BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

یورپ کے ڈیزل ذخائر جاری کرنے پر اتفاق کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی

  • برینٹ خام تیل کی قیمت 1.80 ڈالر یا 1.76 فیصد کمی سے 100.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

یورپی رہنماؤں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کی درخواست سے اتفاق کے بعد جمعے کو تیل کی قیمتیں 2 ڈالر تک گر گئیں۔ اس اقدام کا مقصد قیمتیں کم کرنا اور امریکا سے ایندھن درآمد کرنے کی ضرورت گھٹانا ہے۔

صبح 10 بج کر 49 منٹ پر (سی ڈی ٹی، 16:49 جی ایم ٹی) برینٹ خام تیل کی قیمت 1.80 ڈالر یا 1.76 فیصد کمی سے 100.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.02 ڈالر یا 2.18 فیصد کمی سے 90.85 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت اب تک تقریباً 2.84 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 1.54 فیصد کم ہوئی ہے۔

صورتحال سے باخبر ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کے ممالک نے فرانس کی جانب سے اضافی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یورپ نے ابھی اپنے بھاری مقدار میں ذخیرہ کیے گئے ڈیزل آئل کا بڑا ذخیرہ جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکا سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلِن نے کہا، ’’یورپ خود کو خاصا غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ اگر ہم ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرتے ہیں تو یورپ ان خطوں میں شامل ہوگا جو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔‘‘

فرانسیسی تجویز

رائٹرز کو مذاکرات سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین کی حکومتوں نے فرانس کی اس تجویز پر غور کے بعد اقدامات کیے، جس کے تحت یورپی ممالک 5 کروڑ بیرل ڈیزل جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک 5 کروڑ بیرل خام تیل کے ذخائر جاری کریں گے۔

ذرائع میں سے دو نے بتایا کہ اس تجویز کے تحت یورپ 20 روز کے عرصے میں ڈیزل کے ذخائر کا ایک حصہ جاری کرے گا۔

ایلیزے پیلس نے بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو جی 7 ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی صدارت کی۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جی 7 ممالک نے فرانس کی جانب سے ایندھن کے ذخائر جاری کرنے کی تجویز کردہ مقدار پر اتفاق کیا یا نہیں۔

سیکسو بینک میں اجناس کی حکمتِ عملی کے سربراہ اولے ہانسن نے کہا، ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی منڈی میں بنیادی دباؤ اب خام تیل کی دستیابی نہیں رہا، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل بحال ہورہی ہے، بلکہ ریفائن شدہ مصنوعات کی رسد پر دباؤ ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ اور روس میں ریفائنری کی صلاحیت اور پیداوار میں کمی ہے۔‘‘

جمعرات کو تیل کی قیمتیں اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں، جس کی وجہ رائٹرز کی یہ رپورٹ تھی کہ چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات معطل کردی ہیں تاکہ ملکی ذخائر کو محفوظ رکھا جاسکے۔

قیمتوں میں اضافے کو مزید تقویت اس رپورٹ سے ملی کہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور مزید 10 ہزار تک فوجی اہلکار مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، جبکہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔

کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ ماحولیات و اجناس حماد حسین نے کہا کہ تیل کے ذخائر کی مزید کھیپ جاری کرنا ’’مجموعی منڈی کو دوبارہ معمولی فاضل رسد کی جانب لے جانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں حالیہ بہتری برقرار رہے۔‘‘

بارکلیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل میں بہتری کے باوجود طبعی منڈی کی بنیادی صورتحال بدستور مضبوط ہے، ذخائر میں اب بھی کمی ہورہی ہے جبکہ فوری ترسیل کے لیے دستیاب تیل کی کھیپیں مستقبل کی قیمتوں کے مقابلے میں خاصے زیادہ نرخوں پر فروخت ہورہی ہیں۔

بینک نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 20 ڈالر بڑھا کر 115 ڈالر فی بیرل کردیا، جبکہ 2026 کے لیے بھی اپنا تخمینہ بڑھا کر 100 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔

دوسری جانب، یوکرین نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس کے سمارا اور وولگوگراڈ کے علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر بتایا۔

Comments

200 حروف