جولائی، برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 10 فیصد اضافہ
- جولائی 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات 9 فیصد بڑھ کر 1.83 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ جولائی 2025 میں یہ حجم 1.68 ارب ڈالر تھا۔
پاکستان کی برآمدات نے مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ میں مضبوط آغاز کیا ہے، جہاں جولائی 2026 میں مجموعی برآمدات گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ 2.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ جولائی 2025 میں یہ حجم 2.69 ارب ڈالر تھا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) نے جاری کیے ہیں۔
پی ٹی ای اے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے اس کارکردگی کو ایک مثبت آغاز اور قابلِ تعمیر پیش رفت قرار دیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق برآمدات میں اضافے کا بنیادی محرک ٹیکسٹائل شعبہ رہا۔
جولائی 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات 9 فیصد بڑھ کر 1.83 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ جولائی 2025 میں یہ حجم 1.68 ارب ڈالر تھا۔
پی ٹی ای اے نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ ملک کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 62 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں مزید اضافے کے لیے نمایاں گنجائش موجود ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معیشت کے درآمدی پہلو کی بھی قریبی نگرانی کرے۔ پی ٹی ای اے کے مطابق جولائی 2026 میں زرعی مصنوعات کی درآمدات میں 2 فیصد سے زائد، سرمایہ جاتی اشیا کی درآمدات میں 43 فیصد سے زیادہ، صارفین کی اشیا میں 27 فیصد سے زائد جبکہ خام مال کی درآمدات میں 23 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
پی ٹی ای اے کے مطابق سرمایہ جاتی اشیا کی درآمدات میں 43 فیصد اضافہ مشینری اور آلات کی زیادہ آمد کی نشاندہی کرتا ہے، جو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں توسیع اور مستقبل میں پیداوار بڑھنے کی صلاحیت کا عکاس ہے۔
اسی طرح خام مال کی درآمدات میں 23 فیصد اضافہ بھی مثبت علامت ہے، بشرطیکہ یہ اشیا برآمدی صنعتوں میں استعمال ہو رہی ہوں۔
تاہم ایسوسی ایشن نے صارفین کی اشیا کی درآمدات میں 27 فیصد سے زائد اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیداواری درآمدات کے بجائے کھپت پر مبنی نمو کی نشاندہی کرتا ہے۔ پی ٹی ای اے نے خبردار کیا کہ ایسی درآمدات تجارتی خسارہ بڑھاتی ہیں اور مستقبل کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی کئی دہائیوں سے عارضی نوعیت کی رہی ہے، جہاں تیز رفتار ترقی کے بعد کمی کے ادوار بھی آتے رہے ہیں۔ اس کے مطابق بنیادی مسائل وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کے ہیں، جن کے حل کے لیے برآمدی نظام میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔
پی ٹی ای اے نے زور دیا کہ پیداواری لاگت، توانائی کی قیمتوں، ٹیکس ریفنڈز، صوبائی ٹیکس نظام، لاجسٹکس اور سرٹیفکیشن سمیت تمام مسائل حل کیے جائیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق برآمدی نظام کو عارضی اقدامات کے بجائے مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید کہا گیا کہ پالیسیوں میں تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ برآمد کنندگان سرمایہ کاری کے فیصلے سالوں کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ چند سہ ماہیوں کے لیے۔ بار بار پالیسی تبدیلیاں، تاخیر کا شکار عملدرآمد اور غیر یقینی صورتحال طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments