BR100 Decreased By (-0.05%)
BR30 Increased By (0.02%)
KSE100 Decreased By (-0.04%)
KSE30 Decreased By (-0.12%)
BAFL 57.80 Decreased By ▼ -0.09 (-0.16%)
BIPL 23.25 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
BOP 28.65 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 13.82 Decreased By ▼ -0.26 (-1.85%)
DFML 15.71 Decreased By ▼ -0.02 (-0.13%)
DGKC 180.20 Decreased By ▼ -1.80 (-0.99%)
FABL 91.35 Decreased By ▼ -0.55 (-0.6%)
FCCL 52.17 Decreased By ▼ -0.44 (-0.84%)
FFL 12.95 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
GGL 19.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.72%)
HBL 294.35 Decreased By ▼ -0.55 (-0.19%)
HUBC 193.50 Decreased By ▼ -0.54 (-0.28%)
HUMNL 8.40 Increased By ▲ 0.03 (0.36%)
KEL 5.97 Increased By ▲ 0.01 (0.17%)
LOTCHEM 24.20 Decreased By ▼ -0.27 (-1.1%)
MLCF 90.69 Decreased By ▼ -0.34 (-0.37%)
OGDC 308.97 Increased By ▲ 2.76 (0.9%)
PAEL 32.89 Increased By ▲ 0.17 (0.52%)
PIBTL 13.19 Increased By ▲ 0.11 (0.84%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -0.56 (-0.24%)
PPL 214.60 Decreased By ▼ -0.92 (-0.43%)
PRL 98.59 Decreased By ▼ -2.22 (-2.2%)
SNGP 91.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
SSGC 22.90 Decreased By ▼ -0.24 (-1.04%)
TELE 6.92 Increased By ▲ 0.11 (1.62%)
TPLP 12.34 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
TRG 52.68 Decreased By ▼ -0.40 (-0.75%)
UNITY 8.06 Increased By ▲ 0.38 (4.95%)
WTL 0.97 Increased By ▲ 0.02 (2.11%)
اداریہ

ڈیجیٹل ترقی کیلئے ڈیٹا کی درستگی ناگزیر

  • پاکستان کے لیے، جہاں اعداد و شمار سے متعلق معلومات اب بھی مختلف سرکاری اداروں میں منتشر ہیں اور انہیں ہمیشہ یکساں معیارات کے مطابق جمع نہیں کیا جاتا
شائع اپ ڈیٹ

معاشی منصوبہ بندی، عوامی انتظامی امور اور خدمات کی فراہمی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایک پرانے مسئلے کو مزید نمایاں کردیا ہے کہ ٹیکنالوجی اسی حد تک مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جس حد تک وہ اس ڈیٹا پر انحصار کرتی ہے جسے استعمال کیا جارہا ہو۔

پاکستان کے لیے، جہاں اعداد و شمار سے متعلق معلومات اب بھی مختلف سرکاری اداروں میں منتشر ہیں اور انہیں ہمیشہ یکساں معیارات کے مطابق جمع نہیں کیا جاتا، اصل چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی درستگی اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے عزم کو بھی اہمیت دی جائے۔

اسلام آباد میں حال ہی میں منعقدہ اے آئی ٹیک ایکسپو میں ہونے والی گفتگو نے واضح کیا کہ اس معاملے کو قومی ترجیح بنانا کیوں ضروری ہے۔ تقریب میں جن اہم خدشات کی نشاندہی کی گئی، ان میں پاکستان کے شماریاتی نظام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ضابطوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت شامل تھی، جن میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے زیر استعمال معیارات بھی شامل ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے ڈائریکٹر رضوان بشیر نے شماریاتی ڈیٹا اینڈ میٹا ڈیٹا ایکسچینج (ایس ڈی ایم ایکس) کو اپنانے کی تجویز پیش کی۔ یہ ایک ایسا معیار ہے جو شماریاتی معلومات کے یکساں تبادلے اور ان کا باہمی موازنہ ممکن بناتا ہے۔ اس معیار سے ہم آہنگی کے نتیجے میں قومی ڈیٹا سیٹس زیادہ قابل رسائی اور مفید بن سکیں گے، جس سے پاکستانی پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر معاشی تجزیہ کرنے والوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس اقدام کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے تیار کردہ ڈیٹا سیٹس کے درمیان عدم مطابقت کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ پاکستان کے شماریاتی ڈھانچے کی ایک بنیادی کمزوری ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، صوبائی شماریاتی ادارے، وزارتیں اور دیگر سرکاری محکمے مختلف مقاصد کے لیے معلومات جمع کرتے ہیں، تاہم ان کے طریقہ کار، تعریفیں اور رپورٹنگ کے طریقے اکثر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ وسائل کی کمی، تکنیکی مہارت کی محدود دستیابی اور اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری اس عدم مطابقت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اعداد و شمار کے تضادات اہم معاشی اشاریوں کو متاثر کرسکتے ہیں، جن میں فی کس آمدنی سے لے کر مختلف شعبوں کی پیداوار تک شامل ہیں۔ اس سے معاشی جائزوں، وسائل کی تقسیم اور سرکاری اخراجات کے اثرات جانچنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ قابل موازنہ اور قابل تصدیق اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں پالیسی سازوں کو یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ وہ ملک کے حقیقی معاشی حالات کی غلط تصویر کی بنیاد پر فیصلے کریں۔

تاہم اس کے اثرات صرف معاشی پیمائش تک محدود نہیں بلکہ عوامی خدمات اور وسائل کی روزمرہ تقسیم تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تقریب میں ملک کے سابق چیف شماریات دان نے اس کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے پاکستان کی ڈیجیٹل مردم شماری کی صلاحیت کو اجاگر کیا اور بتایا کہ اس کے نتیجے میں 4 کروڑ سے زائد عمارتوں اور دیگر تعمیرات کی جغرافیائی نشاندہی (جیو کوڈنگ) کی گئی ہے۔

اس معلومات کو انتظامی ریکارڈ، معاشی سروے اور جغرافیائی ڈیٹا سیٹس کے ساتھ یکجا کرکے پالیسی ساز اس بات کی زیادہ درست تفہیم حاصل کرسکتے ہیں کہ کن علاقوں میں عوامی خدمات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی آبادی کو تعلیمی اداروں کے مقامات کے ساتھ نقشے پر یکجا کرنے سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کن علاقوں میں نئے اسکولوں کی ضرورت ہے۔

اسی طرح کے طریقہ کار سے صحت کی سہولتوں کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی اعداد و شمار درست ہوں اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری موجود ہو، تاکہ ان کے ریکارڈ تک رسائی ممکن بنائی جاسکے اور مختلف اداروں کی معلومات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہوں۔

اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ گہرائی سے شامل ہورہی ہے۔ اس لیے ڈیٹا کے معیار اور قابل اعتماد ہونے پر زیادہ توجہ دینا ناگزیر ہے۔ نامکمل، پرانی یا غیر یکساں معلومات پر تربیت یافتہ الگورتھمز غلطیوں کو دہرا سکتے ہیں اور گمراہ کن نتائج پیدا کرسکتے ہیں، جس سے ناقص تجزیے کو بھی سائنسی درستگی کا تاثر ملنے لگتا ہے۔

مصنوعی ذہانت ناقص شماریاتی بنیادوں کی خامیوں کو دور نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے برعکس، یہ صورت حال سخت جانچ پڑتال اور معیارات کو یکساں بنانے کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتی ہے، کیونکہ غلطیاں مختلف نظاموں میں دہرائی جاسکتی ہیں اور بڑے پیمانے پر فیصلوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ ڈیٹا کی ناقص درستگی پاکستان کی تکنیکی ترقی کے عملی فوائد کو بھی محدود کردیتی ہے، جس کے باعث کاروباری اداروں کو غیر ملکی ڈیٹا سیٹس پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو ممکن ہے کہ مقامی حالات کی درست عکاسی نہ کرتے ہوں۔ لہٰذا قابل اعتماد ملکی ڈیٹا تک رسائی ممکن بنانا انتہائی ضروری ہے۔

ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے وفاقی اور صوبائی اداروں میں شماریاتی معیارات کو یکساں بنانا ہوگا۔ اس عمل کے ساتھ شفاف معیار جانچنے کے طریقہ کار، باقاعدہ آڈٹ اور اعداد و شمار کو اپنی مرضی کے مطابق منتخب کرکے رپورٹ کرنے کے رجحان کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

اسی طرح سرکاری محکموں میں تربیت یافتہ شماریات دانوں، ڈیٹا سائنس دانوں اور تجزیہ کاروں کی بڑی تعداد کی ضرورت ہے، جو نہ صرف معلومات کی درستگی اور ساکھ کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ انہیں عملی پالیسی سازی کے لیے مفید معلومات میں بھی تبدیل کرسکیں۔ اس مہارت کو فروغ دینے کے لیے جامعات، سرکاری اداروں اور صنعتی شعبے کو باہمی تعاون کرنا ہوگا۔

پاکستان کے تکنیکی ترقی کے عزائم کی بنیاد ایک قابل اعتماد شماریاتی نظام پر ہونی چاہیے۔ معیاری، مستند اور قابل رسائی ڈیٹا معاشی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور جدید ٹیکنالوجیز کو زیادہ مفید بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف