BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-1.31%)
KSE100 Decreased By (-0.7%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.64%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.81 Decreased By ▼ -4.64 (-2.41%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.40 Decreased By ▼ -0.39 (-0.74%)
FFL 14.50 Decreased By ▼ -0.22 (-1.49%)
GGL 19.19 Decreased By ▼ -0.37 (-1.89%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.30 Decreased By ▼ -2.12 (-1.05%)
HUMNL 9.91 Decreased By ▼ -0.25 (-2.46%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.42%)
MLCF 91.35 Decreased By ▼ -1.81 (-1.94%)
OGDC 313.97 Decreased By ▼ -2.76 (-0.87%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 221.24 Decreased By ▼ -5.67 (-2.5%)
PRL 91.30 Decreased By ▼ -1.72 (-1.85%)
SNGP 91.38 Decreased By ▼ -0.46 (-0.5%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 55.95 Decreased By ▼ -0.61 (-1.08%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

کولمبیا میں زلزلے سے 181 افراد ہلاک، ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری

  • جوانا مارین نے کہا، ’’پورے شہر کو اس حال میں دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے، یہ جانتے ہوئے کہ شاید اب بھی وہاں ملبے تلے لوگ زندہ ہوں۔‘‘
شائع اپ ڈیٹ

کولمبیا میں زلزلے سے کم از کم 181 افراد ہلاک ہونے کے بعد رضاکاروں نے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں رات بھر ہاتھوں سے ملبہ ہٹایا۔ زلزلے کے نتیجے میں 100 سے زائد گھر اور دفتری عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

زلزلہ پیر کو صبح 7 بج کر 34 منٹ پر کولمبیا کے کافی پیدا کرنے والے خطے اور بحرالکاہل کے ساحلی علاقے کے مختلف شہروں میں آیا، جس سے عمارتیں منہدم، بلند عمارتیں لرز اٹھیں اور چھتوں کی ٹائلیں زمین پر آگریں۔

پانچ لاکھ آبادی والے شہر پریرا میں زلزلے کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات دیکھنے میں آئے۔

رات بھر رہائشی ٹارچوں کی مدد سے بجلی سے محروم سڑکوں پر راستہ تلاش کرتے رہے۔

رضاکاروں نے دکانوں اور دفاتر پر مشتمل چھ منزلہ عمارت کے ملبے میں تلاش کی، جہاں دو لڑکیوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ تھا۔

25 سالہ جوانا مارین نے کہا، ’’پورے شہر کو اس حال میں دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے، یہ جانتے ہوئے کہ شاید اب بھی وہاں ملبے تلے لوگ زندہ ہوں۔‘‘ وہ بھی درجنوں رضاکاروں کے ساتھ ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف تھیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا اور کئی برسوں میں ملک کی ہلاکت خیز ترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔

متاثرہ بڑے شہروں کے میئرز نے مشترکہ بیان میں بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 181 افراد ہلاک اور 1,300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

کولمبیا کے صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا نے، جنہیں عہدہ سنبھالے ابھی چند ہی روز ہوئے ہیں، ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔

’’کسی نے سیٹی کا جواب دیا‘‘

کالی میں رضاکاروں نے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے فوری طور پر کدالوں، بنیادی اوزاروں اور اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا۔

امدادی کارکنوں نے اینٹیں اور تعمیراتی ملبہ ہٹانے کے لیے انسانی زنجیریں بنائیں اور ہر چند منٹ بعد رک کر نیچے پھنسے افراد کی زندگی کے آثار سننے کی کوشش کی۔

آندریس فیلپے میخیا بھی اس عارضی امدادی ٹیم میں شامل تھے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سب کو زندہ باہر نکالیں۔‘‘

انہوں نے منہدم عمارت کے قریب بتایا، ’’ایک امدادی کارکن نے ملبے تلے پھنسے افراد سے کہا کہ اگر کوئی زندہ ہے تو سیٹی بجائے، جس کے جواب میں کسی نے سیٹی بجائی۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’امدادی کارکنوں نے ایک شخص اور ایک بچے کو باہر نکال لیا، لیکن اس شخص کی اہلیہ اب بھی اندر پھنسی ہوئی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’بہت سے لوگ امداد، خوراک اور دیگر سامان لے کر پہنچے ہیں اور فائر فائٹرز اور متاثرہ افراد کی مدد کر رہے ہیں۔‘‘

مقامی حکام کے مطابق پیر کو کولمبیا کے پانچ شہروں کے اسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا، جبکہ کالی میں رات کے وقت کرفیو نافذ کردیا گیا۔

رضاکار امدادی کارکن نیلسن مورینو نے کہا، ’’ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دنیا ختم ہونے والی ہے؛ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں غلط سمت میں چل رہی تھیں اور ہر شخص اپنے پیاروں کو تلاش کر رہا تھا۔‘‘

’’صورتحال ناقابلِ بیان تھی‘‘

کولمبیا کی معروف پاپ گلوکارہ شکیرا نے اتحاد کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’’اپنے وطن کے لیے میری تمام طاقت اور محبت۔ آئیے ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔‘‘

سول ایوی ایشن ایجنسی کے مطابق کم از کم چھ مقامی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت معطل کردی گئی۔

ٹیٹو آرٹسٹ آندریس ہرنانڈیز نے بتایا کہ انہیں اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی فکر ہے اور وہ رات بھر جاگتے رہیں گے، کیونکہ ان کے اردگرد موجود عمارتیں ’’گرنے کے قریب‘‘ تھیں۔

کئی شہروں میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں فرنیچر اور کپڑے کنکریٹ کی دیواروں کے درمیان دبے ہوئے تھے، فرش ٹوٹ کر بے ترتیب زاویوں پر جا پڑے تھے اور بجلی کی تاریں سڑکوں پر بکھری ہوئی تھیں۔

منی زالس میں زلزلے سے شہر کے معروف نو گوتھک گرجا گھر کا ایک مینار بری طرح متاثر ہوا۔

کولمبیا کے محکمہ چوکو کے دارالحکومت کیبڈو میں مقامی عہدیدار جینی ریواس نے بتایا کہ عوامی خدمات اور مواصلاتی نظام ’’تقریباً مکمل طور پر بند‘‘ ہوگئے تھے۔

کیبڈو کے رہائشی اور قانون کے طالب علم ولمر کیستا نے کہا، ’’لوگ برہنہ حالت میں گھروں سے باہر نکل آئے، کچھ لوگ اپنے گھروں کی دوسری منزل سے چھلانگیں لگا کر باہر آئے۔‘‘

دندان ساز جولیان پینا نے بتایا کہ شدید جھٹکے محسوس ہونے کے بعد وہ ’’خالی ہاتھ گھر سے باہر بھاگے‘‘ اور دیکھا کہ سیکڑوں لوگ بھی اسی طرح باہر نکل آئے تھے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’’لوگ سڑکوں پر کھڑے ہوکر دعائیں کر رہے تھے۔ صورتحال ناقابلِ بیان تھی۔ بہت سی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، جبکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہوچکی ہیں۔‘‘

رات بھر تلاش اور امدادی کارروائیاں

زلزلے کے جھٹکے کولمبیا بھر میں محسوس کیے گئے، جن میں دارالحکومت بوگوٹا بھی شامل ہے، جہاں لوگ گھبرا کر پاجاموں میں ہی سڑکوں پر نکل آئے۔

110 کلومیٹر (68 میل) گہرائی میں آنے والے اس زلزلے کے جھٹکے پڑوسی ممالک ایکواڈور اور پاناما میں بھی محسوس کیے گئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر یہ زلزلہ نازکا ٹیکٹونک پلیٹ کے اندر موجود ایک گہری فالٹ لائن میں حرکت کے باعث آیا۔

یہ تباہی پڑوسی ملک وینزویلا میں طاقتور جڑواں زلزلوں کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں 6,300 سے زائد افراد ہلاک اور دسیوں ہزار بے گھر ہوگئے تھے۔

خطے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب سے کولمبیا کے ساتھ یکجہتی اور امداد کے پیغامات بھیجے گئے۔

ویٹیکن نے منگل کو بتایا کہ پوپ لیو چہاردہم اس سانحے سے ’’گہرے رنجیدہ‘‘ ہیں اور ’’متاثرہ افراد کی جلد صحت یابی کے لیے خدا سے دعاگو ہیں۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ امریکا صورتحال پر ’’قریبی نظر رکھے ہوئے‘‘ ہے اور ’’کولمبیا کے عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘‘

امریکا نے ہنگامی امداد کے لیے 15.5 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لیاین نے کہا کہ یورپی یونین نے امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے کوپرنیکس نامی سیٹلائٹ سروس کو فعال کردیا ہے۔

اسرائیل، میکسیکو، ایکواڈور اور فرانس نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔

Comments

200 حروف