نیتن یاہو کا غیر مجاز یہودی چوکیوں کو ختم کرنے کا حکم
- ذرائع کے مطابق حکم ان چوکیوں پر لاگو ہوگا جو اسرائیلی ریاست کی جانب سے باضابطہ اجازت کے بغیر آبادکاروں نے قائم کی ہیں
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملوں کے خلاف امریکا کے دباؤ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غیر مجاز یہودی آبادکار چوکیوں کو ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ معاملے سے باخبر 2 افراد نے اتوار کو بتایا۔
ذرائع کے مطابق حکم ان چوکیوں پر لاگو ہوگا جو اسرائیلی ریاست کی جانب سے باضابطہ اجازت کے بغیر آبادکاروں نے قائم کی ہیں۔ یہ چوکیاں عموماً پہلے سے تیار شدہ کاروانوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور ان میں محدود تعداد میں آبادکار رہتے ہیں۔
اسرائیلی ریاست وقتاً فوقتاً ایسی تعمیرات مسمار کرتی رہی ہے، جبکہ بعض چوکیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرکے سرکاری فنڈز تک رسائی بھی دی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کارروائی کب شروع ہوگی۔
دریں اثنا، اسرائیلی سپریم کورٹ نے اتوار کو حکم دیا کہ اسرائیلی دفاعی حکام فلسطینی خاندانوں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں جلود میں اپنے گھروں کو محفوظ واپسی کے قابل بنائیں۔ ان خاندانوں کو آبادکاروں نے گھروں سے بے دخل کردیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ادارے اور بیشتر حکومتیں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور مغربی کنارے کو اسرائیلی فوجی قبضے میں مقبوضہ علاقہ سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ متنازع ہے، مقبوضہ نہیں۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ہفتے کو پرتشدد آبادکاروں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسرائیلی ویب سائٹ یو نیٹ کے مطابق نیتن یاہو کے احکامات کا ہدف مقبوضہ علاقے میں تقریباً 100 غیر مجاز چوکیوں کو بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی تنظیم پیس نائو کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں 340 غیر مجاز چوکیوں کے علاوہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم شدہ 146 بستیاں موجود ہیں۔ اسرائیلی حکومت آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کرتی ہے، تاہم حملہ آوروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات شاذونادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔


Comments