علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششیں تیز، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے۔
ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے تہران آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ملاقات میں موجود تھے۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پُرامن، پائیدار اور جامع حل کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
رائٹرز نے پیر کو تین پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آرمی چیف نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی جو تہران میں متوقع مذاکرات سے چند روز قبل ہوئی۔
یہ ٹیلی فونک گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کو ہدف بنانے والی بڑی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کے دفتر نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔
پاکستانی حکومت کے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دورے کا اہم موضوع ہے تاہم عاصم منیر سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ پاکستان کے اتحادی سعودی عرب پر ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے حالیہ حملوں اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے پر بھی بات چیت کریں گے۔
اس سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جلد ہی ناکام ہوگئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے وسیع تر علاقائی تنازع کا خدشہ پیدا کردیا ہے۔
ایک تیسرے پاکستانی ذرائع نے امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال کے حوالے سے کہا کہ دونوں جانب اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عاصم منیر کا مقصد پیر کو باہمی اعتماد کے اس فقدان کو کم کرنا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا تھا کہ یہ دورہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں ثالث کا کردار سنبھال لیا ہے۔ پاکستان کی اس کوشش کا مقصد خطے میں تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرنے والی ملکی معیشت کا تحفظ اور عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
ثالث کے طور پر پاکستان کے لیے ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ براہِ راست سفارتی رابطے برقرار ہیں۔ پاکستان کو نسبتاً غیر جانب دار فریق کی حیثیت سے بھی دیکھا جاتا ہے جبکہ ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات ہیں، اس کے علاوہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ بھی اس کے قریبی اسٹریٹجک روابط ہیں۔
اس ثالثی کے کردار سے پاکستان کو نمایاں فوائد حاصل ہوسکتے ہیں جن میں خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ بھی شامل ہے۔


Comments