BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ایران کی ایئرلائنز 23 ستمبر کو ’بند‘ کردی جائیں گی، امریکی وزیر خزانہ

  • امریکا کی جانب سے ایران کی ہوا بازی کی صنعت پر پابندیاں، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے تہران کے مالی وسائل کا گلا گھونٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باعث ایرانی ایئرلائنز کے لیے دو روز بعد عالمی سطح پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

بیسنٹ نے سی این بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ 23 ستمبر کو ’’دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز بند ہوجائیں گی‘‘، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ کو تقریباً سات ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ’’اگر وہ کہیں اترتی ہیں تو آپ انہیں ایندھن فراہم نہیں کرسکتے، لینڈنگ کی سہولیات فراہم نہیں کرسکتے، ان کے ٹکٹ فروخت نہیں کرسکتے، ورنہ آپ کو ڈالر کے مالیاتی نظام سے باہر کردیا جائے گا۔‘‘

یہ اقدام ایران کی ہوا بازی کی صنعت پر امریکا کی جانب سے عائد کی گئی سابقہ پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے تہران کے مالی وسائل کا گلا گھونٹنے کے عزم کا بھی اظہار کیا تھا۔

پیر کو دو عراقی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی محکمہ خزانہ کے اعلان کے بعد بغداد ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں معطل کردے گا۔

اسی روز جارجیا نے ایرانی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا، جبکہ ایرانی ایئرلائن مہان نے کہا کہ اس نے ترک حکومت کی درخواست پر ترکی کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان فروری کے اواخر سے جنگ جاری ہے، جب امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے آغاز پر اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور اعلیٰ فوجی حکام ہلاک ہوگئے تھے۔

تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا، جس کے باعث تنازع مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کے ساتھ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی آگئی۔

اس ماہ کے آغاز میں امریکا نے کہا تھا کہ اس نے ’’تمام باقی ایرانی ایئرلائنز‘‘ پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں، جنہیں اس سے قبل ان پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے ہوا بازی کے شعبے کی معاونت کرنے والے اداروں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا، جن میں ایران سے باہر قائم کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے اتحاد کی جانب سے حملے شروع کیے جانے کے بعد ایران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کردی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے کچھ فضائی سفر بحال ہوا ہے، تاہم یہ صرف ایرانی فضائی کمپنیوں کی جانب سے چلائی جانے والی پروازوں تک محدود ہے۔

بیسنٹ کے یہ ریمارکس ایک روز بعد سامنے آئے جب انہوں نے چینی نائب وزیراعظم حہ لی فنگ سے اقتصادی مذاکرات کیے تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد رواں جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہ ملاقات کے لیے بنیاد تیار کرنا تھا۔

چین ایران کے بڑے اقتصادی شراکت داروں اور سفارتی حامیوں میں شامل ہے۔

ایران کی ہوا بازی کی صنعت کو طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے، جن کے باعث اس کے لیے طیارے، پرزہ جات اور دیکھ بھال کی خدمات حاصل کرنا محدود ہوگیا ہے۔

Comments

200 حروف