افغان عبوری حکومت کو جنگجو سوچ سے ریاستی تدبر کی جانب آنا ہوگا، عطا تارڑ
- پاکستان نے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کی ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے افغان عبوری حکومت کو ان کے بقول جنگجو ذہنیت سے نکل کر ریاستی تدبر اور ذمہ دار ریاست کے رویے کی طرف آنا ہوگا۔
بین الاقوامی پارلیمنٹرینز کانگریس (آئی پی سی) کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے لیے بارہا مذاکرات اور بات چیت کی کوشش کی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی جانب سے بھی امن کے لیے مطلوبہ عزم موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ذہنیت میں تبدیلی کا ہے اور افغان عبوری حکومت کو جنگجو سوچ سے دور ہونا ہوگا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کیں۔ پاکستانی وفود افغانستان گئے جبکہ تیسرے ممالک میں بھی مذاکرات ہوئے، جن میں حالیہ استنبول اور دوحہ مذاکرات شامل ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ امن کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں عسکریت پسندی اور پاکستان کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی شامل ہے۔ پاکستان بارہا افغان حکام پر افغان سرزمین سے عسکریت پسند گروہوں کو کارروائیاں کرنے کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں سرحد پار حملے اور افغانستان کے اندر پاکستانی کارروائیاں بھی شامل رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن سے تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، خصوصاً افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں اور گرم پانیوں تک رسائی فراہم کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور امن و استحکام قائم ہونے کی صورت میں علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عطا تارڑ نے افغانستان کی نوجوان آبادی کا بھی ذکر کیا اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور تعلیم، اجتماع اور تنظیم سازی سمیت بنیادی حقوق تک رسائی پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت اور افغان آبادی کے بعض طبقات کے درمیان واضح خلیج موجود ہے۔ ان کے مطابق عام افغان شہری امن، استحکام اور معاشی خوشحالی چاہتے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ صرف امن ہی خوشحالی کی راہ ہموار کرسکتا ہے اور افغانستان کا استحکام پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق اسلام آباد نے حملوں کا جواب دیا ہے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھی جواب دیا جائے گا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ افغان عوام ایک زیادہ خوشحال مستقبل کے حقدار ہیں اور انہیں اپنے ملک کے مستقبل کے تعین میں اپنی آواز شامل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

Comments