BR100 Increased By (1.12%)
BR30 Increased By (1.8%)
KSE100 Increased By (0.98%)
KSE30 Increased By (1.06%)
BAFL 59.24 Increased By ▲ 0.27 (0.46%)
BIPL 27.36 Increased By ▲ 0.30 (1.11%)
BOP 36.10 Increased By ▲ 1.35 (3.88%)
CNERGY 11.33 Increased By ▲ 0.27 (2.44%)
DFML 18.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 220.60 Increased By ▲ 3.61 (1.66%)
FABL 100.77 Decreased By ▼ -1.57 (-1.53%)
FCCL 56.88 Increased By ▲ 0.46 (0.82%)
FFL 16.53 Increased By ▲ 0.12 (0.73%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.17 (0.71%)
HBL 325.90 Increased By ▲ 3.86 (1.2%)
HUBC 223.77 Increased By ▲ 2.25 (1.02%)
HUMNL 10.78 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.10 (1.37%)
LOTCHEM 27.27 Increased By ▲ 0.15 (0.55%)
MLCF 103.25 Increased By ▲ 5.31 (5.42%)
OGDC 318.90 Increased By ▲ 2.60 (0.82%)
PAEL 44.58 Increased By ▲ 2.28 (5.39%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.12 (0.72%)
PIOC 275.01 Increased By ▲ 5.63 (2.09%)
PPL 222.61 Increased By ▲ 1.92 (0.87%)
PRL 63.79 Increased By ▲ 0.14 (0.22%)
SNGP 105.11 Decreased By ▼ -1.13 (-1.06%)
SSGC 27.25 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
TELE 8.83 Increased By ▲ 0.10 (1.15%)
TPLP 14.93 Increased By ▲ 0.15 (1.01%)
TRG 62.29 Increased By ▲ 0.88 (1.43%)
UNITY 11.85 Increased By ▲ 0.71 (6.37%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
اداریہ

بحالی کا سفر پرانی ڈگر پر

شائع اپ ڈیٹ

پلاننگ اور فنانس ڈویژنز کی ماہانہ ترقیاتی اور معاشی اپ ڈیٹس رپورٹس کے تازہ ترین ایڈیشنز گزرنے والے مالی سال 2505-26 کی کارکردگی کو ایک معقول حد تک مضبوط اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

معاشی نمو بہتر ہو کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (صنعت کاری) میں دوبارہ توسیع کا عمل شروع ہو گیا، مالیاتی خسارہ کم ہوا، زر مبادلہ ذخائر میں بہتری آئی اور اوسط مہنگائی ہدف کے اندر رہی۔ حالیہ برسوں کی طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ کے بعد یہ کامیابیاں معمولی نہیں ہیں۔

تاہم تفصیلات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت مالی سال 2026-27 میں بھی اسی عدم توازن کے ساتھ داخل ہورہی ہے جس نے ماضی میں تقریباً ہر معاشی بحالی کو ادھورا چھوڑ دیا۔ درآمدات میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے، برآمدات میں بہتری نہیں آئی جبکہ ایک بار پھر ترسیلاتِ زر بیرونی کھاتے کو سہارا دے رہی ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے دوران اشیا کی برآمدات میں 4.6 فیصد کمی ہوئی جبکہ اشیا کی درآمدات میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ وسیع تر بنیاد پر اشیا اور خدمات کی برآمدات تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 40.9 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 8.5 فیصد اضافے سے 76.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تجارتی خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالر بڑھ گیا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ 1.84 ارب ڈالر کے سرپلس سے تبدیل ہوکر 13.9 کروڑ ڈالر کے خسارے میں آگیا۔ خسارہ معمولی ہے لیکن اس کے پسِ پردہ رجحان تشویش ناک ہے۔

کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس نے بیرونی توازن کو کہیں زیادہ ابتر ہونے سے بچا لیا۔ یہ سہارا یقیناً خوش آئند ہے، خاص طور پر جب کہ زر مبادلہ ذخائر اب بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں لیکن جب بیرون ملک محنت کشوں کی برآمدات (بیرون ملک ملازمتیں)، اشیاء کی برآمدات اور پیداواری سرمایہ کاری کی کمزوری کا ازالہ کرتی رہیں تو معیشت کو ساختی طور پر بہتر قرار دینا مشکل ہے۔ اس سال کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی اور یہ 1.6 ارب ڈالر پر آ گئی۔ بیرون ملک مقابلے میں پاکستانی کارکن گھر پر موجود پیداواری معیشت کے مقابلے میں زرمبادلہ کا زیادہ قابلِ اعتماد ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

درآمدات میں اضافہ ضروری نہیں کہ کسی اور کھپت کی لہر (کنزمپشن بنج) کا ثبوت ہو۔ پیداوار بحال کرنے اور صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے مشینری، خام مال اور درمیانی درجے کے سامان (انٹرمیڈیٹ گڈز) کی ضرورت ہوتی ہے اور مینوفیکچرنگ کی بحالی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس اضافے کا کم از کم کچھ حصہ بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ مؤقف اس وقت زیادہ قابلِ یقین ہوتا جب برآمدات اور سرمایہ کاری بھی اسی جیسی بھرپور طاقت کے ساتھ ردعمل ظاہر کرتیں۔ اس کے برعکس درآمدات میں تیزی آئی ہے، اشیاء کی برآمدات سکڑی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کمزور ہوئی ہے۔

یہ طویل عرصے سے چلی آرہی ترقیاتی رکاوٹ (گروتھ کانسٹرینٹ) بالکل واضح ہے۔ مالی حالات بہتر ہوتے ہی طلب اور درآمدی ضروریات تیزی سے بحال ہوجاتی ہیں، جب کہ برآمدی صلاحیت، پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری کو ردعمل ظاہر کرنے میں کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔ تجارتی خلیج (گیپ) بڑھنے لگتی ہے، بیرونی اکاؤنٹ پر تدریجی طور پر دباؤ واپس آجاتا ہے اور پالیسی ساز بالآخر اس طلب کو دبانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جسے بحال کرنے میں انہوں نے پچھلے کئی سال صرف کیے ہوتے ہیں۔ مضبوط ذخائر اس سلسلے کے ناگزیر ہونے سے پہلے مزید وقت فراہم کرسکتے ہیں لیکن وہ اس کے بنیادی حساب کتاب کو نہیں بدل سکتے۔

خدمات کی برآمدات اس اصول کی واضح ترین مستثنیٰ شکل پیش کرتی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر کاروباری خدمات نے شاندار نمو درج کی جس میں آئی ٹی کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ کامیابیاں انتہائی اہم ہیں اور انہیں کسی اور روایتی کامیابی کی کہانی کے بجائے برآمدات کے ایک وسیع تر موقع کی شروعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ خدمات کا شعبہ اب بھی اتنا چھوٹا ہے کہ وہ اشیاء کی کمزور برآمدی بنیاد کی تلافی نہیں کر سکتا اور جب تک پالیسیاں وقت کے ساتھ بہتر نہیں کی جاتیں توانائی کی لاگت، ٹیکسیشن، لاجسٹکس، ہنر اور ضابطہ کاری کے غیر یقینی حالات جیسے روایتی مسائل بالآخر اس شعبے کو بھی محدود کر دیں گے۔

جولائی کے لیے پی بی ایس (پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس) کی قیمتوں کا جائزہ گھریلو محاذ پر بھی ایک متوازی وارننگ فراہم کرتا ہے۔ ہیڈلائن انفلیشن (مجموعی مہنگائی) جون کے 11.1 فیصد سے کم ہو کر 9.2 فیصد پر آگئی لیکن جون میں کمی کے بعد اس مہینے کے دوران صارفین کی قیمتوں میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ خوراک کی قیمتوں میں 4.16 فیصد اور خراب ہونے والی اشیاء (سبزیوں و پھلوں وغیرہ) کی قیمتوں میں 17.69 فیصد اضافہ ہوا جب کہ حساس قیمت کا اشاریہ ماہانہ بنیادوں پر 2.4 فیصد بڑھ گیا اور ایک سال پہلے کے مقابلے میں 12 فیصد بلند رہا۔ قومی سطح پر ہیڈلائن انفلیشن سال بہ سال کی بنیاد پر بہتر ہوئی ہے لیکن اشیائے ضروریہ کی ٹوکری کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔

صرف خوراک نے ماہانہ مہنگائی میں 1.45 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا جبکہ ٹرانسپورٹ اور رہائش سے متعلق اخراجات میں کمی نے مجموعی اضافے کو واپس کھینچ کر 1.2 فیصد پر لا کھڑا کیا۔ ایسی معیشت کے لیے جہاں گھریلو آمدنی کا ایک بڑا حصہ بنیادی استعمال پر خرچ ہوتا ہے، یہ ایک اہم فرق ہے۔ دیہی مہنگائی شہری مہنگائی سے زیادہ رہی جبکہ جولائی کے دوران دیہی علاقوں میں خوراک کی قیمتوں میں 3.86 فیصد اضافہ ہوا۔ سی پی آئی (صارفین کی قیمتوں کے اشاریہ) کی ہیڈلائن کا نرم ہونا خوش آئند ہے لیکن اس سے خوراک کی قیمتوں میں چار فیصد ماہانہ اضافہ ذرا بھی کم تکلیف دہ نہیں ہو جاتا۔

یہ محض سود کی شرح کا کوئی ایسا مسئلہ بھی نہیں ہے جسے واپس اسٹیٹ بینک کے حوالے کرکے حل کر لیا جائے۔ وزارتِ خزانہ کی اپنی رپورٹ میں خریف کے موسم کے دوران ڈی اے پی کھاد کے استعمال میں 37.3 فیصد کمی درج کی گئی ہے جس کی وجہ بلند قیمتیں، معمول سے کم بارشیں اور اہم فصلوں کو پانی کا شدید تناؤ بتائی گئی ہے۔ یہ دباؤ کمزور ذخیرہ اندوزی، غیر مؤثر لاجسٹکس، بکھری ہوئی مارکیٹوں اور ناقص زرعی پیداوری پر مزید بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ مانیٹری پالیسی خوراک کی مہنگائی کے ثانوی اثرات کو تو روک سکتی ہے لیکن یہ نہ تو خود کھاد پیدا کر سکتی ہے، نہ پانی بچا سکتی ہے، نہ فی ایکڑ پیداوار بڑھا سکتی ہے اور نہ ہی کھیت سے منڈی تک کے ضیاع کو کم کر سکتی ہے۔

پلاننگ ڈویژن کی ترقیاتی رپورٹ اس ضمن میں متعلقہ ہے، اگرچہ یہ بہت زیادہ اطمینان بخش بھی نہیں۔ مالی سال 2026-27 کے وفاقی پی ایس ڈی پی کا 97 فیصد سے زیادہ حصہ جاری منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور وسائل کا 60 فیصد سے زائد حصہ اب بھی بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کے لیے مخصوص ہے۔ نئے اور کم فنڈز والے منصوبوں کا انبار لگانے کے بجائے کام مکمل کرنے کو ترجیح دینے کا فیصلہ معقول ہے، پاکستان کا ترقیاتی پورٹ فولیو سیاسی بنیادوں پر شامل کیے جانے والے منصوبوں، سست عمل درآمد اور بار بار لاگت میں اضافے کا پہلے ہی بہت خمیازہ بھگت چکا ہے۔ اس کے باوجود زیادہ تر پہلے سے طے شدہ (پری کمٹڈ) پروگرام زراعت، برآمدات، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمائے میں واضح طور پر نظر آنے والی رسد کی رکاوٹوں کی طرف اخراجات کا رخ موڑنے کے لیے بہت محدود گنجائش چھوڑتا ہے۔

معاشی استحکام (فسکل کنسولیڈیشن) کا جائزہ بھی اسی طرح کی محتاط نظر کا متقاضی ہے۔ زیادہ آمدنی اور قرضوں پر مارک اپ کی کم ادائیگیوں کی بدولت جولائی تا مئی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.8 فیصد سے کم ہو کر 1.6 فیصد پر آ گیا۔ تاہم ترقیاتی اخراجات میں بھی 8.9 فیصد کمی واقع ہوئی۔ کم اخراجات کا مطلب خود بخود بہتر اخراجات نہیں ہوتا اور عوامی سرمایہ کاری کو دبا کر حاصل کیا جانے والا چھوٹا سا خسارہ شاید حال کو تو محفوظ بنا لے لیکن مستقبل کو بدلنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کرتا۔

حکومت نے مالی سال FY2026-27 کے لیے 4 فیصد کا جو نمو کا ہدف مقرر کیا ہے وہ فی کس کارکردگی کے کئی سالہ کمزور دور کے بعد نہ تو زیادہ ہے اور نہ ہی خاصا بڑا دعویٰ۔ اصل تشویش ہدف نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ ملکی طلب اور درآمدات پر مبنی سرگرمیوں سے چلنے والی ترقی جس میں برآمدات، سرمایہ کاری اور زرعی پیداواری صلاحیت میں اس کے مساوی اضافہ نہ ہو، صرف اگلے بیرونی بحران (رکاوٹ) کو قبل از وقت سامنے لے آئے گی۔

سرکاری ماہانہ رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سال کا آغاز بہتر بفرز (محفوظ حصار) اور ماضی کے مقابلے میں زیادہ پالیسی گنجائش کے ساتھ کررہا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان بفرز کے نیچے موجود ڈھانچہ بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوا۔ مالی سال 2026-27 کا امتحان یہ نہیں ہوگا کہ شرحِ نمو 4 فیصد کو چھوتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ آیا برآمدات درآمدات کے ساتھ قدم بڑھانا شروع کرتی ہیں، سرمایہ کاری طلب کے ساتھ چلتی ہے اور خوراک کی رسد گھریلو ضروریات کے مطابق ہوتی ہے۔ بصورت دیگر معیشت نے ایک اور بحالی پرانے اور جانے پہچانے اصولوں پر ہی حاصل کی ہوگی جس میں پرانا انجام صرف کچھ عرصے کے لیے مؤخر ہوا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف