امریکا اور ایران جنگ: حالات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات جاری، دفتر خارجہ
- پاکستان امریکا اور ایران کو دوبارہ اسلام آباد ایم او یو کی طرف لانے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں کر رہا ہے، ترجمان
پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور مخاصمت کے تناظر میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”پاکستان اس سلسلے میں متحرک ہے اور اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ حالات کو معمول پر لانے کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔“
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کو دوبارہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی طرف لانے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کو دوبارہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے تاکہ اسلام آباد ایم او یو اور 22 جون کے پاکستان۔قطر مشترکہ اعلامیے کی روح کے مطابق تمام اختلافی معاملات کا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اپنے عزم کی مکمل پاسداری کریں۔
ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کی جانب سے پاکستان کے جوہری تحفظ کے پروگرام پر تیار کی گئی دستاویزی فلم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے اسے متعصبانہ ذرائع پر مبنی گمراہ کن اور قیاس آرائیوں پر مشتمل تجزیہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دستاویزی فلم یا تو پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخ، ارتقا اور اس کے پس منظر سے گہری ناواقفیت کی عکاس ہے یا پھر ان حقائق کو دانستہ نظر انداز کرنے کی کوشش ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور جوہری تحفظ و سلامتی کے لیے قائم جامع تکنیکی، قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر مکمل اعتماد ہے، جو ملک کے وسیع تر جوہری پروگرام کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام انتظامات بین الاقوامی معیار کی اعلیٰ ترین سطح پر پورا اترتے ہیں اور آزاد بین الاقوامی ماہرین بھی مسلسل ان کی توثیق کرتے آئے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل اور دیگر پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی روکنے کا بھارتی حکومت کا فیصلہ معلومات کی آزادانہ ترسیل دبانے کی اس کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، بالخصوص میڈیا کی نمائندہ تنظیموں، کو بھارتی حکومت کی جانب سے میڈیا پر عائد ان پابندیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

Comments