سی سی پی نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی کو مسعود ٹیکسٹائل ملز کے حصص خریدنے کی منظوری دے دی
- سی سی پی نے کہا کہ انضمام و حصول کے معاملات کا بروقت اور شفاف جائزہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون جبکہ مسابقتی منڈیوں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ویلورا گلوبل وینچرز-ایف زیڈ سی کی جانب سے دو چینی کمپنیوں سے مسعود ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے حصص حاصل کرنے کی منظوری دے دی۔
سی سی پی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ منظوری مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت پہلے مرحلے کی مسابقتی جانچ کے بعد دی گئی۔
معاملے کے تحت ویلورا گلوبل وینچرز، حصص کی خریداری کے معاہدے کے تحت شنگھائی چیلنج ٹیکسٹائل کمپنی لمیٹڈ اور ژی جیانگ ژیناؤ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ سے مسعود ٹیکسٹائل ملز کے حصص حاصل کرے گی۔
متحدہ عرب امارات کی اجمان فری زون اتھارٹی کے تحت قائم ویلورا گلوبل وینچرز پاکستان سے باہر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تھوک تجارت کے علاوہ تجارتی بروکریج کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔
اس کی منسلک کمپنیاں گلف ٹیکسٹائل سورسنگ ایف زیڈ سی اور زارا ٹیکسٹائل ٹریڈنگ ایف زیڈ سی بین الاقوامی سطح پر ٹیکسٹائل کی سورسنگ اور تجارت، صارفین کی ترقی اور آرڈرز کی معاونت و رابطہ کاری کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ مسعود ٹیکسٹائل ملز سوتی اور مصنوعی ریشے کے دھاگے، نِٹڈ اور رنگے ہوئے کپڑے اور ملبوسات تیار اور فروخت کرتی ہے۔
سی سی پی نے پہلے مرحلے کے جائزے کے دوران یہ جانچ کی کہ آیا اس لین دین سے متعلقہ مارکیٹوں میں مسابقت میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے یا کسی غالب حیثیت کا قیام یا اس کا استحکام ممکن ہے۔
کمیشن نے قرار دیا کہ ویلورا گلوبل وینچرز کی انضمام سے قبل پاکستان کی مارکیٹ میں کوئی موجودگی نہیں تھی۔ چنانچہ حصص کا حصول مسعود ٹیکسٹائل ملز کی پیداوار، مقامی فروخت یا مارکیٹ میں اس کی پوزیشن میں کسی نمایاں تبدیلی کا باعث بننے کی توقع نہیں تھی۔
سی سی پی نے خریدار کی بین الاقوامی ٹیکسٹائل تجارتی سرگرمیوں اور مسعود ٹیکسٹائل ملز کے پیداواری آپریشنز کے درمیان ممکنہ عمودی کاروباری تعلق کا بھی جائزہ لیا۔
کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں کاروباری سرگرمیوں کی نوعیت اور دائرہ کار سے مسابقت کے حوالے سے کوئی تشویش پیدا نہیں ہوتی اور یہ لین دین نہ تو مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں پیدا کرے گا اور نہ ہی خریدار کی مارکیٹ طاقت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
چنانچہ سی سی پی نے مسابقتی ایکٹ 2010 کی دفعہ 31(1)(d)(i) کے تحت مذکورہ لین دین کی منظوری دے دی۔
کمیشن نے کہا کہ انضمام اور حصول کے معاملات کا بروقت اور شفاف جائزہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ہوتا ہے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ایسے لین دین سے مسابقت کو نقصان نہ پہنچے۔
سی سی پی نے مزید کہا کہ انضمام پر مؤثر نگرانی کا نظام ضابطہ جاتی یقین دہانی فراہم کرتا، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کی معاونت کرتا اور پاکستان میں مسابقتی منڈیوں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔


Comments