امریکا، ایران تنازع معاشی نمو، مہنگائی کیلئے خطرہ، محمد اورنگزیب
- حکومت کو رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے، وزیر خزانہ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا کہ جاری تنازع کے باعث پاکستان کی معاشی نمو اور مہنگائی کا تناظر شدید دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم استحکام سے نمو کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ واضح طور پر جاری تنازع کا نتیجہ ہے جس کے مہنگائی اور جی ڈی پی پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، تاہم ہماری قیادت اس معاملے پر کام کررہی ہے، اس لیے امید ہے کہ جلد از جلد موجودہ تنازع کا کوئی مستقل حل تلاش کرلیا جائے گا۔
یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی فورسز نے اتوار کو ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا۔
جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہوگئی ہے جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔
اسلام آباد میں ایگزِم بینک کے زیر اہتمام پارٹنرشپس دیٹ پاور پروگریس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ چیلنج معاشی نمو حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے پائیدار بنانا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ پائیداری جس کی ہم مسلسل بات کرتے آئے ہیں، برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو پر مبنی ہوگی۔
وزیر خزانہ نے حالیہ بجٹ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدات کی قیادت میں ہونے والی معاشی نمو کے لیے دستیاب مالی گنجائش کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں ہم نے برآمدات پر مبنی معاشی نمو کی حمایت کے حوالے سے اپنی سمت بالکل واضح کردی ہے جس کے تحت سپر ٹیکس میں کمی اور ایڈوانس ٹیکس کا خاتمہ کیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ 11.5 فیصد شرح سود کے باوجود برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد کی شرح پر فنانسنگ فراہم کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ بحث کہ آیا ہمیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی شرح پر فنانسنگ دستیاب ہے، اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے، کیونکہ پالیسی ریٹ خواہ کچھ بھی ہو، برآمد کنندگان کو اب 4.5 فیصد کی شرح پر فنانسنگ فراہم کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہیں پاکستان ایکزم بینک کا کردار اہم ہوجاتا ہے جو برآمدی ری فنانس اور لانگ ٹرم فنانسنگ فیسیلٹی کی فراہمی میں کلیدی معاون کا کردار ادا کر رہا ہے جسے حالیہ بجٹ کے ذریعے فعال کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ملک کو اپنی برآمدی بنیاد کو مصنوعات اور خدمات کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے اعتبار سے بھی متنوع بنانے کی ضرورت ہے۔

Comments