قرض لے کر تجارتی خسارہ پورا کرنے کی پالیسی
نئے مالی سال کے پہلے ہی مہینے میں 4 ارب ڈالر کے قریب پہنچنے والا تجارتی خسارہ بالکل اس قسم کی وارننگ ہے جس کی پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹ کو کوئی ضرورت نہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 25.17 فیصد بڑھ کر 3.948 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ درآمدات 18 فیصد اضافے سے 6.887 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
برآمدات میں اضافہ ضرور ہوا جو 9.54 فیصد بڑھ کر 2.939 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں تاہم یہ اضافہ درآمدات کی رفتار کے مقابلے میں کہیں کم تھا۔ اصل تشویش ماہ کے دوران برآمدات میں کمی نہیں بلکہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا عدم توازن ہے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان اب بھی اپنی پیداواری معیشت سے باہر پیدا ہونے والے زرمبادلہ پر مستقل طور پر انحصار کرتا ہے۔ ترسیلاتِ زر نے بارہا ایسا سہارا فراہم کیا جس نے بیرونی عدم توازن کو کھلے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جبکہ قرض کی صورت میں حاصل ہونے والے ڈالرز اور دوست ممالک سے ملنے والے ڈپازٹس نے باقی ماندہ خلا کو پُر کیا ہے۔
ایسی معاونت ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم تو کرسکتی ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لیے ایسے برآمدی شعبے کا متبادل نہیں بن سکتی جو عالمی سطح پر ملک کے اخراجات پورے کرنے کے لیے درکار زرمبادلہ کما سکے۔ حالیہ تجارتی اعداد و شمار ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اس مقصد کے حصول سے ابھی کتنا دور ہے۔
اس ناکامی کی شاید سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران روپے کی تاریخی قدر میں کمی بھی وہ برآمدی تبدیلی لانے میں ناکام رہی جس کی توقع روایتی معاشی نظریات کے تحت کی جا سکتی تھی۔ دیگر حالات یکساں ہوں تو کمزور کرنسی بین الاقوامی منڈی میں برآمدات کو زیادہ مسابقتی بنانی چاہیے۔
پاکستان کو اس کے برعکس یہ تجربہ ہوا کہ شرحِ مبادلہ میں ایڈجسٹمنٹ مہنگی توانائی، کمزور پیداواری صلاحیت، ناقص لاجسٹکس، غیر مستقل ٹیکس نظام، ضوابط سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور مربوط برآمدی حکمتِ عملی کے فقدان کا ازالہ نہیں کرسکتی۔ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی خام مال اور دیگر اشیا کی لاگت بڑھ گئی جبکہ ساختی کمزوریوں نے مسابقتی صلاحیت کو مسلسل محدود رکھا۔
گہرا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی اپنی زرمبادلہ کی محدود دستیابی کے سنگین مسئلے سے ہم آہنگ برآمدی پالیسی وضع نہیں کی۔
ملک بڑی حد تک اب بھی وہی مصنوعات بیرونِ ملک فروخت کررہا ہے جو روایتی صنعتیں پہلے سے تیار کررہی ہیں، بجائے اس کے کہ عالمی طلب کی منظم انداز میں نشاندہی کی جائے، ابھرتی ہوئی سپلائی چینز کا جائزہ لیا جائے اور ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جن میں مسابقتی برتری پیدا کی جاسکے۔
تقابلی برتری ہمیشہ ایسی چیز نہیں ہوتی جو ممالک کو محض ورثے میں مل جائے۔ کامیاب برآمدی معیشتیں ہنرمندی، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور عالمی منڈی سے متعلق معلومات میں سرمایہ کاری کرکے اپنی مسابقتی برتری خود پیدا کرتی ہیں۔
پاکستان نے مختلف ادوار میں اس عمل کے کچھ حصوں پر کام ضرور کیا، لیکن شاذونادر ہی تسلسل کے ساتھ ایسا کیا گیا۔ مشرف دور میں برآمدات کے فروغ کی کوششوں نے یہ ثابت کیا کہ منڈیوں، تجارتی سہولت کاری اور تجارتی سفارت کاری پر حکومت کی مسلسل توجہ سے کیا نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں، تاہم بعد کی حکومتیں اس کے گرد ایک پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکام رہیں۔
برآمدی پالیسی بھی اہداف اور مراعاتی پیکیجز کے ایک مجموعے تک محدود ہوگئی جن میں باقاعدگی سے تبدیلیاں کی جاتی رہیں لیکن انہیں نئی مصنوعات اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے کسی سنجیدہ طویل مدتی حکمتِ عملی سے شاذونادر ہی جوڑا گیا۔ نتیجتاً معیشت آج بھی محدود برآمدی بنیاد پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے اور بار بار اپنے توازنِ ادائیگی کے بحران سے دوچار ہوتی ہے۔
حکومت کی جانب سے مسلسل بیرونی مالی معاونت کی تلاش کے ساتھ یہ صورتحال خاصا تشویشناک تضاد ظاہر کرتی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران وسیع تر مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے تعاون کے ساتھ مجوزہ 10 ارب ڈالر کی امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کے حصول کی کوشش کی۔
ایسے انتظامات، خصوصاً جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ادوار میں وقتی طور پر قیمتی سہارا فراہم کرسکتے ہیں اور دستیاب مالی معاونت سے انکار کا کوئی فائدہ نہیں۔ تاہم بیرونی مالی سہارے کے لیے ہر نئی درخواست اس امر کی ضرورت کو مزید اجاگر کرنی چاہیے کہ ایسی معیشت تشکیل دی جائے جسے مستقبل میں ان سہولتوں کی کم ضرورت پڑے۔ مالیاتی لیکویڈیٹی وقت تو خرید سکتی ہے۔
برآمدی مسابقتی صلاحیت ہی طے کرتی ہے کہ ملک اس اضافی وقت سے کیا فائدہ اٹھاتا ہے۔
اس لیے جولائی کے اعدادوشمار کو محض ماہانہ اتار چڑھاؤ کے بجائے ابتدائی انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ معاشی سرگرمیوں میں بہتری آنے پر درآمدات میں قدرتی طور پر اضافہ ہوگا اور صرف تجارتی توازن بہتر بنانے کے لیے پیداواری درآمدات کو محدود کرنا خود اپنے مقصد کی نفی کرنے کے مترادف ہوگا۔
حل یہ ہے کہ برآمدات میں اتنی تیزی سے اضافہ کیا جائے کہ بڑھتی ہوئی معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بار بار زرمبادلہ کے ذخائر ختم نہ کرنے پڑیں۔ اس کے لیے عالمی طلب، پیداواری صلاحیت، برآمدی تنوع اور مسابقت کو بنیاد بنا کر ایک حقیقی برآمدی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں قابلِ پیمائش اہداف اور ادارہ جاتی سطح پر جوابدہی بھی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان اگلے بیرونی مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے درکار ڈالرز کا انتظام کرنے میں غیر معمولی مہارت حاصل کرچکا ہے۔ اب اسے یہی مہارت ڈالرز کمانے میں بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments