سعودی ولی عہد کا وائٹ ہاؤس کا دورہ، امریکہ کے ساتھ توانائی اور دفاعی تعاون میں اضافہ متوقع
- امریکی صدر ٹرمپ سعودی سرمایہ کاری کے وعدے سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا وائٹ ہاؤس دورہ، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، دوطرفہ تعلقات میں گہرائی لانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر تیل، دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور ممکنہ طور پر سول نیوکلیئر توانائی کے شعبوں میں تعاون میں اہم ہوسکتا ہے۔
یہ ولی عہد کا امریکہ کا پہلا دورہ ہے جب سے 2018 میں سعودی ناقد جمال خشوگی کی استنبول میں ہلاکت ہوئی، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آیا تھا۔ امریکی انٹیلی جنس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ولی عہد نے خشوگی کو گرفتار یا قتل کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم انہوں نے اس آپریشن کے براہِ راست حکم دینے سے انکار کیا اور اپنی حیثیت کے طور پر ذمہ داری قبول کی۔
ملاقات میں دونوں ممالک توانائی اور دفاع کے روایتی معاہدوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی جانب سے سیکیورٹی کی ضمانتیں، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی اور سول نیوکلیئر پروگرام پر پیش رفت کے امکان پر بات چیت کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ سعودی سرمایہ کاری کے وعدے سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں، جو مئی میں سعودی عرب کے دورے کے دوران 600 ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے، جدید کمپیوٹر چپس اور سول نیوکلیئر پروگرام پر بات چیت بھی متوقع ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے علاقائی بحران کے پیشِ نظر سیکیورٹی کی ضمانتوں کی ضرورت ہے، جبکہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کے دوران کچھ معاہدوں پر پیش رفت ممکن ہے، تاہم دونوں ممالک اپنی خواہشات کے مطابق مکمل حصول نہیں کر پائیں گے، بلکہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہوگا۔
سعودی ولی عہد کے لیے یہ دورہ اقتصادی تنوع اور علاقائی حریفوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔






















Comments
Comments are closed.