BR100 Increased By (0.65%)
BR30 Increased By (1.04%)
KSE100 Increased By (0.86%)
KSE30 Increased By (0.65%)
BAFL 58.91 Increased By ▲ 1.22 (2.11%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.64 Increased By ▲ 0.25 (0.75%)
CNERGY 10.79 Increased By ▲ 0.18 (1.7%)
DFML 17.93 Increased By ▲ 0.18 (1.01%)
DGKC 211.10 Increased By ▲ 3.87 (1.87%)
FABL 99.99 Increased By ▲ 0.17 (0.17%)
FCCL 54.85 Increased By ▲ 0.79 (1.46%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.16 (1%)
GGL 23.80 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 304.50 Increased By ▲ 3.20 (1.06%)
HUBC 219.09 Increased By ▲ 1.87 (0.86%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.29 (2.78%)
KEL 7.20 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
LOTCHEM 27.23 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
MLCF 96.65 Increased By ▲ 1.06 (1.11%)
OGDC 316.47 Increased By ▲ 2.47 (0.79%)
PAEL 42.71 Increased By ▲ 0.59 (1.4%)
PIBTL 17.22 Increased By ▲ 0.21 (1.23%)
PIOC 274.00 Increased By ▲ 4.15 (1.54%)
PPL 217.28 Increased By ▲ 2.13 (0.99%)
PRL 59.34 Increased By ▲ 2.71 (4.79%)
SNGP 102.10 Increased By ▲ 1.18 (1.17%)
SSGC 25.45 Increased By ▲ 0.27 (1.07%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.07 (0.84%)
TPLP 12.87 Increased By ▲ 0.14 (1.1%)
TRG 62.00 Increased By ▲ 0.20 (0.32%)
UNITY 10.08 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
مارکٹس

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بہتری، خام تیل کی قیمتوں میں کمی

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر ایک ڈالر 3 سینٹ یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 88 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم دونوں بڑے عالمی بینچ مارکس جولائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری گزرگاہوں سے تیل کی ترسیل میں بہتری ہے، اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر ایک ڈالر 3 سینٹ یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 88 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل ڈیڑھ ڈالر یا 1.8 فیصد گر کر 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہانہ بنیاد پر دونوں بینچ مارکس میں تقریباً 20 فیصد اضافے کا امکان برقرار ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کار ڈینیئل ہائنس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تیل کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافے نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔

آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد حصہ ترسیل کیا جاتا ہے، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی تیل منڈی کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے ایک کثیرالملکی اتحاد کی قیادت کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق جبوتی، مصر، پاکستان، سوڈان اور ترکی سمیت 14 ممالک نے اس مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کی حمایت کی ہے۔

ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس سے بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے آئل ٹینکرز کی آمدورفت جاری ہے، لیکن بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث بحری مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا عنصر بدستور شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کمی کے باوجود خام تیل کی قیمتوں کا مجموعی رجحان اب بھی مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

Comments

200 حروف