BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.03 Increased By ▲ 0.64 (1.13%)
BIPL 26.81 Increased By ▲ 0.25 (0.94%)
BOP 33.72 Increased By ▲ 0.67 (2.03%)
CNERGY 9.57 Decreased By ▼ -0.11 (-1.14%)
DFML 18.33 Increased By ▲ 0.17 (0.94%)
DGKC 206.80 Increased By ▲ 2.79 (1.37%)
FABL 98.97 Increased By ▲ 2.00 (2.06%)
FCCL 51.88 Increased By ▲ 0.97 (1.91%)
FFL 16.69 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
GGL 23.48 Increased By ▲ 0.71 (3.12%)
HBL 303.32 Increased By ▲ 5.28 (1.77%)
HUBC 217.52 Increased By ▲ 1.09 (0.5%)
HUMNL 10.85 Increased By ▲ 0.15 (1.4%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.09 (-1.2%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.67 Increased By ▲ 2.35 (2.52%)
OGDC 320.99 Increased By ▲ 1.49 (0.47%)
PAEL 41.38 Increased By ▲ 0.32 (0.78%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.32 (1.95%)
PIOC 262.85 Increased By ▲ 5.84 (2.27%)
PPL 224.20 Increased By ▲ 1.62 (0.73%)
PRL 41.40 Decreased By ▼ -0.65 (-1.55%)
SNGP 104.13 Decreased By ▼ -0.37 (-0.35%)
SSGC 28.41 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.69 Increased By ▲ 0.06 (0.7%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.63 Decreased By ▼ -1.18 (-2.01%)
UNITY 9.71 Increased By ▲ 0.11 (1.15%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)

جرمنی نے کئی ماہ سے رکے ہوئے اپنے اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت طالبان کے دورِ حکومت میں خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو پناہ دی جانی تھی۔ جرمن اخبار ویلٹ کے مطابق تقریباً 2,000 افغان شہری، جو اس اسکیم کے تحت منظوری پا چکے تھے، پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے کیونکہ برلن نے اس پروگرام کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ افغان خاندانوں نے اس فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیا تھا، جہاں بعض فیصلوں نے جرمن حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔ معاملہ اس وقت اور زیادہ سنجیدہ ہوگیا جب پاکستان نے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن سے قبل افغان مہاجرین کی ملک بدری کی کارروائیاں تیز کر دیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو جرمنی کے ری لوکیشن پروگرام میں رجسٹرڈ تھے۔

اخبار کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو اب اطلاع دی جا چکی ہے اور توقع ہے کہ پہلے افغان خاندان آئندہ چند دنوں میں جرمنی روانہ ہو جائیں گے۔ حکومت ان افراد کو دبئی یا استنبول میں مختصر قیام کے بعد عام کمرشل پروازوں کے ذریعے منتقل کرے گی۔

جرمن وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تصدیقی عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور عملے کو پاکستان میں کیسز کی پراسیسنگ کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ نے مزید تبصرے سے گریز کیا۔

Comments

Comments are closed.