BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.68%)
KSE100 Increased By (0.98%)
KSE30 Increased By (1.06%)
BAFL 59.16 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
BIPL 27.26 Increased By ▲ 0.20 (0.74%)
BOP 36.00 Increased By ▲ 1.25 (3.6%)
CNERGY 11.25 Increased By ▲ 0.19 (1.72%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
DGKC 220.19 Increased By ▲ 3.20 (1.47%)
FABL 100.55 Decreased By ▼ -1.79 (-1.75%)
FCCL 56.88 Increased By ▲ 0.46 (0.82%)
FFL 16.51 Increased By ▲ 0.10 (0.61%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.09 (0.38%)
HBL 325.60 Increased By ▲ 3.56 (1.11%)
HUBC 223.58 Increased By ▲ 2.06 (0.93%)
HUMNL 10.75 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.10 (1.37%)
LOTCHEM 27.20 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 103.09 Increased By ▲ 5.15 (5.26%)
OGDC 318.49 Increased By ▲ 2.19 (0.69%)
PAEL 44.38 Increased By ▲ 2.08 (4.92%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.12 (0.72%)
PIOC 275.86 Increased By ▲ 6.48 (2.41%)
PPL 222.48 Increased By ▲ 1.79 (0.81%)
PRL 63.81 Increased By ▲ 0.16 (0.25%)
SNGP 104.91 Decreased By ▼ -1.33 (-1.25%)
SSGC 27.25 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
TELE 8.81 Increased By ▲ 0.08 (0.92%)
TPLP 14.97 Increased By ▲ 0.19 (1.29%)
TRG 62.37 Increased By ▲ 0.96 (1.56%)
UNITY 11.90 Increased By ▲ 0.76 (6.82%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.02 (-1.61%)
رائے

جب محفوظ سرمایہ کاری کو بھی بچانے کی ضرورت آن پڑے

  • اگر دنیا کے محفوظ ترین اثاثے کو بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے تحفظ کی ضرورت پڑ جائے، تو آخر محفوظ پناہ گاہ فراہم کون کر رہا ہے؟
شائع اپ ڈیٹ

عشروں سے مالیاتی منڈیاں ایک ایسے مفروضے پر چلتی آ رہی ہیں جو اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ شاید ہی کسی سرمایہ کار نے اسے کبھی چیلنج کرنے کا سوچا ہو۔ جب بھی غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے، امریکی ٹریژری بانڈز خرید لیجیے، کیونکہ انہیں دنیا کی سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی محفوظ سرمایہ کاری خود غیر محفوظ دکھائی دینے لگے تو پھر کیا ہوگا؟

چند برس پہلے تک یہ سوال شاید مضحکہ خیز محسوس ہوتا۔

آج، شاید یہی سوال اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔

بظاہر اس صورتِ حال کی فوری وجہ کا امریکی سرکاری قرض سے کوئی خاص تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ جاپانی ین چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے، جاپانی سرکاری بانڈز کی منافع بخش شرحیں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ بینک آف جاپان اب بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ مالیاتی پالیسی کو معمول پر لا سکتا ہے، مگر اس عمل سے اپنے ہی بانڈ مارکیٹ کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ تاہم اصل غیر معمولی پیش رفت ٹوکیو میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں ہوئی۔

1998 کے بعد پہلی مرتبہ امریکا نے جاپان کے ساتھ مل کر ین کی خریداری کی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 2011 کے بعد یہ واشنگٹن کی پہلی زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت تھی۔ یہی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ امریکی پالیسی ساز محض کرنسی کی معمول کی اتار چڑھاؤ والی صورتِ حال سے کہیں زیادہ سنگین خطرہ محسوس کر رہے تھے۔

آخر وہ کس چیز کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے؟

سرکاری مؤقف یہ تھا کہ مقصد کرنسی کی غیر معمولی بے یقینی اور اتار چڑھاؤ پر قابو پانا تھا۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو، لیکن مالیاتی منڈیاں دہائیوں سے کرنسیوں کی شدید نوسان کا سامنا کرتی رہی ہیں، مگر اس کے باوجود واشنگٹن نے کبھی اس نوعیت کا غیر معمولی قدم نہیں اٹھایا۔ پھر اب ایسا کیوں کیا گیا؟

شاید اس لیے کہ معاملہ صرف جاپانی ین کا نہیں تھا۔

جاپان ایک کھرب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز کا مالک ہونے کے باعث امریکا کا سب سے بڑا غیر ملکی قرض دہندہ ہے۔ معمول کے حالات میں یہ تعلق دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند رہتا ہے، مگر مالیاتی منڈیاں ہمیشہ معمول کے مطابق نہیں چلتیں۔ اگر جاپانی بانڈز کی منافع بخش شرح مزید بڑھتی رہی اور ین مزید کمزور ہوا تو ٹوکیو پر اپنے مالیاتی نظام کو مستحکم رکھنے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اگر اس مقصد کے لیے جاپان کو ماضی کی طرح اپنے وسیع امریکی ٹریژری بانڈز کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کرنا پڑا تو امریکا میں قرض لینے کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔

برسوں تک سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ ایسا خطرہ کسی اور سمت سے جنم لے گا۔

عام تصور یہی تھا کہ امریکا کا سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی حریف چین کسی دن اپنے پاس موجود امریکی ٹریژری بانڈز کو معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ مگر گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین نے بتدریج اپنی سرمایہ کاری کم کر دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب فوری تشویش کا باعث امریکا کا سب سے قریبی ایشیائی اتحادی جاپان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

تاریخ اکثر مالیاتی منڈیوں کے دیرینہ مفروضوں کو نئے سرے سے لکھ دیتی ہے، کیا ایسا نہیں؟

اس وقت سرمایہ کار کئی غیر معمولی اور پریشان کن عوامل کا بیک وقت سامنا کر رہے ہیں۔ انتہائی طویل المدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں عالمی مالیاتی بحران سے پہلے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

طویل المدتی امریکی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے سرمایہ کار اب زیادہ معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے باعث ٹرم پریمیم میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان، دونوں کی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بتدریج کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

ادھر جاپانی سرکاری بانڈز، امریکی ٹریژری بانڈز اور جاپانی ین تینوں ایک ہی وقت میں دباؤ کا شکار ہیں، اور مالیاتی تاریخ میں ایسا امتزاج نہایت کم دیکھنے میں آیا ہے۔

تو کیا مالیاتی منڈیاں کسی ایسے طوفان کو آہستہ آہستہ بنتا دیکھ رہی ہیں جو ابھی پوری شدت سے سامنے نہیں آیا؟

شاید سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ پالیسی ساز ایک ایسے ممکنہ بحران کو ٹالنے کی فکر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جسے مالیاتی منڈیاں اب بھی انتہائی بعید از امکان سمجھ رہی ہیں۔

واشنگٹن کی مداخلت سے ممکن ہے جاپانی ین کو سہارا ملا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس اقدام سے جاپان پر مستقبل میں کرنسی کو سہارا دینے کے لیے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے کا دباؤ بھی کم ہو گیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بظاہر زرمبادلہ کی منڈی کے لیے کیے گئے اس اقدام کا اصل فائدہ خاموشی سے دنیا کی سب سے بڑی بانڈ مارکیٹ، یعنی امریکی ٹریژری مارکیٹ، کو پہنچا ہے۔

یہ امکان ایک نہایت اہم اور قدرے تشویشناک سوال کو جنم دیتا ہے۔

اگر امریکا کو اب اپنے سب سے بڑے قرض دہندہ کی کرنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے خود میدان میں آنا پڑ رہا ہے تو اس سے امریکی ٹریژری مارکیٹ کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی شدت کا اندازہ کیا ہوتا ہے؟

مالیاتی منڈیوں کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ ان خطرات کو عموماً نظرانداز کر دیتی ہیں جو پہلے کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے ہوں۔ امریکی سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں بے ہنگم ردوبدل کے خدشات پر کئی دہائیوں سے بحث ہوتی رہی ہے، لیکن زیادہ تر ایسے خدشات کا اظہار وہی لوگ کرتے رہے جنہیں وال اسٹریٹ میں مستقل مایوسی پھیلانے والے ”پرما بیئرز“ قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔

ماضی کی ہر پیش گوئی وقت سے پہلے ثابت ہوئی اور ہر غلط الارم نے اگلے انتباہ کو مزید آسانی سے نظرانداز کرنے کی راہ ہموار کر دی۔

تاہم تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔

بڑے مالیاتی بحران اکثر انہی خطرات سے جنم لیتے ہیں جو اس وقت تک محض نظریاتی تصور سمجھے جاتے ہیں، جب تک وہ اچانک حقیقت کا روپ نہ دھار لیں۔

ممکن ہے یہ تمام خدشات کبھی سنگین بحران میں تبدیل نہ ہوں۔ ممکن ہے بینک آف جاپان دوبارہ اپنی ساکھ بحال کر لے، جاپانی ین مستحکم ہو جائے اور امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں بتدریج کم ہونے لگیں۔ اس صورت میں حالیہ مشترکہ مداخلت کو بین الاقوامی پالیسی تعاون کی ایک غیر معمولی مگر کامیاب مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی زیادہ بنیادی خطرے کو نظرانداز کر رہی ہوں۔

ہر بڑے مالیاتی بحران نے سرمایہ کاروں کے کسی نہ کسی ایسے یقین کو غلط ثابت کیا ہے جسے وہ ناقابلِ تردید سمجھتے تھے۔

2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے پہلے یہ یقین تھا کہ امریکا بھر میں مکانات کی قیمتیں بیک وقت نہیں گر سکتیں۔ یورو زون کے بحران کے دوران یہ تصور ٹوٹا کہ مالیاتی اتحاد ہمیشہ برقرار رہے گا۔ اور حالیہ برسوں میں سرمایہ کاروں کو احساس ہوا کہ طویل عرصے تک غائب رہنے والی مہنگائی بھی دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔

تو کیا آئندہ کبھی امریکی ٹریژری مارکیٹ پر اعتماد بھی انہی مفروضوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے؟

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ بحث بظاہر بہت دور کی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اگرچہ پاکستان کے پاس امریکی ٹریژری بانڈز کے کھربوں ڈالر کے ذخائر موجود نہیں، لیکن اس کی معیشت عالمی مالیاتی نظام سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اگر امریکی سرکاری قرض کی قیمتوں میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے تو عالمی مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی سکڑ سکتی ہے، امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور ابھرتی ہوئی و سرحدی معیشتوں کے اثاثوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔

ایسی صورت میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے بیرونی مالی وسائل کا حصول مزید مہنگا ہو جاتا ہے، شرح مبادلہ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور پالیسی سازوں کو ایسے مالیاتی حالات سے نمٹنا پڑتا ہے جن کا تعین بڑی حد تک ملک سے باہر ہو رہا ہوتا ہے۔

اسی لیے واشنگٹن میں ہونے والی پیش رفت اسلام آباد کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ملک کے اندر رونما ہونے والی معاشی تبدیلیاں۔

ممکن ہے امریکا اور جاپان کی مشترکہ مداخلت کامیاب ثابت ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے صرف کچھ وقت ہی خریدا جا سکا ہو۔ لیکن دونوں صورتوں میں اس واقعے نے خاموشی سے ایک ایسا سوال جنم دے دیا ہے جس پر چند ہی سرمایہ کاروں نے کبھی غور کیا تھا۔

اگر دنیا کے محفوظ ترین اثاثے کو بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے تحفظ کی ضرورت پڑ جائے، تو آخر محفوظ پناہ گاہ فراہم کون کر رہا ہے؟

Comments

200 حروف