BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.15%)
KSE100 Increased By (0.97%)
KSE30 Increased By (0.86%)
BAFL 58.33 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 23.35 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
BOP 28.56 Increased By ▲ 0.46 (1.64%)
CNERGY 12.54 Increased By ▲ 0.26 (2.12%)
DFML 15.25 Increased By ▲ 0.18 (1.19%)
DGKC 185.50 Increased By ▲ 3.14 (1.72%)
FABL 92.99 Increased By ▲ 0.49 (0.53%)
FCCL 54.56 Increased By ▲ 0.75 (1.39%)
FFL 12.82 Increased By ▲ 0.02 (0.16%)
GGL 18.35 Increased By ▲ 0.24 (1.33%)
HBL 288.50 Increased By ▲ 3.33 (1.17%)
HUBC 196.11 Increased By ▲ 0.83 (0.43%)
HUMNL 8.45 Decreased By ▼ -0.03 (-0.35%)
KEL 5.75 Increased By ▲ 0.11 (1.95%)
LOTCHEM 23.60 Increased By ▲ 0.05 (0.21%)
MLCF 93.60 Increased By ▲ 1.64 (1.78%)
OGDC 304.00 Increased By ▲ 2.32 (0.77%)
PAEL 32.32 Increased By ▲ 0.51 (1.6%)
PIBTL 12.95 Increased By ▲ 0.17 (1.33%)
PIOC 239.10 Increased By ▲ 3.47 (1.47%)
PPL 214.25 Increased By ▲ 2.19 (1.03%)
PRL 85.70 Decreased By ▼ -1.56 (-1.79%)
SNGP 91.00 Increased By ▲ 0.99 (1.1%)
SSGC 22.90 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 6.55 Increased By ▲ 0.11 (1.71%)
TPLP 12.25 Increased By ▲ 0.09 (0.74%)
TRG 52.60 Increased By ▲ 0.73 (1.41%)
UNITY 7.74 Increased By ▲ 0.13 (1.71%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)
مارکٹس

استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 5 سالہ عمر کی پابندی ختم

  • مقامی آٹوموبائل صنعت کا ذاتی استعمال کیلئے گاڑیاں درآمد کرنے کی اسکیموں کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار
شائع اپ ڈیٹ

وزارت تجارت نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد 5 سالہ عمر کی پابندی یکم جولائی 2026 سے ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے، تاہم مقامی آٹوموبائل صنعت نے ذاتی استعمال کے لیے گاڑیاں درآمد کرنے کی اسکیموں کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت تجارت نے 30 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آفس میمورنڈم کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو آگاہ کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر لاگو عمر کی حد 30 جون 2026 کے بعد ختم ہوچکی ہے۔

یہ وضاحت ایف بی آر کے 23 اکتوبر 2026 کے مراسلے کے جواب میں جاری کی گئی، جس میں جون 2026 کے بعد کمرشل درآمدات پر عمر کی پابندی کے اطلاق سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔

وزارت تجارت کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ نے پاکستان کسٹمز ٹیرف کے تحت کوڈز 8702، 8703، 8704 اور 8711 میں شامل استعمال شدہ گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ 5 سالہ عمر کے ساتھ کمرشل درآمد کی اجازت 30 جون 2026 تک دی تھی۔ یہ اجازت وزارت صنعت و پیداوار کے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے مقرر کردہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد سے مشروط تھی۔

وزارت نے واضح کیا کہ یکم جولائی 2026 سے 5 سالہ عمر کی پابندی ختم ہے، تاہم درآمد کنندگان کو امپورٹ پالیسی آرڈر اور دیگر متعلقہ ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے حکومت سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے گفٹ اسکیم پر نظرثانی اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکریٹری تجارت کو لکھے گئے خط میں پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے کہا کہ گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ مقامی صنعت، روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

خط کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں کی تعداد مئی 2026 میں 7 تھی، جو جون میں بڑھ کر 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 ہوگئی۔ پاما کا دعویٰ ہے کہ ستمبر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں گفٹ اسکیم کا حصہ تقریباً 98 فیصد رہا، جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔

پاما نے کہا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حقیقی سہولت کے لیے متعارف کردہ ایس آر او 61(I)/2026 کی حمایت کرتی ہے، تاہم گاڑیوں کی تصدیق، منظوری اور نگرانی کے نظام کا جامع جائزہ ضروری ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کی آٹوموبائل صنعت نے مقامی پیداواری صلاحیت اور پرزہ جات کی تیاری کے فروغ پر ایک ہزار ارب روپے سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔ اس شعبے میں 31 سے زیادہ برانڈز، 100 سے زائد ماڈلز اور 13 پیداواری پلانٹس کام کررہے ہیں، جبکہ گاڑیوں کی مختلف اقسام میں مقامی پرزہ جات کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

پاما نے مزید کہا کہ درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور استعمال شدہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر 60 فیصد تک فرسودگی کی رعایت سے مقامی صنعت کی مسابقت متاثر ہورہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ گفٹ اسکیم کو صرف اس کے اصل مقصد تک محدود رکھنے کے لیے تصدیق اور نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف