“ سننے کی ہدایت کی ہے۔
ایران کی معیشت برسوں سے امریکا اور مغربی پابندیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جو تہران کے جوہری پروگرام پر عائد کی گئی تھیں۔ علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ فضائی جنگ بھی ہوئی، جس سے مالی دباؤ مزید بڑھ گیا۔
2025 میں ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی، جبکہ دسمبر میں مہنگائی کی شرح 42.5 فیصد تک پہنچ گئی۔
























Comments