بورنگ بانڈز کو آخر کیا ہوگیا؟
- مالیاتی منڈیوں کے نسبتاً محفوظ اور محتاط سمجھے جانے والے حصے میں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی، ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک حال ہی میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں
مالیاتی منڈیوں کے نسبتاً محفوظ اور محتاط سمجھے جانے والے حصے میں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک حال ہی میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچے ہیں، تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے، رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے ایک اور شرحِ سود میں اضافے کی توقع محض ایک ہفتے میں تقریباً ختم ہوگئی ہے، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز تقریباً 25 سال کی بلند ترین سطحوں کے قریب برقرار ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کار اب حکومتی قرضوں کی نیلامیوں کا بھی اسی شدت سے جائزہ لے رہے ہیں، جو عموماً مہنگائی کے اعداد و شمار اور فیڈ کے اجلاسوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔
آخر پُرسکون سمجھے جانے والے بانڈز کو کیا ہوگیا؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ امریکی ٹریژری بانڈز کو عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی قیمت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ رہن، کارپوریٹ قرضے، ڈیریویٹو اور دیگر بے شمار مالیاتی اثاثوں کی قیمتیں انہی کے مقابلے میں طے ہوتی ہیں، جبکہ ٹریژری بانڈز فنڈنگ اور ضمانتی منڈیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر امریکی حکومتی قرضے رکھنے کے لیے سرمایہ کار جس قیمت کا مطالبہ کرتے ہیں، اس حوالے سے غیر یقینی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
نیویارک فیڈ کے مطابق 10 سالہ ٹریژری بانڈ کا ٹرم پریمیم، یعنی طویل مدتی قرض رکھنے میں موجود غیر یقینی کے بدلے سرمایہ کاروں کی جانب سے طلب کیا جانے والا اضافی معاوضہ بڑھ کر 96 بیسس پوائنٹس ہوگیا ہے، جو 12 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ ایک اہم اشارہ ہے۔ سرمایہ کار بیک وقت مہنگائی، حکومت کی جانب سے بھاری قرض لینے کی ضروریات، مضبوط معاشی نمو، مستقبل کی فیڈ پالیسی اور بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ پر تشویش کا شکار ہیں۔ اب ٹریژری بانڈز کی نیلامیاں بھی، جو عموماً مالیاتی دنیا کے انتہائی معمولی واقعات میں شمار ہوتی ہیں، مارکیٹ میں بے چینی پیدا کرنے لگی ہیں۔
23 ستمبر کو ہونے والی 70 ارب ڈالر مالیت کی پانچ سالہ ٹریژری نوٹس کی نیلامی اس کی مثال ہے۔ بولی کے مقابلے میں طلب کا تناسب یعنی بِڈ ٹو کور ریشو، 9 سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔
نیلامی میں بانڈز کی حتمی ییلڈ بولی ختم ہونے کے وقت مارکیٹ میں موجود ییلڈ سے 3 بیسس پوائنٹس سے زیادہ رہی، جو پانچ سالہ قرض کے لیے غیر معمولی طور پر بڑا ’’آکشن ٹیل‘‘ تھا۔ جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق آخری بار پانچ سالہ بانڈ کی نیلامی میں 3 بیسس پوائنٹس کا ٹیل 2011 میں دیکھا گیا تھا، جب قرض کی حد کا بحران جنم لے رہا تھا اور اسی سال کے بعد امریکا کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کی گئی تھی۔
نیلامی اس قدر تشویش کا باعث بنی کہ اس نے اپریل 2025 کے بعد بانڈ ییلڈز میں سب سے تیز اضافے کو ہوا دی، جبکہ اس کے بعد ییلڈز میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
کوئی سنجیدہ حلقہ یہ توقع نہیں رکھتا کہ امریکی محکمہ خزانہ اپنے قرضے فروخت کرنے میں ناکام ہوجائے گا۔ پرائمری ڈیلرز مؤثر طور پر نیلامی کے نظام کو سہارا دیتے ہیں۔ تاہم زیادہ اہم سوال اب یہ بنتا جارہا ہے کہ سرمایہ کار امریکی قرضے کس قیمت پر خریدنے پر آمادہ ہوں گے؟
اس سوال کا ایک بار پھر اس ہفتے امتحان ہورہا ہے، جب واشنگٹن تقریباً 120 ارب ڈالر مالیت کے 3، 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز فروخت کررہا ہے۔ تقریباً 5 فیصد یا اس سے زیادہ ییلڈ خریداروں کو راغب کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے لیکن ان معمول کی نیلامیوں کے گرد غیر معمولی بے چینی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بانڈ مارکیٹ کتنی ڈرامائی طور پر تبدیل ہوچکی ہے۔
فیڈ بھی صورتحال کو سمجھنے میں آسانی پیدا نہیں کررہا۔ اس نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرحِ سود میں اضافہ کیا، تاہم اکتوبر میں ایک اور اضافے کی توقع ایک ہفتے قبل تقریباً 50 فیصد سے گر کر 20 فیصد رہ گئی ہے۔ معاشی اعداد و شمار میں نرمی اور بعض پالیسی سازوں کے نسبتاً کم جارحانہ بیانات نے توقعات کو غیر معمولی تیزی سے تبدیل کردیا ہے، جبکہ مارکیٹیں اب بھی رواں سال اور اگلے سال مزید سخت مالیاتی پالیسی کی توقع کر رہی ہیں۔
فیڈ کے چیئرمین کیون وارش کی مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرنے سے گریز نے ایک اور غیر یقینی عنصر شامل کردیا ہے۔ اب روزگار کا ہر اعداد و شمار، مہنگائی کی ہر رپورٹ اور فیڈ کا ہر بیان مارکیٹ کی توقعات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ کیا دنیا کی سب سے اہم بانڈ مارکیٹ محض کسی مضبوط سمت یا بنیاد کی تلاش میں مشکلات کا شکار ہے؟
اس کے ساتھ ایک بڑا جغرافیائی سیاسی مسئلہ بھی موجود ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔آٹھ ماہ قبل بینجمن نیتن یاہو کی ترغیب پر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے نے توانائی کے ایسے بحران کو جنم دیا جس نے مہنگائی میں اضافہ کیا اور دنیا بھر میں مانیٹری پالیسی کو پیچیدہ بنا دیا۔ مشرق وسطیٰ میں سپلائی کی صورتحال بہتر ہونے کی امیدیں جب بھی تازہ رکاوٹوں سے ٹکراتی ہیں تو تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ خطے میں دوبارہ کشیدگی کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔
یہ سوچنا بھی قابلِ غور ہے کہ اگر ٹرمپ نے ابتدا ہی میں اس جنگ میں شامل ہونے کے لالچ کو مسترد کردیا ہوتا تو آج شرحِ سود اور بانڈ ییلڈز کہاں ہوتیں۔ کیا فیڈ اسی شدت کے ساتھ مزید شرحِ سود بڑھانے پر غور کررہا ہوتا؟ کیا سرمایہ کار طویل مدتی بانڈز سے مہنگائی کے خلاف اسی سطح کا تحفظ طلب کررہے ہوتے؟ اور کیا پہلے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک آج اتنی زیادہ شرحوں پر اپنے قرضوں کی ری فنانسنگ کررہے ہوتے؟
یورپ اس بات کا ایک پریشان کن اشارہ فراہم کرتا ہے کہ جب بانڈ سرمایہ کار اچانک مالیاتی حساب کتاب پر دوبارہ توجہ دینا شروع کردیں تو کیا ہوتا ہے۔ فرانس کی مالی صورتحال برسوں سے ماہرین اقتصادیات کے لیے باعثِ تشویش رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر ییلڈز میں نمایاں اضافے نے مارکیٹوں کو کہیں زیادہ سخت گیر بنادیا ہے۔ حال ہی میں فرانسیسی اور جرمن 10 سالہ حکومتی قرضوں کی لاگت میں فرق تقریباً 160 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو اس سطح کے قریب ہے جس کا تعلق آخری بار یورو زون کے خودمختار قرضوں کے بحران سے تھا۔
فرانس کے مسائل بالآخر یورپی مرکزی بینک کو ایک مشکل انتخاب پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اس کا ’’ٹرانسمیشن پروٹیکشن انسٹرومنٹ‘‘ یورو زون کی بانڈ مارکیٹوں میں بلاجواز عدم مساوات کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اسے اب تک استعمال نہیں کیا گیا۔
دریں اثنا مہنگائی نے مانیٹری پالیسی کو محدود کر رکھا ہے، مقداری سختی کا عمل جاری ہے جبکہ کرسٹین لیگارڈ کی ممکنہ رخصتی سے متعلق قیاس آرائیوں نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آئندہ خودمختار قرضوں کے بحران کے دوران ادارے کی قیادت کون کرے گا۔ آئی ایم ایف بھی فرانس پر اپنی مالی صورتحال درست کرنے پر زور دے رہا ہے۔
کیا ’’بانڈ ویجیلانٹ‘‘، جو بظاہر برسوں تک صفر شرحِ سود اور مقداری آسانی کے باعث بے روزگار ہوگئے تھے، دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں؟
وال اسٹریٹ اس تمام صورتحال سے غیر معمولی طور پر بے نیاز دکھائی دیتی ہے۔ ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک نے رواں ہفتے نئی بلند ترین سطحیں ریکارڈ کیں، کیونکہ سرمایہ کار ایک اور ممکنہ طور پر غیر معمولی منافع بخش سیزن کی تیاری کر رہے ہیں۔ اتفاقِ رائے پر مبنی اندازوں کے مطابق تیسری سہ ماہی میں ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کے منافع میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 30 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جوش و خروش بدستور مارکیٹ کو سہارا دے رہا ہے۔
تاہم یہاں ایک پریشان کن باہمی انحصار موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری معاشی نمو اور ایکویٹی ویلیوایشنز کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کی اس بڑے پیمانے پر توسیع کے لیے بھی بہت بڑے سرمائے کی ضرورت ہے۔ بلند ییلڈز اس سرمائے کی لاگت بڑھا رہی ہیں، جبکہ ٹریژری بانڈز پر بڑھتا ہوا پرکشش منافع ایکویٹیز کے لیے منافع کی وہ حد بھی بلند کر رہا ہے جسے انہیں عبور کرنا ہوگا۔ آخر کب تک اسٹاک مارکیٹ ایسے مستقبل کا جشن مناتی رہے گی جس کی ڈسکاؤنٹ ریٹ مسلسل بڑھ رہی ہے؟
ایشیا کے پاس لاتعلقی کی گنجائش اس سے بھی کم ہے۔ امریکی بانڈز کی بلند ییلڈز سرمایہ کو ڈالر کے اثاثوں کی جانب کھینچتی ہیں، مضبوط ڈالر کمزور کرنسیوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور مہنگی توانائی درآمدی مہنگائی میں اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان، جو ان تینوں عوامل کے اثرات کا براہِ راست سامنا کرتا ہے، اس کے لیے یہ صورتحال تکلیف دہ حد تک جانی پہچانی ہے: بیرونی فنانسنگ مشکل ہوجاتی ہے، درآمدی تیل کا بل زیادہ پریشان کن بن جاتا ہے اور پالیسی سازوں کے لیے دستیاب گنجائش مزید محدود ہوجاتی ہے۔
شاید یہ الجھن خود ہی دور ہوجائے۔ تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں، مہنگائی میں کمی آسکتی ہے، فیڈ شرحِ سود میں اضافے سے رک سکتا ہے، ٹریژری بانڈز کی طلب مضبوط ہوسکتی ہے اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے منافع وال اسٹریٹ کی غیر معمولی امیدوں کو درست ثابت کرسکتے ہیں۔
لیکن اگر سرمایہ کار اب جوابات کے لیے بانڈ مارکیٹ کی جانب دیکھ رہے ہیں تو ایک مشکل سوال موجود ہے : جب غیر یقینی کی قیمت طے کرنے والی مارکیٹ خود غیر یقینی کا شکار ہوجائے تو پھر کیا ہوگا؟
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments