امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے پیر کو بتایا کہ تل ابیب میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو ایرانی میزائل حملے کے قریب ہونے کے باعث معمولی نقصان پہنچا ہے تاہم امریکی عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔
ایران نے پیر کی صبح اسرائیلی شہروں پر میزائلوں کی بوچھاڑ کردی۔ قبل ازیں اسرائیل نے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ دونوں ممالک نے مزید تباہ کن اقدامات کی دھمکی دی ہے۔
اے ایف پی کی تصاویر میں ساحلی شہر تل ابیب میں جھلسی ہوئی عمارتیں دیکھی گئیں جب کہ اسرائیلی فوج نے ایرانی میزائلوں کے حملے کے پیش نظر عوام کو محفوظ پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
مائیک ہکابی نے ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کے قریب ایرانی میزائلوں سے معمولی نقصان ہوا ہے تاہم امریکی عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ پیر کو بند رہے گا کیونکہ محفوظ مقام پر رہنے کے احکامات اب بھی نافذ العمل ہیں۔
عشروں پر محیط دشمنی اور پراکسی جنگوں کے بعد گزشتہ ہفتے ایران پر اسرائیلی حملے نے اب تک کی سب سے شدید جھڑپ کو جنم دیا ہے اور ایک طویل جنگ کے خدشات کو ہوا دی ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں نے ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جن میں کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر اور ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے ہیں۔
اتوار کو ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے منصوبے سے باز رہنے کی ہدایت کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے دونوں دشمن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدہ کریں، تاہم اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی کبھار انہیں پہلے لڑنا پڑتا ہے۔






















Comments
Comments are closed.