اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کے روز ڈرونز اور میزائلوں کو روک لیا جو مملکت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے، اس کے بعد جب ایران نے اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں بغیر کسی حد کے جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ رائل ایئر فورس کے طیاروں اور فضائی دفاعی نظام نے جمعے کی صبح متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا جو اردنی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد اردن کے دارالحکومت عمان میں فضائی حملے کے سائرن بجنے لگے، جبکہ عوامی سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔
عمان میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ ہدایت پر عمل کریں اور اپنے گھروں میں رہیں۔
اس سے قبل اردن نے کہا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا اور کسی بھی علاقائی تنازع میں جنگی میدان نہیں بنے گا۔
اکتوبر 2024 میں بھی اردن نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے متعدد ڈرونز اور میزائلوں کو روکا تھا۔
اردنی حکومت کے ترجمان محمد مومنی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اردن نے پہلے بھی اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی اور آئندہ بھی نہیں دے گا۔ مملکت کسی بھی تنازع کے لیے جنگی میدان نہیں بنے گی۔
دوسری جانب اردن نے اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سفیان قضاہ نے متنبہ کیا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
اردن نے اسرائیلی حملے کو اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی پامالی قرار دیا۔






















Comments
Comments are closed.