BR100 Decreased By (-0.95%)
BR30 Decreased By (-0.96%)
KSE100 Decreased By (-0.91%)
KSE30 Decreased By (-0.88%)
BAFL 56.39 Decreased By ▼ -0.35 (-0.62%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.32 Decreased By ▼ -0.36 (-1.07%)
CNERGY 9.88 Increased By ▲ 0.07 (0.71%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.52 (-2.81%)
DGKC 204.20 Decreased By ▼ -3.67 (-1.77%)
FABL 96.68 Decreased By ▼ -2.22 (-2.24%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.77 (-1.44%)
FFL 16.36 Decreased By ▼ -0.32 (-1.92%)
GGL 23.35 Decreased By ▼ -0.22 (-0.93%)
HBL 300.51 Decreased By ▼ -3.88 (-1.27%)
HUBC 216.70 Decreased By ▼ -1.41 (-0.65%)
HUMNL 10.58 Decreased By ▼ -0.08 (-0.75%)
KEL 7.19 Decreased By ▼ -0.16 (-2.18%)
LOTCHEM 28.80 Decreased By ▼ -0.31 (-1.06%)
MLCF 93.30 Decreased By ▼ -2.20 (-2.3%)
OGDC 316.99 Decreased By ▼ -0.95 (-0.3%)
PAEL 41.10 Decreased By ▼ -0.73 (-1.75%)
PIBTL 16.35 Decreased By ▼ -0.15 (-0.91%)
PIOC 279.89 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 218.65 Decreased By ▼ -1.09 (-0.5%)
PRL 45.72 Increased By ▲ 1.13 (2.53%)
SNGP 105.50 Decreased By ▼ -1.99 (-1.85%)
SSGC 28.25 Decreased By ▼ -0.68 (-2.35%)
TELE 8.66 Decreased By ▼ -0.10 (-1.14%)
TPLP 12.06 Decreased By ▼ -0.04 (-0.33%)
TRG 58.89 Decreased By ▼ -1.14 (-1.9%)
UNITY 9.89 Decreased By ▼ -0.22 (-2.18%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہفتے کے روز بلاول بھٹو زرداری کے مبینہ طور پر ’’معافی مانگنے والے‘‘، ’’جھکاؤ والے‘‘ اور ’’غلط طور پر اعتماد سازی کے اقدامات‘‘ کے تحت پاکستانی شہریوں کو بھارت کے حوالے کرنے کی پیشکش پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی اور ریاستی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بلاول بھٹو ایک ناپختہ سیاسی بچے ہیں جن کے غیر ذمہ دارانہ اور ناعاقبت اندیش بیانات پاکستان کے بیانیے کو نقصان پہنچاتے اور ملک کو عالمی سطح پر شرمندہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے مسلط کردہ نمائندوں نے ملک کو مکمل طور پر سیاسی طور پر غیر مستحکم اور معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلاول بھٹو بھارت کو خوش کرنے کے لیے کیوں اتنے بے چین ہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلاول میں نہ سیاسی تدبر ہے، نہ علاقائی سیاست کا فہم، اور نہ ہی قومی مفادات کا شعور۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے خون پر سیاست چمکانے والے بلاول، ذوالفقار علی بھٹو کی وراثت کے منکر ثابت ہو رہے ہیں۔

ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ بلاول بھٹو سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کس کے ایما پر ایسے بیانات جاری کر رہے ہیں اور پاکستان کی عزت کو عالمی سطح پر داؤ پر لگا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بلاول بھٹو کی پالیسی میں تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کبھی جنگ کی دھمکیاں، اور کبھی بھارت سے معافی تلافی — یہ خارجہ پالیسی نہیں بلکہ کنفیوژن ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر پیپلز پارٹی کو واقعی بلاول بھٹو کی فکر ہے تو پہلے انہیں بلدیاتی الیکشن لڑوایا جائے اور علاقائی میڈیا پر خود کو منوایا جائے، بین الاقوامی میڈیا پر دھکیل کر صرف پاکستان کو شرمندہ نہ کیا جائے۔

وقاص اکرم نے کہا کہ بلاول پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر دفن کر دیں گے، اگر پارٹی کو بچانا ہے تو بلاول بھٹو کو ہٹاکر آصفہ بھٹو کو چیئرمین بنا دیا جائے کیونکہ ان میں کم از کم کچھ سنجیدگی اور سیاسی سوجھ بوجھ موجود ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ وہاں منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی سازش کے خلاف پی ٹی آئی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بار بار فوجی آپریشنز نے صرف تباہی، نقل مکانی اور نفرت پیدا کی ہے، لہٰذا اب اس علاقے میں ترقی، تعلیم اور روزگار کی ضرورت ہے، نہ کہ جبر اور طاقت کی۔

وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مائیکروسافٹ جیسی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں، جو ایس آئی ایف سی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت سے تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن افغانستان سے تجارت بند ہے، جو نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔

وقاص اکرم نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت فوری بحال کی جائے تاکہ سرحدی علاقوں اور ملک کی معیشت کو سہارا مل سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر رہنما سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، لیکن پارٹی آخری گیند تک لڑے گی اور قانون کی بالادستی، آئینی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.