حال ہی میں منعقدہ ایک تقریب میں کابینہ کے دو اہم ارکان کے متضاد مؤقف نے ایک ایسی بحث کو نمایاں کردیا جس میں پاکستان غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا: آیا ترقی کو ترجیح دی جائے یا استحکام اور ساختی اصلاحات کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔
لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری کے مشیر محمد علی نے کہا کہ جب تک ہم ترقی نہیں کریں گے، ہم گورننس کو بہتر نہیں بنا سکتے جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میکرو اکنامک استحکام کو مستقل بنانے اور ساختی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ دونوں مؤقف لازماً ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کس نوعیت کی ترقی کی راہ اپنانا چاہیے اور آیا اسے برقرار رکھنے کے لیے ضروری بنیادیں موجود ہیں یا نہیں۔
زیادہ شرحِ نمو کے حق میں مضبوط دلائل موجود ہیں: جو معیشت اپنی آبادی کی شرحِ نمو سے معمولی زیادہ رفتار سے ہی وسعت اختیار کرے، وہ روزگار کے لیے خاطر خواہ مواقع پیدا نہیں کرسکتی اور نہ ہی عوام کے معیارِ زندگی میں بامعنی بہتری لاسکتی ہے۔
لیکن یہ مؤقف اختیار کرنا کہ ترقی کے بغیر گورننس بہتر نہیں ہوسکتی، گورننس کو محض معاشی کارکردگی تک محدود کرنے کے مترادف ہے حالانکہ گورننس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ اس میں میرٹ کی پاسداری، بدعنوانی میں کمی، جڑے ہوئے مراعاتی اور استحقاقی نظام کا خاتمہ، مؤثر احتساب، مضبوط ادارے اور اشرافیہ کے مفادات کے غلبے کا خاتمہ شامل ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ معاشی ترقی پیداواری، منصفانہ اور پائیدار ہوگی یا نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ میکرو اکنامک استحکام اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بہتر گورننس کے لیے بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کرنے کے لیے ضروری گنجائش اور نظم و ضبط فراہم کرتا ہے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی بحران سے نمٹنا، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا، اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ، رینٹ سیکنگ اور اشرافیہ کے مفادات کے غلبے کی حوصلہ افزائی کرنے والی مراعات کا خاتمہ محض معاشی اقدامات نہیں بلکہ اچھی گورننس کے بنیادی عناصر ہیں۔
اس لیے سمٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے بیان کردہ پانچ ترجیحات اہم ہیں: معاشی استحکام کو مستقل بنانا؛ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کے ذریعے پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کا حصول؛ ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنا؛ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی اور پاکستان کو نئی معیشت میں زیادہ مؤثر انداز میں شرکت کے قابل بنانا۔
خطرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بحال ہونے والے معاشی استحکام کو بے لگام ترقی کی راہ اختیار کرنے کی اجازت سمجھنے کی غلطی کرے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب مشکل نوعیت کی معاشی ایڈجسٹمنٹ کے بعد میکرو اکنامک توازن کسی حد تک بحال ہوجاتا ہے تو حکومتیں حد سے زیادہ پُراعتماد ہوجاتی ہیں، مالیاتی اور زری پالیسی میں سختی کم کردیتی ہیں اور کھپت، سرکاری اخراجات اور بیرونی قرضوں کے ذریعے تیز تر ترقی کے حصول کی کوشش کرتی ہیں۔ ابتدائی فوائد کے بعد جلد ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے، قرضوں میں اضافے اور مالی اعانت کے دباؤ، زرمبادلہ ذخائر میں کمی اور بالآخر ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی صورت میں مسائل سامنے آجاتے ہیں۔
لہٰذا حکمرانوں کو یہ دانش مندی دکھانا ہوگی کہ وہ ماضی کے اس طرزِ عمل کو دوبارہ نہ دہرائیں۔ پاکستان نے قبل از وقت اور کھپت پر مبنی معاشی توسیع کے مسلسل ادوار کی بھاری قیمت ادا کی ہے، اس لیے محض تازہ بحران کے گزر جانے کی وجہ سے ایک اور ایسے دور کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی ترقی جو اگلے بحرانِ توازنِ ادائیگی کے حالات دوبارہ پیدا کردے، درحقیقت کوئی حل نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان غیر معینہ مدت تک معاشی استحکام کے مرحلے میں رہ سکتا ہے۔ بالآخر ترقی کی راہ اپنانا ہوگی لیکن ترقی کی نوعیت درست ہونی چاہیے۔ درحقیقت دونوں عہدیدار اس مؤقف کے ایک اہم پہلو پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے پرانے کھپت پر مبنی معاشی ماڈل کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ اس کے لیے معیشت کی جڑوں میں موجود بعض گہری کمزوریوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
مثلاً پاکستانی صنعت اب بھی بڑی حد تک درآمدی متبادل پر مبنی ہے جبکہ برآمدات اکثر اس چیز کی عکاسی کرتی ہیں جو ملکی معیشت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نہ کہ اس کی جو عالمی منڈیوں میں طلب ہے۔ حقیقی معنوں میں برآمدات پر مبنی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری ادارے عالمی منڈیوں کے لیے مسابقتی بنیادوں پر مصنوعات تیار کریں، نہ کہ محض ملکی فاضل پیداوار کو بیرونِ ملک برآمد کریں۔
لہٰذا ترقی منزل ہونی چاہیے لیکن ساختی اصلاحات اس منزل تک پہنچنے کا راستہ متعین کریں۔ پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور بہتر گورننس کے لیے مضبوط ادارہ جاتی اور معاشی بنیادیں استوار کرنے میں استعمال کیا جائے۔
حکومت کے پاس اب اس پرانے چکر کو توڑنے کا موقع ہے۔ اس موقع کو ایک بار پھر کھپت پر مبنی معاشی ترقی کے حصول میں ضائع کرنا ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا، خاص طور پر اس سے پہلے کہ اسے پائیدار بنانے کے لیے ضروری اصلاحات، ادارے اور گورننس کا نظام قائم کیا جائے۔
پاکستان میں بار بار آنے والے معاشی عروج و زوال کے ادوار سے سبق اب بالکل واضح ہوجانا چاہیے: مضبوط گورننس اور ساختی بنیادوں کے بغیر معاشی ترقی صرف اگلے بحران کی راہ ہموار کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments