BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Decreased By (-0.12%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.47%)
BAFL 57.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.11 (0.41%)
BOP 34.15 Increased By ▲ 0.46 (1.37%)
CNERGY 10.20 Decreased By ▼ -0.41 (-3.86%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.08 (0.44%)
DGKC 207.50 Decreased By ▼ -2.40 (-1.14%)
FABL 100.60 Increased By ▲ 1.65 (1.67%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.65 Increased By ▲ 0.19 (1.15%)
GGL 24.70 Increased By ▲ 0.88 (3.69%)
HBL 303.13 Increased By ▲ 0.71 (0.23%)
HUBC 220.44 Increased By ▲ 1.50 (0.69%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.09 (-0.85%)
KEL 7.39 Increased By ▲ 0.11 (1.51%)
LOTCHEM 29.40 Decreased By ▼ -0.25 (-0.84%)
MLCF 95.30 Decreased By ▼ -1.06 (-1.1%)
OGDC 317.40 Decreased By ▼ -0.82 (-0.26%)
PAEL 43.00 Increased By ▲ 1.23 (2.94%)
PIBTL 16.77 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 296.21 Decreased By ▼ -0.41 (-0.14%)
PPL 220.20 Increased By ▲ 0.03 (0.01%)
PRL 49.29 Increased By ▲ 0.24 (0.49%)
SNGP 105.50 Decreased By ▼ -0.63 (-0.59%)
SSGC 28.40 Decreased By ▼ -0.74 (-2.54%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.03 (0.34%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 0.59 (4.72%)
TRG 59.65 Decreased By ▼ -0.57 (-0.95%)
UNITY 10.47 Increased By ▲ 0.45 (4.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

کراچی: لیاری میں گرنے والی عمارت سے 17 لاشیں نکال لی گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

  • کم از کم 10 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، ریسکیو حکام
شائع اپ ڈیٹ

کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گزشتہ روز منہدم ہونے والی 5 منزلہ عمارت کے ملبے سے 17 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ آج نیوز کے مطابق ریسکیو آپریشن ہفتہ کو بھی جاری ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے اب بھی تقریباً 10 افراد پھنسے ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ جمعہ کو لیاری کے علاقے بغدادی میں پیش آیا جہاں 5 منزلہ رہائشی عمارت جس میں 20 فلیٹس تھے منہدم ہوگئی۔

واضح رہے کہ یہ عمارت 1974 میں تعمیر کی گئی تھی اور یہاں 6 خاندان مقیم تھے۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے اس عمارت کو پہلے ہی مخدوش قرار دیا جاچکا تھا، تاہم نہ تو مکینوں کو منتقل کیا گیا اور نہ ہی عمارت کی تعمیرِ نو کے لیے کوئی اقدام کیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران کراچی میں تقریباً 1 لاکھ غیر قانونی رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہے۔

ادھر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سانحے پر ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داری متاثرین پر ہی ڈال دی۔

مرتضیٰ وہاب نے کا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت آپ کو کچھ بتائے تو سنیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ متعلقہ حکام نے صرف عمارت کی خستہ حالی کے بارے میں مکینوں کو خبردار کیا تھا۔

میئر نے اعتراف کیا کہ کراچی میں 400 سے زائد عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس دو راستے ہیں: یا تو لوگوں کو رضا مند کریں کہ وہ چھوڑ دیں یا زبردستی خالی کروائیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عموماً زبردستی کے بجائے قائل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

Comments

Comments are closed.