BR100 Increased By (0.49%)
BR30 Increased By (0.64%)
KSE100 Increased By (0.27%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.25 (0.43%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.38 Increased By ▲ 2.41 (1.25%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.29 Increased By ▲ 0.46 (0.87%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.01 Increased By ▲ 0.63 (0.29%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.71 Decreased By ▼ -0.18 (-0.65%)
MLCF 86.94 Increased By ▲ 0.43 (0.5%)
OGDC 322.00 Increased By ▲ 2.04 (0.64%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.23 (1.38%)
PIOC 269.79 Increased By ▲ 3.73 (1.4%)
PPL 228.99 Increased By ▲ 0.81 (0.35%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.01 Decreased By ▼ -0.17 (-0.17%)
SSGC 27.05 Increased By ▲ 0.45 (1.69%)
TELE 8.61 Increased By ▲ 0.33 (3.99%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.63 Decreased By ▼ -0.08 (-0.11%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

کراچی: لیاری میں گرنے والی عمارت سے 17 لاشیں نکال لی گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

  • کم از کم 10 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، ریسکیو حکام
شائع July 5, 2025 اپ ڈیٹ July 5, 2025 12:31pm

کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گزشتہ روز منہدم ہونے والی 5 منزلہ عمارت کے ملبے سے 17 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ آج نیوز کے مطابق ریسکیو آپریشن ہفتہ کو بھی جاری ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے اب بھی تقریباً 10 افراد پھنسے ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ جمعہ کو لیاری کے علاقے بغدادی میں پیش آیا جہاں 5 منزلہ رہائشی عمارت جس میں 20 فلیٹس تھے منہدم ہوگئی۔

واضح رہے کہ یہ عمارت 1974 میں تعمیر کی گئی تھی اور یہاں 6 خاندان مقیم تھے۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے اس عمارت کو پہلے ہی مخدوش قرار دیا جاچکا تھا، تاہم نہ تو مکینوں کو منتقل کیا گیا اور نہ ہی عمارت کی تعمیرِ نو کے لیے کوئی اقدام کیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران کراچی میں تقریباً 1 لاکھ غیر قانونی رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہے۔

ادھر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سانحے پر ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داری متاثرین پر ہی ڈال دی۔

مرتضیٰ وہاب نے کا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت آپ کو کچھ بتائے تو سنیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ متعلقہ حکام نے صرف عمارت کی خستہ حالی کے بارے میں مکینوں کو خبردار کیا تھا۔

میئر نے اعتراف کیا کہ کراچی میں 400 سے زائد عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس دو راستے ہیں: یا تو لوگوں کو رضا مند کریں کہ وہ چھوڑ دیں یا زبردستی خالی کروائیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عموماً زبردستی کے بجائے قائل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

Comments

Comments are closed.