وزارتِ خزانہ کی پالیسی میں ترمیم، سرکاری اداروں کی رپورٹنگ آئی ایف آر ایس سے ہم آہنگ
حکومت نے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس ای اوز) کی ملکیت اور انتظام سے متعلق 2023 کی پالیسی میں ترمیم کی ہے تاکہ سرکاری ملکیتی اداروں کی مالیاتی رپورٹنگ کو بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات کے مطابق لایا جاسکے جبکہ اسٹیٹ بینک کے زیرِ نگرانی اداروں کے لیے اس کے قانونی رپورٹنگ فریم ورک کو برقرار رکھا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے ذریعے سرکاری ملکیتی اداروں کی ملکیت اور انتظام سے متعلق 2023 کی پالیسی کے پیراگراف 31 میں ترامیم کی منظوری دے دی جو سرکاری ملکیتی اداروں (گورننس اور آپریشنز) ایکٹ، 2023 کے تحت کی گئی ہیں۔
ترمیم شدہ پالیسی کے تحت ایس او ایز ایکٹ، 2023 کے مقاصد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات سے مراد وہ مالیاتی رپورٹنگ معیارات ہوں گے جنہیں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان وقتاً فوقتاً کمپنیز ایکٹ، 2017 کی دفعہ 225 کے تحت نوٹیفائی کرے گا۔
تاہم، ترمیم میں اسٹیٹ بینک کے زیرِ نگرانی اداروں کے لیے ایک مخصوص استثنا بھی فراہم کیا گیا ہے۔
ایسے اداروں کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس، 1962 کے تحت مقرر کردہ قانونی مالیاتی رپورٹنگ فریم ورک جس میں اس کے سرکلرز، ہدایات اور احکامات بھی شامل ہیں ترجیحی حیثیت رکھے گا اور جہاں کہیں بھی یہ فریم ورک آئی ایف آر ایس سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہاں ایس بی پی کا فریم ورک ہی نافذ العمل ہوگا۔
حکومت نے آئی ایف آر ایس کے نفاذ کے حوالے سے ایس ای سی پی کی جانب سے منظور شدہ ترامیم اور استثناؤں کے اطلاق کو بھی واضح کیا ہے۔
ترمیم شدہ پالیسی کے مطابق کمپنیز ایکٹ، 2017 کی دفعہ 225 کے تحت ایس ای سی پی کی جانب سے عمومی طور پر کمپنیوں کو دی جانے والی کوئی بھی ترمیم یا استثنا، کمپنیز ایکٹ کے تحت ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ سرکاری ملکیتی اداروںپر بھی لاگو ہوگا۔
تاہم اس شق سے اسٹیٹ بینک کے زیرِ نگرانی اداروں کے حوالے سے اس کے قانونی اختیارات، فرائض یا ہدایات متاثر نہیں ہوں گی۔
ترمیم کے ذریعے وزارتِ خزانہ کو مالیاتی انتظام سے متعلق ایک نئی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے مشاورت کے بعد قانونی حیثیت رکھنے والے سرکاری ملکیتی اداروں کے مالیاتی انتظام کے لیے ایک تفصیلی فریم ورک جاری کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ تمام سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ، 2023 کی دفعات 19 اور 20 کے مطابق اندرونی آڈٹ کے طریقۂ کار اور نظام وضع کرنا لازمی ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ نئے مالیاتی انتظامات کی تفصیلات ترمیم شدہ پالیسی کے ضمیمہ 6 میں درج ہیں۔
اس اقدام کے نتیجے میں کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے آئی ایف آر ایس پر مبنی مالیاتی رپورٹنگ کا ایک مشترکہ حوالہ جاتی فریم ورک قائم ہو گیا ہے، جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے عائد شعبہ جاتی ضابطہ جاتی تقاضوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔


Comments