پاکستان قلیل مدتی بیرونی قرضوں کی ری فنانسنگ کرے گا، محمد اورنگزیب
- رواں سال بیرونی مالیاتی ضروریات کے فرق کو ہر صورت پورا کرنا بنیادی مقصد نہیں، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ دو سے تین سال کے دوران اپنے قلیل مدتی بیرونی قرضوں کے کچھ حصے کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ قرضوں کی بروقت ادائیگی اور ان کی مدت میں توسیع سے متعلق خطرات کم کیے جاسکیں۔ تاہم، ملک کے مجموعی بیرونی قرضے جن کا حجم تقریباً 100 ارب ڈالر ہے کو موجودہ سطح کے قریب برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
پیر کو بلومبرگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں سال بیرونی مالیاتی ضروریات کے فرق کو ہر صورت پورا کرنا بنیادی مقصد نہیں، بلکہ آئندہ دو سے تین سال میں قلیل مدتی بیرونی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، تاکہ پاکستان کو قرضوں کی مدت پوری ہونے پر بار بار تجدید یا نئے قرضوں کے حصول کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بلومبرگ کے پروگرام ی چائنا شو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنے مجموعی بیرونی قرضوں کو تقریباً 100 ارب ڈالر کی موجودہ سطح کے قریب رکھنا چاہتا ہے، تاہم قرضوں کی ری فنانسنگ، مالیاتی ذرائع میں تنوع اور ادائیگی کی مدت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کرنے کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان رواں مالی سال بانڈز کے اجرا میں جلد بازی نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اسلامی سکوک اور پہلی مرتبہ ڈالر میں تصفیے، لیکن روپے میں مالیت رکھنے والے بانڈز کے اجرا کے لیے انتظامات شروع کردیے ہیں۔ ان کے مطابق ان بانڈز میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئندہ مرحلے میں باقی پانڈا بانڈز کے اجرا کے لیے درخواستِ پیشکش (آر ایف پی) جاری کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ حکومت پہلی مرتبہ موجودہ یورو بانڈز کو ٹوکنائز کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے گی۔
وزیر خزانہ گزشتہ ہفتے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک روانہ ہوئے جہاں وہ 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک ہونے والے ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
دورے کے دوران وزیر خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک گروپ کی اہم تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس موقع پر وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، وزرائے خزانہ، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور سرگرمیوں پر مشتمل وسیع پروگرام میں شرکت کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب گامزن ہے، جبکہ ملک میں ساختی اصلاحات پر پیش رفت اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔


Comments