BR100 Decreased By (-0.56%)
BR30 Decreased By (-0.63%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.74%)
BAFL 55.56 Decreased By ▼ -0.32 (-0.57%)
BIPL 24.41 Decreased By ▼ -0.07 (-0.29%)
BOP 28.15 Decreased By ▼ -0.38 (-1.33%)
CNERGY 12.41 Decreased By ▼ -0.47 (-3.65%)
DFML 15.73 Decreased By ▼ -0.05 (-0.32%)
DGKC 179.63 Increased By ▲ 0.60 (0.34%)
FABL 91.03 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
FCCL 51.66 Increased By ▲ 0.36 (0.7%)
FFL 13.90 Decreased By ▼ -0.16 (-1.14%)
GGL 19.34 Decreased By ▼ -0.15 (-0.77%)
HBL 286.55 Decreased By ▼ -3.22 (-1.11%)
HUBC 191.31 Decreased By ▼ -1.53 (-0.79%)
HUMNL 8.69 Decreased By ▼ -0.46 (-5.03%)
KEL 5.72 Decreased By ▼ -0.29 (-4.83%)
LOTCHEM 24.25 Decreased By ▼ -0.70 (-2.81%)
MLCF 89.64 Increased By ▲ 0.41 (0.46%)
OGDC 300.01 Increased By ▲ 0.54 (0.18%)
PAEL 33.01 Decreased By ▼ -0.61 (-1.81%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.29 (-2.15%)
PIOC 231.29 Increased By ▲ 1.16 (0.5%)
PPL 214.32 Decreased By ▼ -4.53 (-2.07%)
PRL 101.44 Decreased By ▼ -7.37 (-6.77%)
SNGP 92.43 Increased By ▲ 2.71 (3.02%)
SSGC 23.15 Increased By ▲ 0.38 (1.67%)
TELE 6.98 Decreased By ▼ -0.06 (-0.85%)
TPLP 11.69 Increased By ▲ 0.16 (1.39%)
TRG 57.13 Decreased By ▼ -0.49 (-0.85%)
UNITY 7.90 Decreased By ▼ -0.21 (-2.59%)
WTL 0.93 Decreased By ▼ -0.02 (-2.11%)
رائے

میدان کس نے سجایا؟ — اول

  • بینکار صرف اس میدان میں کھیل نہیں رہے، بلکہ انہوں نے خود اس کی بنیاد رکھی، اس کے قواعد مرتب کیے اور اسے اپنے مفادات کے مطابق ڈھالا۔ آج وہ اسی نظام کے سب سے بڑے مستفید بھی ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں بینکاری کے شعبے کی نجکاری نے مضبوط بینک تو پیدا کیے، مگر ایک جامع اور مسابقتی مالیاتی نظام تشکیل نہیں دیا۔ بینکوں کے مالکان نے کھاتہ داروں کی رقوم حکومت کو قرض دینے سے خوش حالی حاصل کی، جبکہ بچت کرنے والوں کو معمولی منافع ملتا ہے اور چھوٹے کاروباروں کو قرض تک رسائی نہیں ملتی۔

میں نے اس دور میں بھی بینکوں کی نجکاری کی حمایت کی تھی جب یہ کوئی مقبول خیال نہیں تھا، اور آج بھی اس کی حمایت کروں گا۔ کوئی صاحبِ عقل شخص 1980ء کی دہائی کے قومی تحویل میں لیے گئے بینکوں کی واپسی نہیں چاہے گا، جہاں سیاسی بنیادوں پر قرض دیے جاتے تھے اور کھاتوں کی حالت ابتر تھی۔ لیکن کسی اصلاح کے نتائج جانچنے کے لیے 30 سال ایک طویل مدت ہے، اور اس کا نتیجہ یک طرفہ رہا ہے۔ ہمیں مضبوط بینک تو ملے، مگر مالیاتی نظام نہیں ملا۔ بینکوں کے مالکان نے کھاتہ داروں کی رقوم حکومت کو قرض دے کر خوش حالی حاصل کی ہے۔

بچت کرنے والے کو معمولی منافع ملتا ہے، چھوٹے کاروبار کو قرض نہیں ملتا، جبکہ بینک ان دونوں کے درمیان چھ فیصد سے زیادہ شرحی فرق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ظفر مسعود نے ان صفحات میں دو حصوں پر مشتمل اپنے مضمون میں بینکوں کا جس شائستگی سے دفاع کیا ہے، اس کے کئی نکات درست بھی ہیں۔ راست نظام کام کر رہا ہے، بینکوں کی مالیاتی صورتِ حال مستحکم ہے، بینک بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں اور مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے قواعد چُندریگر روڈ پر نہیں بنائے گئے تھے۔ میں ان تمام باتوں کو تسلیم کرتا ہوں۔

تاہم، جس نکتے سے میں اتفاق نہیں کرتا، وہ ان کا بار بار یہ مؤقف اختیار کرنا ہے کہ مالیاتی خسارہ، غیر رسمی معیشت، محدود ٹیکس بنیاد، صارفین کی شناخت کے ضوابط (کے وائی سی) اور پنشن فنڈز کی عدم موجودگی، یہ سب اس ’’میدان‘‘ کا حصہ ہیں جس پر بینک محض کھیل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہمسایہ ممالک کے بینکوں کو بھی اسی میدان میں اتارا جائے تو وہ بھی ہمارے بینکوں جتنا ہی کم قرض دیں گے۔

ممکن ہے ایسا ہی ہو، لیکن میدان کوئی قدرتی موسم نہیں جسے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ میدان کی ترتیب کوئی نہ کوئی طے کرتا ہے۔

میدان کے رکھوالے

پاکستان کی معاشی پالیسی چلانے کے اتنے مواقع کسی دوسرے پیشے کو نہیں ملے جتنے بینکاری کے شعبے کو حاصل ہوئے ہیں۔ شوکت عزیز سٹی بینک سے آ کر پہلے وزارتِ خزانہ اور پھر حکومت کے سربراہ بنے۔ شوکت ترین دو مرتبہ وزیرِ خزانہ رہے۔ محمد اورنگزیب نے 2024ء میں وزارتِ خزانہ کا قلم دان سنبھالنے سے پہلے ایچ بی ایل کی سربراہی کی اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی رہے۔

وزیروں سے نچلی سطح پر بینکار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بورڈ اور اس کی کمیٹیوں میں شامل ہیں، ضابطہ ساز اداروں کی سربراہی کرتے ہیں یا ان کے بورڈز کا حصہ ہیں، بیشتر ترقیاتی مالیاتی ادارے چلاتے ہیں اور ان کمپنیوں کے بورڈز میں بھی بیٹھتے ہیں جنہیں وہ قرض دیتے ہیں۔ وزیر بدل جاتے ہیں، مگر یہ نیٹ ورک برقرار رہتا ہے۔

چنانچہ بینکار صرف اس میدان میں کھیلتے نہیں رہے بلکہ انہوں نے خود اس کی بنیاد رکھی، اس کی حدود متعین کیں اور قواعد و ضوابط کا بڑا حصہ بھی لکھا۔ ٹیکس کا نظام ہو، قرض لینے کی حکمتِ عملی یا یہ طے کرنے والے قواعد کہ کون قرض دے سکتا ہے، مالیاتی لین دین کر سکتا ہے اور مسابقت میں حصہ لے سکتا ہے؛ ہر معاملے میں یا تو کسی بینکار نے قلم سنبھالا یا وہ اس شخص کے ساتھ بیٹھا رہا جس کے ہاتھ میں قلم تھا۔ کھیل کے قواعد خود بنانے کے بعد وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تو محض اسی کھیل میں حصہ لے رہے ہیں جو انہیں ملا تھا۔

میں کسی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا رہا، بلکہ ایک سادہ سا سوال اٹھا رہا ہوں۔ بینکاروں کی موجودگی میں بھی ٹیکس کی بنیاد محدود، مالیاتی خسارہ بڑا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا عمل اختیاری کیوں رہا؟ ان کے پاس سرمایہ کاری کے لیے سازگار ٹیکس نظام اور سرکاری اخراجات پر حقیقی کنٹرول کے لیے آواز اٹھانے کے پورے مواقع تھے۔ یہ دونوں اقدامات ایسی ریاست کے لیے واحد مؤثر علاج ہیں جس کی قرضوں کی بھوک معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ ان کے پاس مالیاتی شعبے کو مسابقت کے لیے کھولنے کے بھی پورے مواقع تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ آخر کیوں؟

عملی آزمائش

ظفر مسعود کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ بینک ہر اس قرض خواہ کو قرض دیتے ہیں جس کے بارے میں انہیں معلومات دستیاب ہوں، اور انہیں قرض دینے سے روکنے والی اصل رکاوٹ فنڈز کی کمی نہیں بلکہ کاروباروں اور لین دین کی دستاویزات کا فقدان ہے۔ 2024ء میں اس دعوے کو عملی طور پر آزمانے کا موقع ملا، مگر یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا۔

اس سال میدان نہیں بدلا تھا، ٹیکس کا ضابطہ بدلا تھا۔ جس بینک کے قرضے 31 دسمبر کو اس کے ڈپازٹس کے نصف سے کم تھے، اسے سرکاری تمسکات سے حاصل ہونے والی آمدن پر 10 سے 16 فیصد اضافی ٹیکس کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد قرضوں اور ڈپازٹس کا تناسب اگست میں 38.4 فیصد سے بڑھ کر دسمبر کے اوائل میں 49.7 فیصد اور سال کے اختتام تک تقریباً 52 فیصد ہو گیا۔

جولائی سے نومبر کے وسط تک بینکوں نے نجی شعبے کو 880 ارب روپے کے قرضے دیے، جبکہ ایک سال پہلے انہی مہینوں میں نجی قرض خواہوں نے نئے قرضوں کے مقابلے میں 82 ارب روپے زیادہ واپس کیے تھے۔

غیر بینکی مالیاتی کمپنیوں کو دیے جانے والے قرضے بھی تقریباً چھ گنا بڑھ کر 1.46 کھرب روپے ہو گئے۔

اس کے بعد بینک عدالتوں میں چلے گئے اور بینکاری کی صنعت نے مذاکرات کے ذریعے اضافی ٹیکس ختم کروا کر اس کی جگہ یکساں 44 فیصد شرح پر اتفاق کر لیا، جسے بعد میں کم کرکے 42 فیصد کر دیا گیا۔ 2025ء کی پہلی ششماہی میں بینکوں کے قرضوں میں تقریباً 15 فیصد کمی آئی۔ جون تک اسٹیٹ بینک کے اپنے جائزے کے مطابق قرضوں اور ڈپازٹس کا تناسب گھٹ کر 35.3 فیصد رہ گیا، جو 2014ء کے بعد کم ترین سطح تھی۔

2024ء کے آخری مہینوں میں قرضوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کا بڑا حصہ محض اعداد و شمار بہتر دکھانے کی کوشش تھا۔ اسے تسلیم کر لینے سے بھی بنیادی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ جب سرکاری تمسکات سے حاصل ہونے والی آمدن کو خطرہ لاحق ہوا تو بینکوں نے صرف ایک سہ ماہی میں ایک کھرب روپے سے زیادہ کے قرضوں کے لیے قرض خواہ تلاش کر لیے، لیکن خطرہ ٹلتے ہی ان کی دلچسپی ختم ہو گئی۔ قرض لینے والے اچانک نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے تھے۔ ترغیبات تبدیل ہوئیں، اور بینکوں میں اتنا اثر و رسوخ تھا کہ وہ انہیں دوبارہ اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کروا سکتے تھے۔

مالیاتی نظام کی گہرائی سے کیا مراد ہے؟

ظفر مسعود اور میں اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ بینکوں پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم، اس کی وجوہات کے بارے میں ہمارا اختلاف ہے، اور اس اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ مالیاتی نظام کی گہرائی سے ہماری مراد کیا ہے۔

معمول کے پیمانے بھی پاکستان کی کمزوری ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے کو بینکوں کے قرضے 1990ء میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 24 فیصد، 2008ء میں 29 فیصد اور 2020ء میں 17 فیصد کے برابر تھے۔ اسٹیٹ بینک کے نسبتاً محدود پیمانے کے مطابق مالی سال 2025ء میں یہ شرح صرف 8.7 فیصد رہی۔ گزشتہ سال اسٹاک مارکیٹ کی مجموعی مالیت جی ڈی پی کے 17.3 فیصد کے برابر تھی، جو 2007ء کی سطح سے بھی کم ہے۔ خود ظفر مسعود کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنشن اثاثے جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔

لیکن یہ تناسب محض علامات ہیں۔ ایک گہرے اور ترقی یافتہ مالیاتی نظام میں بچت کرنے والوں کے پاس قرض لینے والوں تک رقوم پہنچانے کے متعدد راستے ہوتے ہیں، جبکہ قرض خواہوں کو بھی بچت کرنے والوں سے سرمایہ حاصل کرنے کے کئی ذرائع دستیاب ہوتے ہیں۔ لیزنگ اور ہاؤسنگ فنانس کمپنیاں، کریڈٹ فنڈز، کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ، وینچر کیپیٹل، طویل مدتی سرمایہ کاری کے خواہش مند پنشن فنڈز اور ادائیگیوں کے ڈیٹا کی مدد سے قرض خواہوں کے خطرات کا تعین کرنے والے مالیاتی ٹیکنالوجی کے ادارے، یہ سب ڈپازٹس اور قرض خواہوں کے حصول کے لیے بینکوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یہی مسابقت شرحِ سود کے فرق کو کم کرتی اور مالیاتی ذرائع و سہولتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ مالیاتی نظام کی گہرائی اور مسابقت دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

پاکستان میں دستیاب راستوں کو گنیے۔ بچت کرنے والے کے پاس بینک، نیشنل سیونگز، عموماً کسی بینک کی ملکیت میں موجود اور اسی کی شاخوں کے ذریعے فروخت ہونے والا منی مارکیٹ فنڈ، یا پھر پلاٹ، سونا اور ڈالر خریدنے کے راستے ہیں۔ کسی کاروبار کو قرض لینا ہو تو اس کے پاس بینک سے رجوع کرنے یا بالکل قرض نہ لینے کے سوا کوئی مؤثر متبادل نہیں۔ پاکستان کی مالیاتی منڈی محض اتفاقاً بینکوں کے گرد نہیں گھومتی اور اسی وجہ سے محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس لیے محدود ہے کہ اس کا مرکز بینک ہیں۔

مفادات کا سمجھوتہ

اس صورتِ حال کے پیچھے مفادات کا ایک سمجھوتا کارفرما ہے۔ بھاری قرض لینے والی حکومت کو بچتوں کے ایسے ذخیرے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر اس کا قابلِ اعتماد اختیار ہو۔ مالیاتی غلبے کی صورت میں کام کرنے والا مرکزی بینک صرف معمول کے طریقوں سے مہنگائی اور روپے کی قدر کو مستحکم نہیں رکھ سکتا۔ اس کے قواعد کا جواز مالیاتی احتیاط اور منی لانڈرنگ کی روک تھام بتایا جاتا ہے، اور ان میں سے بہت سے قواعد واقعی ضروری بھی ہیں۔

تاہم، ان قواعد کے پیچھے نیت کچھ بھی ہو، ان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک کی زیادہ سے زیادہ رقوم بینکوں کے ذریعے گردش کرتی ہیں، جہاں ان کا سراغ لگانا، ان کی قیمت متعین کرنا اور انہیں مطلوبہ سمت میں موڑنا ممکن ہوتا ہے۔ ریاست کو سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع سے قرض مل جاتا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کو مالیاتی نظام پر اثرانداز ہونے کے اپنے ذرائع حاصل رہتے ہیں۔

بینکوں کو اس انتظام میں تحفظ ملتا ہے۔

اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اس نظام کے مرکز میں کون بیٹھا ہے۔ جون 2025ء کے اختتام پر بینکوں کے پاس حکومت کے 46.6 کھرب روپے کے مجموعی تمسکات میں سے 38.7 کھرب روپے کے تمسکات تھے، یعنی 83 فیصد۔ اسی مہینے ان کی سرمایہ کاری، جس کا بڑا حصہ سرکاری تمسکات پر مشتمل تھا، ان کے مجموعی ڈپازٹس سے بھی بڑھ گئی۔ بینکوں کی سرمایہ کاری 36.6 کھرب روپے جبکہ ڈپازٹس 35.5 کھرب روپے تھے۔

تحفظ کی ابتدا ہی داخلے کے مرحلے سے ہو جاتی ہے۔ 2013ء سے کسی نئے کمرشل بینک کے لیے کم از کم 10 ارب روپے کا سرمایہ رکھنا ضروری ہے۔ یہی شرط ایک چھوٹے، مخصوص نوعیت کے قرض دہندہ ادارے پر بھی لاگو ہوتی ہے اور ملک گیر بینک پر بھی۔ میری معلومات کے مطابق آخری نیا کمرشل بینک بینک آف چائنا تھا، جسے سی پیک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2017ء میں لائسنس دیا گیا۔

ڈیجیٹل بینکوں کو اس شعبے میں نسبتاً کم لاگت سے داخلے کا ذریعہ بننا تھا۔ 40 سے زیادہ اداروں نے درخواستیں دیں اور جنوری 2023ء میں پانچ اداروں کا انتخاب کیا گیا۔ تقریباً چار سال گزرنے کے باوجود ان میں سے صرف تین کام کر رہے ہیں، جبکہ حقیقی معنوں میں نیا صرف ایک بینک، رقمی، ہے۔

ہیوگو بینک کو بھی رواں سال اگست میں صرف محدود پیمانے پر آزمائشی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔

اس شعبے سے نکلنے کے راستے بھی اتنے ہی سختی سے قابو میں رکھے گئے ہیں۔ پاکستان میں بینک ناکام ہو کر بند نہیں ہوتے، بلکہ انہیں کسی دوسرے بینک میں ضم کر دیا جاتا ہے۔ سلک بینک، جس کے اثاثوں پر واجبات کا بوجھ 13.9 ارب روپے زیادہ تھا، مارچ 2025ء میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں ضم کر دیا گیا۔

ظفر مسعود جن غیر ملکی بینکوں کا حوالہ کھلی منڈی کے ثبوت کے طور پر دیتے ہیں، وہ بھی پہلے سے موجود بینکوں نے خرید لیے۔ آر بی ایس کو فیصل بینک، ایچ ایس بی سی کو میزان بینک اور بارکلیز کے ساتھ سٹی بینک کا صارفین سے متعلق کاروبار ایچ بی ایل نے خرید لیا، جو ملک کا سب سے بڑا بینک ہے۔ ہر بار کسی بینک کے اس شعبے سے نکلنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے سے موجود کسی بینک کا حجم مزید بڑھ گیا۔

باقی تمام مالیاتی سرگرمیوں کو بھی بینکوں کے ذریعے گزارا جاتا ہے۔ سرکاری قرضوں کی نیلامیوں میں صرف بنیادی ڈیلرز بولی لگا سکتے ہیں، اور مالی سال 2026-27ء کے لیے ایسے 10 میں سے نو ادارے بینک ہیں۔ الیکٹرانک رقوم کے کھاتے رکھنے والے ادارے صارفین کی رقوم تو رکھ سکتے ہیں، لیکن نہ ان رقوم کو قرض دے سکتے ہیں اور نہ ان پر منافع ادا کر سکتے ہیں؛ ان کے فنڈز بھی بینکوں میں ہی رکھے جاتے ہیں۔

قرض دینے والی غیر بینکی مالیاتی کمپنیاں ڈپازٹس وصول نہیں کر سکتیں، اس لیے انہیں بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ ایکسچینج کمپنیوں کو بھی اپنے مالیاتی لین دین کی تصفیہ کاری بینکوں کے ذریعے کرنا ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بڑے بینکوں کو اپنی ایکسچینج کمپنیاں قائم کرنے کی ہدایت بھی دی تھی، جس کے نتیجے میں اب 36 میں سے 12 ایکسچینج کمپنیاں بینکوں کی پشت پناہی رکھتی ہیں۔

ظفر مسعود جس میوچل فنڈز کی تیز رفتار ترقی کو سراہتے ہیں، وہ بھی بینکوں ہی کے ذریعے چل رہی ہے۔ بینکوں سے وابستہ آٹھ اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں تقریباً 75 فیصد اثاثوں کی مالک ہیں، جبکہ ان فنڈز میں موجود تقریباً 70 فیصد رقم منی مارکیٹ اور انکم فنڈز میں لگی ہوئی ہے، جن کی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ سرکاری تمسکات پر مشتمل ہے۔ یوں سرکاری قرضوں میں سرمایہ کاری کو ایک نئی شکل دے دی گئی ہے۔

ان میں سے ہر ضابطے کے حق میں کوئی نہ کوئی دلیل دی جا سکتی ہے۔ لیکن جب ان سب کو یکجا کیا جائے تو صورتِ حال یہ بنتی ہے کہ ایسا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا جو کسی بینک سے ہو کر نہ گزرتا ہو۔

یہی وہ میدان ہے۔ بینکار اتفاقاً اس میدان میں نہیں آ گئے تھے؛ انہوں نے خود اسے تعمیر کرنے میں مدد دی، اور آج اس کے سب سے بڑے مستفید بھی وہی ہیں۔

جاری ہے: دوسرا حصہ — اس انتظام کی قیمت کون ادا کر رہا ہے اور کیا تبدیلیاں ضروری ہیں؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026ء

Comments

200 حروف