یوکرین کے ڈرون حملوں نے اتوار کی شب روس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کرُسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کی صلاحیت نصف رہ گئی جبکہ بالٹک سمندر کے ساحل پر واقع اوسٹ-لوگا فیول ایکسپورٹ ٹرمینل میں آگ بھڑک اٹھی۔ روسی حکام کے مطابق کرُسک پلانٹ کے یونٹ 3 میں ایک معاون ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ پر فوری قابو پا لیا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
لینن گراڈ ریجن میں اوسٹ-لوگا پورٹ پر بھی تقریباً 10 ڈرون مار گرائے گئے، جن کے ملبے سے نوواتیک کمپنی کے فیول ٹرمینل میں آگ بھڑک اٹھی۔ گورنر کے مطابق فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ ٹرمینل جیٹ فیول، نیفتھا اور دیگر مصنوعات تیار کرکے عالمی منڈیوں میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ رات بھر میں 13 مختلف علاقوں پر حملہ آور ہونے والے 95 یوکرینی ڈرونز تباہ کیے گئے، جن میں لینن گراڈ، سمارا اور کریمیا بھی شامل ہیں۔ اس دوران روس کے کئی ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل رہیں۔ سمارا کے شہر سیزران میں ایک صنعتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کیف کا کہنا ہے کہ یہ حملے روسی جارحیت کے جواب میں ہیں اور ماسکو کی جنگی مشینری کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔




















Comments
Comments are closed.