BR100 Increased By (0.15%)
BR30 Increased By (0.31%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.1%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.81 (1.4%)
BIPL 26.99 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 33.40 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.64 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
DFML 17.90 Increased By ▲ 0.15 (0.85%)
DGKC 208.02 Increased By ▲ 0.79 (0.38%)
FABL 100.19 Increased By ▲ 0.37 (0.37%)
FCCL 54.33 Increased By ▲ 0.27 (0.5%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.45 Decreased By ▼ -0.34 (-1.43%)
HBL 303.81 Increased By ▲ 2.51 (0.83%)
HUBC 218.30 Increased By ▲ 1.08 (0.5%)
HUMNL 10.61 Increased By ▲ 0.18 (1.73%)
KEL 7.19 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.03 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
MLCF 95.00 Decreased By ▼ -0.59 (-0.62%)
OGDC 315.26 Increased By ▲ 1.26 (0.4%)
PAEL 42.12 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.14 (0.82%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 2.15 (0.8%)
PPL 216.74 Increased By ▲ 1.59 (0.74%)
PRL 58.95 Increased By ▲ 2.32 (4.1%)
SNGP 101.10 Increased By ▲ 0.18 (0.18%)
SSGC 25.33 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
TELE 8.30 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
TPLP 12.99 Increased By ▲ 0.26 (2.04%)
TRG 61.26 Decreased By ▼ -0.54 (-0.87%)
UNITY 10.07 Increased By ▲ 0.04 (0.4%)
WTL 1.20 Increased By ▲ 0.01 (0.84%)
ٹیکنالوجی

فائبر نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع، حکومت کا رائٹ آف وے فیس ختم کرنے پر غور

  • حکومت کی اولین ترجیح دور دراز علاقوں میں رہنے والے فری لانسرز، ای کامرس کاروباری افراد اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے، احمد چیمہ
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کے تحت ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے فیس ختم کرنے پر غور شروع کر دیا

حکومت نے مجوزہ نیشنل کنیکٹیویٹی پلان (این سی پی) کے تحت ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ رائٹ آف وے فیس ختم کرنے پر بھی غور کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب میں تیزی لانا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور احمد چیمہ کی زیر صدارت نیشنل کنیکٹیویٹی پلان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بنیادی توجہ دیہی علاقوں، دور دراز مقامات اور چھوٹے شہروں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت بڑھانے پر مرکوز رہی تاکہ ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے اور نئی معاشی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

اجلاس کے دوران حکام نے تمام شہریوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات تک آسان رسائی اور انٹرنیٹ کو قابل برداشت بنانے پر زور دیا۔

شرکا نے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ صارفین کی ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے کے لیے مخصوص ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا۔

دیگر اہم اصلاحاتی اقدامات میں رائٹ آف وے فیس کا خاتمہ، سنگل ونڈو منظوری پورٹل کا قیام، ضلعی سطح پر لائسنسنگ کا اجرا، اور سرکاری اداروں، اسکولوں اور صحت مراکز میں فکسڈ براڈبینڈ کنیکٹیویٹی کو لازمی قرار دینا شامل ہیں۔

رائٹ آف وے فیس سے مراد وہ چارجز ہیں جو انفرااسٹرکچر نصب کرنے اور چلانے کے قانونی حق کے لیے ادا کیے جاتے ہیں۔ ٹیلی کام شعبے میں یہ فیس ان کمپنیوں سے وصول کی جاتی ہے جو مختلف اداروں کی ملکیتی زمین، ہاؤسنگ سوسائٹیز، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے اطراف آپٹیکل فائبر کیبلز اور دیگر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر بچھانا چاہتی ہیں۔

اجلاس میں احمد چیمہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح دور دراز علاقوں میں رہنے والے فری لانسرز، ای کامرس کاروباری افراد اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے، جو سست اور غیر معیاری انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں سستی اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی تاکہ شہری ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور حصہ لے سکیں۔

اجلاس میں حکام نے قومی اقتصادی ترقی کے لیے نئی نسل کے فائبر ٹو دی ہوم (ایف ٹی ٹی ایچ) نیٹ ورکس اور فائیو جی انفرااسٹرکچر کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ایف ٹی ٹی ایچ سبسکرپشنز میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 2.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اس پیش رفت کو 234,000 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک، 5.1 ملین ہاؤس پاسز اور فعال چھ سب میرین کیبلز سے مدد ملی ہے۔

احمد چیمہ نے نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کے تحت آئندہ اہداف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انفرااسٹرکچر کو بڑھا کر 10 ملین ہاؤس پاسز تک لے جانا، فکسڈ براڈبینڈ کی اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار 85 ایم بی پی ایس تک پہنچانا، براڈبینڈ کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ 50 ممالک میں شامل ہونا اور ٹاور فائبرائزیشن کو 60 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

Comments

200 حروف