امریکی بمبار طیاروں نے ایران پر حملوں کے لیے اسرائیلی اڈے استعمال کیے، اسرائیل کا دعویٰ
- امریکی حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان 13 راتوں تک جاری رہنے والی جھڑپیں جمعے سے تھم گئی ہیں
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے دوران امریکی جنگی طیاروں نے اسرائیلی فضائی اڈوں کا استعمال کیا، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکا کے 13 راتوں تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد جمعے سے امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی فی الحال رکی ہوئی ہے۔
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے حالیہ مرحلے میں اسرائیل نے براہِ راست حصہ نہیں لیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دائیں بازو کے ٹی وی چینل چینل 14 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”حقیقت یہ ہے کہ اس وقت، اور یہ صورتحال ایک گھنٹے میں بھی بدل سکتی ہے، ایرانی خطے میں ہر جگہ حملے کر رہے ہیں، سوائے ایک ملک، یعنی اسرائیل کے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ایرانی جانتے ہیں کہ امریکی جنگی طیارے ایران پر حملوں کے لیے یہیں سے پرواز کرتے ہیں۔“
اسرائیل کاٹز نے کہا، ”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ کل کیا ہوگا، بلکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارا جواب کیا ہوگا۔ میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وزیراعظم بھی اس کا اعلان کر چکے ہیں، اور ہم نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو ہم پوری طاقت سے جوابی کارروائی کریں گے۔“
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن معاہدے کے امکانات پر امید کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک مسلسل تیسرے روز بھی ایک دوسرے کے خلاف کارروائی سے گریز کرتے رہے۔


Comments