تیل ایک فیصد سے زائد مہنگا، عالمی ترسیل کی صورتحال پر تاجروں کی نظریں، ماہانہ اضافے کا امکان
- برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.01 ڈالر، یا 1.13 فیصد اضافے کے بعد 90.04 ڈالر فی بیرل ہو گئی
عالمی منڈی میں جمعے کے روزتیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وہ ماہانہ بنیاد پر بھی نمایاں بڑھوتری کی جانب گامزن رہیں، کیونکہ بعض آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے واپس مڑنے پر مجبور کیے جانے کی اطلاعات کے بعد تاجروں نے اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل کی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا۔
گرین وچ معیاری وقت کے مطابق صبح 11:18 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.01 ڈالر یا 1.13 فیصد اضافے کے بعد 90.04 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.18 ڈالر یا 1.41 فیصد اضافے کے ساتھ 84.77 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
جولائی کے دوران برینٹ کی قیمت میں تقریباً 23 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 22 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹانووو نے کہا، ”ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بعض آئل ٹینکرز کو واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا، اس لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی کم آمدورفت نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔“
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا، جبکہ چار دیگر نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔
تاہم جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق خلیج سے تیل لے کر روانہ ہونے والے دو انتہائی بڑے خام تیل بردار ٹینکرز (وی ایل سی سی) جمعہ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے، اگرچہ اس آبی گزرگاہ میں مجموعی بحری آمدورفت بدستور محدود رہی۔
ادھر جمعرات کو باب المندب کی آبنائے سے 29 تجارتی جہاز گزرے۔
ایس ای بی ریسرچ کے مارکیٹ تجزیہ کار اولے ہوالبائے نے کہا، ”مارکیٹ نے اب جنگ کے بجائے جہاز رانی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔“
ایرانی لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایران اس آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کر چکا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے ایک اتحاد کی قیادت کا خواہاں ہے۔ یہ تمام علاقے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہیں سمجھے جاتے ہیں۔
جغرافیائی سیاسی خطرات برقرار
مصر کی بحیرہ روم میں واقع دمیاط بندرگاہ پر دو گیس بردار جہازوں پر ڈرون حملے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ نے آبنائے سویز کے ذریعے جہاز رانی کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی تیل کی برآمد کے آخری بڑے راستوں میں سے ایک ہے۔
اس جنگ کے باعث باب المندب اور آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہیں، دونوں میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
تنازع شروع ہونے سے قبل صرف آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی تھی، تاہم اس کے بعد سے اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور بعض اوقات یہ مکمل طور پر معطل بھی رہی۔
ذرائع کے مطابق ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) نے تقریباً 59 کروڑ ڈالر میں پانچ انتہائی بڑے خام تیل بردار ٹینکرز (وی ایل سی سی) خرید لیے ہیں تاکہ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث ٹینکرز کی قلت کے دوران اپنے بحری بیڑے کو وسعت دی جا سکے۔
ادھر یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعہ کی شب روس کی وولگوگراد آئل ریفائنری کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
بینک پرو کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بروکارڈو کے مطابق، ”قریب المدت میں برینٹ خام تیل کی قیمت 80 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان وسیع دائرے میں رہنے کا امکان ہے، کیونکہ مارکیٹ جغرافیائی سیاسی خطرات کے مطابق ردعمل ظاہر کرتی رہے گی۔“


Comments