احتجاج سے معاشی پیش رفت متاثر ہوسکتی ہے، شہباز شریف کا پی ٹی آئی کو نظرثانی کا مشورہ
- مارچوں اور احتجاج کی سیاست کا سب سے پہلا شکار آپ کی معیشت ہوگی، اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ اپنا لانگ مارچ ختم کردے، انہوں نے کہا کہ احتجاج اور سڑکوں کی بندش سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی حالیہ معاشی پیش رفت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ لانگ مارچ کے سیاہ سائے ایک بار پھر منڈلا رہے ہیں، انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے منصوبوں پر نظرثانی کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مشترکہ کمیٹیوں نے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ لانگ مارچ ختم کرانے اور باہمی رضامندی سے اختلافات دور کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی قیادت سے مذاکرات کیے جائیں۔
ہمیں امید تھی کہ مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا کیونکہ اپوزیشن نے عین وقت پر مسودے میں تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کردیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ احتجاج اور مارچ سے درآمدات اور برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں اور مزدوروں، انجینئرز اور دیگر افراد کو بروقت اپنی کام کی جگہوں تک پہنچنے میں رکاوٹ پیش آسکتی ہے۔
مارچوں اور احتجاج کی سیاست کا سب سے پہلا شکار آپ کی معیشت ہوگی۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران معیشت کو مستحکم کرنے اور میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے لیے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا ہے، اب توجہ اقتصادی ترقی اور ملکی ترقی پر مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے ستمبر میں برآمدات، آئی ٹی برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے معاشی پیش رفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے خبردار کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی اس پیش رفت کو نقصان پہنچاتا ہے تو کیا یہ ملک دشمنی کے مترادف نہیں ہوگا؟ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں احتجاجی مارچ کرنے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دوبارہ سوچیں کہ آیا اس اقدام سے پاکستان کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ احتجاج ختم کردیں اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھ سکتے ہیں۔
وزیراعظم کے یہ ریمارکس ایک روز بعد سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات دو اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں: زیرِ حراست پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کو شامل کیے بغیر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مرکز کا طریقۂ کار۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے حکومت کے ساتھ کئی معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرلیا تھا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ دو بنیادی تنازعات حل کیے بغیر ان معاملات پر پیشرفت بامعنی نہیں ہوگی۔
پی ٹی آئی نے راولپنڈی میں زیرِ حراست اپنے بانی عمران خان تک بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی نے بامعنی سیاسی مذاکرات کے لیے عمران خان تک رسائی کو شرط قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی بہن اور وکیل کو منگل کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کا وسیع تر مسئلہ حل نہیں ہوا۔
راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ایک نجی اسپتال میں عمران خان کا معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ میں ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی شامل کیا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ حکومتی ٹیم نے ابتدا میں اس تجویز سے اتفاق کیا تھا تاہم بعد میں اپنی حمایت واپس لے لی۔


Comments