BR100 Decreased By (-0.24%)
BR30 Decreased By (-0.66%)
KSE100 Decreased By (-0.32%)
KSE30 Decreased By (-0.32%)
BAFL 57.75 Increased By ▲ 0.59 (1.03%)
BIPL 26.90 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 33.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 10.59 Decreased By ▼ -0.17 (-1.58%)
DFML 17.80 Decreased By ▼ -0.21 (-1.17%)
DGKC 206.90 Decreased By ▼ -0.99 (-0.48%)
FABL 99.61 Decreased By ▼ -0.68 (-0.68%)
FCCL 54.10 Decreased By ▼ -0.58 (-1.06%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.80 Decreased By ▼ -0.68 (-2.78%)
HBL 301.48 Decreased By ▼ -1.77 (-0.58%)
HUBC 217.00 Decreased By ▼ -2.33 (-1.06%)
HUMNL 10.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.09 (-1.23%)
LOTCHEM 27.07 Decreased By ▼ -0.25 (-0.92%)
MLCF 95.20 Decreased By ▼ -0.47 (-0.49%)
OGDC 314.80 Decreased By ▼ -2.25 (-0.71%)
PAEL 42.10 Decreased By ▼ -0.24 (-0.57%)
PIBTL 16.99 Increased By ▲ 0.22 (1.31%)
PIOC 270.10 Decreased By ▼ -6.12 (-2.22%)
PPL 214.70 Decreased By ▼ -3.45 (-1.58%)
PRL 56.57 Decreased By ▼ -0.80 (-1.39%)
SNGP 100.94 Decreased By ▼ -0.14 (-0.14%)
SSGC 25.16 Decreased By ▼ -0.41 (-1.6%)
TELE 8.33 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
TRG 61.90 Increased By ▲ 0.90 (1.48%)
UNITY 10.06 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

ایف بی آر نے چار سال میں بجلی بلوں کے ذریعے 1.9 ٹریلین روپے اکٹھے کیے، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

  • یہ شعبہ جی ڈی پی میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو دی گئی سرکاری بریفنگ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ چار مالی سال کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے مجموعی طور پر 1.866 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں وصول کیے جن میں مالی سال 2025-26 کے 476.1 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کے ٹیکسوں کو معقول بنایا گیا تو بجلی پر مزید ٹیکس عائد کرنے پڑیں گے کیونکہ توانائی کا شعبہ سب سے زیادہ مراعات حاصل کرنے والا شعبہ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ کمیٹی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ جی ڈی پی میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔

ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایف بی آر نے بجلی کے بلوں کے ذریعے 620 ارب روپے اکٹھے کیے ہیں اور انہیں حقیقت کے منافی قرار دیا۔

دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 2022-23 میں کل 312.8 ارب روپے، مالی سال 2023-24 میں 515.5 ارب روپے، مالی سال 2024-25 میں 562 ارب روپے اور مالی سال 2025-26 میں 476.1 ارب روپے اکٹھے کیے جس سے چار سال کی مجموعی وصولی 1.866 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔

گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے سیلز ٹیکس کی مد میں 351.8 ارب روپے اور ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی مد میں 124.4 ارب روپے وصول کیے۔

سیلز ٹیکس کے حصے میں 269.1 ارب روپے عام سیلز ٹیکس، 54.98 ارب روپے اضافی ٹیکس، 16.54 ارب روپے مزید ٹیکس جبکہ ریٹیلرز کو فراہم کی جانے والی بجلی پر سیلز ٹیکس کی مد میں 11.14 ارب روپے شامل تھے۔

انکم ٹیکس کے حوالے سے ایف بی آر نے 2025-26 کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے انکم ٹیکس کی کل وصولی 124.36 ارب روپے تک پہنچانے کے لیے صنعتی صارفین سے 66.18 ارب روپے، تجارتی صارفین سے 51.99 ارب روپے، گھریلو نان اے ٹی ایل (ATL میں شامل نہ ہونے والے) صارفین سے 4.83 ارب روپے اور سیکشن 235A کے تحت 1.37 ارب روپے وصول کیے۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے بجلی کے بلوں کے ذریعے عوام سے 620 ارب روپے وصول کیے جو کہ زبردستی وصولی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر عائد متعدد ٹیکسوں نے فی یونٹ قیمت کو 85 روپے تک پہنچا دیا ہے جبکہ بجلی کے زیادہ بلوں کے بوجھ نے صارفین کی زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بلوں پر سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اور مزید کہا کہ بجلی ایک کموڈٹی ہے اور بجلی کی کھپت پر سیلز ٹیکس دنیا بھر میں ایک عام رواج ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید بیان کیا کہ ہر سال 400 سے 500 ارب روپے کا ودہولڈنگ انکم ٹیکس جو کہ قابلِ ایڈجسٹمنٹ ہوتا ہے کلیم نہیں کیا جاتا۔ تاہم ٹیکس دہندگان اپنے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کروا کر اس رقم کی ریفنڈ کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر

Comments

200 حروف