معیشت کی صورتحال
- مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پاکستان کی معاشی نمو متاثر، مہنگائی میں اضافہ ہوا، جبکہ بانڈز کے اجرا سے توازنِ ادائیگی بہتر رہا، سرکاری مالیات کی مکمل تفصیلات تاحال دستیاب نہیں ہیں
قومی آمدنی اکاؤنٹس کمیٹی نے حال ہی میں مالی سال 2025-26 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے سہ ماہی اور سالانہ تخمینوں کو حتمی شکل دی ہے۔ ان میں مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی سہ ماہی تھی، اس لیے ملکی معیشت پر اس بڑے منفی دھچکے کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے حوالے سے افراطِ زر، صنعتی پیداوار کے حجمی اشاریے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی آمدنی اور ملک کے بیرونی توازنِ ادائیگی کے تازہ تخمینے بھی دستیاب ہیں۔
سب سے پہلے مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس سہ ماہی میں شرح نمو محض 2 فیصد رہی، جو تیسری سہ ماہی کے 4.4 فیصد اور مالی سال 2024-25 کی چوتھی سہ ماہی کے 6.1 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ اس سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے پاکستان کی معیشت کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں کن شعبوں اور ذیلی شعبوں کی مستقل قیمتوں پر قدرِ اضافی کی شرح نمو میں نمایاں کمی آئی؟ اس کی سب سے واضح مثال صنعتی شعبہ ہے۔ صنعتی ترقی کا عمل سست پڑنے کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 میں اس شعبے کی شرح نمو منفی 4.7 فیصد رہی، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ 14.9 فیصد اور مالی سال 2024-25 کی چوتھی سہ ماہی میں 20 فیصد تھی۔
اس منفی شرح نمو کی بنیادی وجہ دو ذیلی شعبے بنے۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی شرح نمو گزشتہ سہ ماہی کے 9.6 فیصد کے مقابلے میں صرف 0.4 فیصد رہی۔ اسی طرح بجلی اور گیس کے شعبے کی قدرِ اضافی میں 33.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل تیسری سہ ماہی میں بھی اس شعبے میں 18.9 فیصد کمی ہوئی تھی۔
مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی سست نمو کے بعد مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ میں بھی شرح نمو محض 1.8 فیصد رہی۔ کھاد کی پیداوار میں تقریباً 8 فیصد کی بڑی کمی ہوئی، جس کی ممکنہ وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے رسد کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد میں کمی ہے۔
مالی سال 2026-27 کے ابتدائی مہینوں میں تعمیراتی سرگرمیاں بھی سکڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سیمنٹ کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ لوہے اور اسٹیل کی پیداوار میں 11.5 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی کی ایک وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد نقل و حمل کے اخراجات میں ہونے والا نمایاں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
بجلی اور گیس کے ذیلی شعبے میں مالی سال 2025-26 کی آخری سہ ماہی کے دوران ہونے والی غیر معمولی گراوٹ کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ درآمدی ایندھن، بالخصوص مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قلت ہے، جبکہ دوسری وجہ اس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار اور گیس کی کھپت میں کمی ہے۔ ملک بھر میں حالیہ مہینوں کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بندش کے واقعات خصوصاً کراچی میں اس قلت کا واضح ثبوت ہیں۔
اب جائزہ لیتے ہیں کہ فروری 2026 کے بعد مہنگائی کی شرح میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی شرح فروری میں 7 فیصد تھی، جو بڑھ کر اپریل میں 10.9 فیصد اور اگست 2026 میں 11.1 فیصد ہوگئی۔
ہفتہ وار حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) اکتوبر 2026 کے تیسرے ہفتے میں تقریباً 12 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ستمبر 2026 میں یہ شرح 10.6 فیصد اور اگست میں 9.1 فیصد تھی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور اس کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات بڑھنا ہے۔ گندم کے آٹے کی قیمت میں 36 فیصد کے نمایاں اضافے نے بھی مہنگائی کی شرح بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے، جس سے عوام کے لیے غذائی تحفظ کا مسئلہ بھی متاثر ہوا ہے۔
مجموعی طور پر اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو محدود کر رہی ہے اور مہنگائی کو دوہرے ہندسے کی بلند سطح تک پہنچا رہی ہے۔ یہ صورتحال مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پیش کیے گئے پُرامید تخمینوں سے بالکل مختلف ہے۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اسی طرح آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد اور مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ لیکن حالیہ رجحانات کو دیکھتے ہوئے دونوں اداروں کے یہ تخمینے اب پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔
اب معیشت کے استحکام کے اہم اشاریوں، بیرونی شعبے کے توازنِ ادائیگی اور بجٹ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے توازنِ ادائیگی کے اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق توازنِ ادائیگی میں 3.1 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے۔
تاہم یہ بہتری جاری کھاتے میں نمایاں بہتری یا غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا نتیجہ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ 3 ارب ڈالر کے بانڈ کا کامیاب اجرا ہے، جو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کا خسارہ 755 ملین ڈالر تھا، جو مالی سال 2026-27 کی اسی سہ ماہی میں معمولی اضافے کے ساتھ 874 ملین ڈالر ہوگیا مگراس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی مقدار میں 21 فیصد سے زیادہ اور خام تیل کی درآمدات میں 7 فیصد کمی ہوئی۔ اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی رسدی رکاوٹیں تھیں۔ مزید یہ کہ ایل این جی بھی درآمد نہیں کی گئی۔
نتیجتاً جاری کھاتے کا خسارہ حقیقی صورتحال کے مقابلے میں مصنوعی طور پر کم دکھائی دے رہا ہے۔ معمول کے حالات میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمدات 800 ملین ڈالر سے زیادہ رہتیں، جس سے جاری کھاتے کا خسارہ تقریباً دوگنا ہوجاتا۔ قلت بڑھنے کے ساتھ پاکستان کو خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمدات میں اضافے کے لیے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔
آخر میں سرکاری مالیات کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ وفاقی وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی آپریشنز کے اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے۔
تاہم وزارتِ خزانہ کی ماہانہ اقتصادی صورتحال اور جائزہ رپورٹ جاری ہوچکی ہے۔ بظاہر جولائی 2026 میں بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 3,053 ارب روپے کا محصولات کا ہدف حاصل کیے جانے سے یہ سرپلس برقرار رہ سکتا ہے لیکن محصولات میں اضافہ صرف 7 فیصد رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ جب مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہو تو ٹیکس کی مختلف بنیادیں حقیقی معنوں میں 3 فیصد سکڑ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی نسبتاً کم شرح نمو کے امکان کی تائید کرتی ہے۔
مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستانی معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی آئی ہے، جبکہ مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بانڈز کے اجرا کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالی وسائل تک رسائی کے باعث توازنِ ادائیگی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سرکاری مالیات کی صورتحال کے بارے میں تاحال کافی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments