پاکستان کی معیشت بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
- پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، مہنگائی میں نمایاں کمی، گورنر جمیل احمد کی عالمی سرمایہ کاروں کو بریفنگ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے عالمی سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورت حال بہتر ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوگئے ہیں اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے معیشت کی بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے۔
تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے اس بہتری کا سہرا مسلسل مؤثر معاشی پالیسیوں اور ساختی اصلاحات کو دیا۔
ہفتے کے روز جاری اسٹیٹ بینک کی پریس ریلیز کے مطابق ان اجلاسوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے سرکردہ عہدیداروں نے شرکت کی، جن میں جے پی مورگن، سٹی بینک، جیفریز، ڈوئچے بینک، بارکلیز، بینک آف امریکا، ایم ایس سی آئی، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور مٹسوبشی یو ایف جے فنانشل گروپ شامل ہیں۔ گورنر نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی شراکت داروں، مرکزی بینکوں اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
جمیل احمد نے بتایا کہ مالی سال 2023 میں بلند سطح پر پہنچنے والی مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے اور مالی سال 2026 میں یہ شرح ہدف کی حد کے قریب آگئی ہے، حالانکہ اس دوران تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023 میں سکڑنے والی معیشت کی شرح نمو میں بھی بتدریج بحالی ہوئی اور مالی سال 2026 میں یہ 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ مالی سال 2027 میں معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ملک کے بیرونی مالیاتی تحفظات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر، جو فروری 2023 میں 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے، 9 اکتوبر 2026 تک بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی مستقبل میں ادائیگیوں کی ذمہ داریاں 5.7 ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئی ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق اس بہتری کی بنیادی وجہ اس کی جانب سے زرمبادلہ کی خریداری رہی، جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں صرف معمولی اضافہ ہوا۔ یہ خریداری مالی سال 2026 میں جاری کھاتے کے تقریباً متوازن رہنے کے باعث ممکن ہوئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ضابطہ جاتی اصلاحات، بالخصوص ایکسچینج کمپنیوں کے حوالے سے اقدامات اور ترسیلاتِ زر کو قانونی ذرائع سے بھیجنے کی حوصلہ افزائی نے بین البینک زرمبادلہ مارکیٹ میں نقد رقوم کی دستیابی کو بھی بہتر بنایا ہے۔
مرکزی بینک کو توقع ہے کہ زرمبادلہ کی خریداری کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ مالی سال 2027 میں جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہنے کا امکان ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی مالیاتی صورت حال بھی مضبوط ہوئی ہے اور مالی سال 2026 میں بنیادی مالیاتی توازن مسلسل تیسرے سال سرپلس میں رہا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں سرکاری قرضوں کا تناسب بھی مسلسل کم ہو رہا ہے۔
جمیل احمد نے سرمایہ کاروں کو یہ بھی بتایا کہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور لچک و پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف) کے تحت جائزوں کے حوالے سے پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر مسلسل عمل درآمد سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا ہے، پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ كی بہتری میں مدد ملی ہے اور عالمی سطح پر مشکل معاشی حالات کے باوجود بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔
گورنر نے کہا کہ پاکستان کے معاشی بنیادی اشاریے مضبوط ہیں اور محتاط پالیسیوں کے امتزاج نے گزشتہ تین برسوں کے دوران متعدد معاشی جھٹکوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جاری جغرافیائی سیاسی صورت حال چیلنجز پیدا کر رہی ہے، تاہم بیرونی دباؤ کے سابقہ ادوار کے مقابلے میں پاکستان اب تازہ ترین جھٹکے کو برداشت کرنے کی کہیں بہتر پوزیشن میں ہے۔
جمیل احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسٹیٹ بینک مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنے، بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ساختی اصلاحات آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔


Comments