وزیراعظم کی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترامیم کی منظوری، فوری نفاذ کا حکم
- تمام متعلقہ فریقوں سے قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے، شہباز شریف
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا کہ نئی پالیسی کے موثر اور بروقت نفاذ کو یقینی بنایا جائے، اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے یہ بات کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقوں سے قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے۔
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 وزارتِ توانائی نے ملک کے اسٹریٹجک آئل ریفائننگ شعبے کو درپیش اہم مسائل کے حل کے لیے تیار کی تھی جس کا مقصد موجودہ ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
دریں اثنا اجلاس کو آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن، توانائی شعبے میں جاری اصلاحات اور پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 پر عملدرآمد کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں براؤن فیلڈ ریفائنریوں سے متعلق کی گئی ترامیم کا مقصد یورو 5 معیار کے مطابق ماحول دوست پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار یقینی بنانا جب کہ فرنس آئل اور کم معیار کی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں کمی لانا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان کے توانائی تحفظ (انرجی سیکیورٹی) کے جامع نظام کا ایک اہم ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لئےاصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ شعبہ توانائی میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔
یورو4 اور یورو5 معیار کے ایندھن کی پیداوار پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل، فضائی آلودگی میں کمی اور عوام کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت توانائی شعبے میں پائیدار اصلاحات متعارف کرانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ براؤن فیلڈ ریفائنریوں سے متعلق ترمیم شدہ پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کو فروغ دینے کے لیے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں تاکہ پالیسی کو مؤثر انداز میں متعارف کرایا جاسکے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔
ریفائنری شعبے کے لیے مثبت پیش رفت
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ ہم اس پیش رفت کو پی آر ایل، این آر ایل اور اے ٹی آر ایل جیسی لسٹڈ ریفائنریوں کے لیے مثبت سمجھتے ہیں، کیونکہ اس سے عرصے سے التوا کا شکار اپ گریڈیشن پروجیکٹس کا مستقبل نمایاں طور پر روشن ہو گیا ہے۔ ان پروجیکٹس کا مقصد یورو کے معیار کے مطابق ایندھن کی پیداوار بڑھانا اور مصنوعات کی افادیت کو بہتر بنانا ہے۔
بروکریج ہاؤس نے نشاندہی کی کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت اہم پیٹرولیم مصنوعات کو زیرو ریٹڈ سے سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کے نظام میں منتقل کر دیا گیا تھا، جس کے باعث ریفائنریز کیپیٹل اخراجات پر ان پٹ سیلز ٹیکس کلیم کرنے سے محروم ہو گئی تھیں اور پروجیکٹس کی معاشی جدوجہد متاثر ہونے سے یہ پالیسی عملاً معطل ہو کر رہ گئی تھی۔نوٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ فنانس ایکٹ 2026 نے در آمدی پلانٹ اور مشینری کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دے کر اس مسئلے کو جزوی طور پر حل کر دیا تھا لیکن آج کی ترمیمی پالیسی نے وہ حتمی وضوحت فراہم کر دی ہے جو ریفائنریوں کو اپ گریڈیشن کے معاہدوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے درکار تھی۔


Comments