BR100 Decreased By (-0.78%)
BR30 Decreased By (-1.54%)
KSE100 Decreased By (-0.71%)
KSE30 Decreased By (-0.7%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.08 Decreased By ▼ -0.27 (-0.89%)
CNERGY 12.89 Decreased By ▼ -0.23 (-1.75%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.50 Decreased By ▼ -4.95 (-2.57%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.99 Decreased By ▼ -0.80 (-1.52%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 304.95 Decreased By ▼ -1.15 (-0.38%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.97 Decreased By ▼ -0.19 (-1.87%)
KEL 6.08 Decreased By ▼ -0.01 (-0.16%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.43 Decreased By ▼ -1.73 (-1.86%)
OGDC 312.80 Decreased By ▼ -3.93 (-1.24%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.64 Decreased By ▼ -0.04 (-0.27%)
PIOC 240.94 Decreased By ▼ -2.27 (-0.93%)
PPL 220.85 Decreased By ▼ -6.06 (-2.67%)
PRL 91.00 Decreased By ▼ -2.02 (-2.17%)
SNGP 90.95 Decreased By ▼ -0.89 (-0.97%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.57 Decreased By ▼ -0.23 (-2.95%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.21 Decreased By ▼ -0.35 (-0.62%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
دنیا

مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران آبنائے ہرمز میں جارحانہ کارروائی کرے گا

  • امن مذاکرات کی پیش رفت اور اہم تزویراتی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات میں تعطل کے باعث اپنی پالیسی دفاعی سے ’’مکمل جارحانہ‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے پیر کو رائٹرز کو یہ بات بتائی ہے۔

امن مذاکرات میں پیش رفت اور تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت بحال کرنے کی کوششیں رک گئی ہیں اور ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کہ فریقین 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ ختم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی عہدیدار نے کہا، ’’ایرانی اداروں کو آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں کشیدگی بڑھنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ ایران مشکل فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو تہران امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے ’’مناسب وقت پر انتہائی درست فوجی کارروائی‘‘ کرے گا۔

واشنگٹن کی جانب سے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو ’’ہتھیار ڈالنے کے لیے سفید پرچم لہرا دینا چاہیے۔‘‘

جنگ کے دوران ٹرمپ کبھی کشیدگی بڑھانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں تو کبھی یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امن معاہدہ قریب ہے۔

ٹرمپ کی عمان پر بمباری کی دھمکی

پیر وہ دن تھا جس تک ایران اور امریکا سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت حتمی معاہدہ کرلیں گے۔ اس معاہدے کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔

17 جون کو طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں 60 روز کی مدت مقرر کی گئی تھی، جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جاسکتا تھا۔ اس مدت کے دوران واشنگٹن اور تہران کو ایک وسیع تر معاہدے تک پہنچنا تھا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور امریکی پابندیاں اٹھانا بھی شامل تھا۔

تاہم اس عبوری معاہدے میں تمام محاذوں پر ’’فوری اور مستقل فوجی کارروائی کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا، مگر یہ معاہدہ جلد ہی آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع کے باعث ناکام ہوگیا۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی تنگ آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

تہران کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت کی شق 5 کے تحت اسے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کا حق حاصل ہے، جسے وہ عمان کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال کرتا ہے، تاہم واشنگٹن نے اس تشریح کو مسترد کردیا۔ اس کے بعد اس وقت دوبارہ کشیدگی شروع ہوگئی جب تہران نے ان بحری جہازوں پر فائرنگ شروع کردی جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ اس کی منظور شدہ اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے 7 جولائی کو کہا تھا کہ معاہدہ ’’ختم ہوچکا ہے‘‘۔ تہران مسلسل واشنگٹن پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، ’’ایران کی جانب سے مقرر کی گئی چند ہفتوں کی مختصر مدت کے اندر امریکا کو معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ یہ امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پیشگی شرط ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ثالث تہران کی مقرر کردہ مدت سے واشنگٹن اور خطے کے دیگر ممالک کو آگاہ کریں گے۔

تہران آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے عمان کے ساتھ بھی الگ سے مذاکرات کر رہا ہے، جسے وسیع تر معاہدے کا ایک اہم جزو سمجھا جا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم پیش رفت سست ہے۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا، ’’اگر عمان راستے میں رکاوٹ بنا تو ہم اسے بری طرح بمباری کا نشانہ بنائیں گے۔‘‘

عمان کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

حوثیوں کے حملوں سے وسیع تر جنگ کا خدشہ

فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اس تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری ہیں۔ ایران نے عمان، اردن، کویت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران اور امریکا دونوں نے اپنی بیان بازی میں شدت پیدا کردی ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کو ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں بلند رہنے کے لیے تیار رہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ایران کو شکست دینے کے بعد۔۔۔ بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دوں گا۔‘‘

اس سے قبل پیر کو ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’’سب سے بڑا ہدف یہی ہے، اور ہمیشہ یہی رہے گا، کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔‘‘ یہ جنگ کے حوالے سے ان کے بیان کردہ مقاصد میں سے ایک ہے۔

فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی معیار برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں نمایاں اضافہ ہوا اور قیمت 126 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 75 فیصد زیادہ تھی۔ خلیجی ممالک سے تیل کی رسد میں رکاوٹ کے خدشات اور امن مذاکرات کے حوالے سے بدلتے بیانات کے باعث قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ رہا ہے۔

پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت معمولی اضافے کے ساتھ تقریباً 89 ڈالر فی بیرل رہی۔

یمن کے حوثیوں کے حملوں نے بھی علاقائی جنگ کے پھیلنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔

تازہ واقعے میں حوثیوں نے پیر کو آبنائے باب المندب میں سعودی فوجی جہاز اور اس کے ہمراہ موجود چار بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے یہ دعویٰ ٹیلی گرام پر کیا۔

آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک تزویراتی گزرگاہ اور بین الاقوامی بحری تجارت کا اہم راستہ ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

Comments

200 حروف